ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں جن سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات درپیش ہوں اور حکومت کو مطلوبہ ریونیو بھی حاصل نہ ہو:چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں جن سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات درپیش ہوں اور ...
ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں جن سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات درپیش ہوں اور حکومت کو مطلوبہ ریونیو بھی حاصل نہ ہو:چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ ٹیکسوں کا نفاذ منصفانہ ہونا چاہے، ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں جن سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات درپیش ہوں اور حکومت کو مطلوبہ ریونیو بھی حاصل نہ ہو۔ٹیکس کلچر کافروغ قومی ترقی کے لئے ناگزیر ہے، ٹیکس قوانین میں بہتری کے لئے ٹیکس بار ایسو سی ایشنز کے فورم سے ٹھوس تجاویز سامنے لائی جاسکتی ہیں۔

شہرقائد میں موٹرسائیکل سواردہشتگردوں کی پولیس پر فائرنگ ،ہیڈ کانسٹیبل شہید ،اہلکارزخمی

انہوں نے کہاکہ ٹیکس قوانین میں ترامیم کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔انہوں نے یہ بات مری میں لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس اور سمر کیمپ کے موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سیمینار میں ملک بھر کی ٹیکس بارایسوسی ایشنز کے عہدیداروں ،ممبران اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی کے بغیر انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاسکتا نہ ہی سماجی و اقتصادی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری اسی صورت لائی جاسکتی ہے جب قوانین جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہاکہ پنجاب میں مقدمات کی فوری سماعت کے لئے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔اب مقدمات کے فیصلے سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں اوردنوں میں ہو رہے ہیں۔اگر غریب کو انصاف نہ دے سکیں تو ہماری تمام جدو جہد رائیگاں ہے۔انہوں نے کہاکہ اے ڈی آر سسٹم کے تحت مقدمات فریقین کی باہمی افہام و تفہیم سے صرف چاہے کی ایک پیالی پر نمٹائے جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ انصاف کے بغیر امن ، ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹ اور ضلع و تحصیل کی سطح پر بار ایسو سی ایشنز کو ای لائبریری ، کمپیوٹرز ، پرنٹرز اور دیگر سہولیات فراہم کر دی ہیں جس سے قوانین اور مقدمات کے بارے میں معلومات با آسانی حاصل جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ میں ایسا نظام لا رہے ہیں جس میں مقدمات کے بارے میں ہر قسم کی معلومات موبائل فون کی سکرین پر دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ کیس مینجمنٹ سسٹم کے تحت مقدمات کی فوری سماعت یقینی بنا رہے ہیں اور اس نظام کے تحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں اور لوگوں کو انصاف مل رہا ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ اے ڈی آرسسٹم باہمی مفاہمت کے عمل سے عرصہ دراز سے عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کے فیصلے ایک نشست میں ہو رہے۔ یہ سسٹم کامیاب نتائج کا حامل ہے اور پنجاب کے تمام اضلاع میں آر ڈی آر قائم کر دیئے گئے ہیں اور ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں 21 سو مقدمات کا فیصلہ باہمی مفاہمت سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ نے جون تک 5 ہزارمقدمات نمٹائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس مقدمات میں ٹیکس وکائ متعلقہ شعبوں کے ماہرین کا بھی تعاون حاصل کریں تاکہ عدالت کی معاونت ہو اور فیصلے جلد ہو سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکسوں کے بارے میں قوانین بناتے وقت بھی جلد بازی نہ کی جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اور اگلے ہفتے سے تمام جوڈیشل افسران کے اثاثے ویب سائٹ پر ڈال دیئے جائیں گے۔ قبل ازیں صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن چوہدری قمر زمان نے کہا کہ سمر کیمپ کے دوران سالانہ کانفرنس کا مقصد ملک بھر کے ٹیکس وکلاءکو ایک پلیٹ فراہم کیا گیا جس میں ٹیکس پروفیشنلز ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے قوانین کی ضرورت ہے جس سے ٹیکس دہندگان کے مسائل حل ہوں اور انہیں ریلیف حاصل ہوسکے۔ تمام ایوانہائے صنعت و تجارت میں اے ڈی آر مراکز قائم کئے جائیں گے جن سے کاروباری معاملات عدالتی کاروائی تک جانے سے پہلے باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 72 ججر صاحبان کے لئے تربیت کورسز مکمل کئے جاچکے ہیں اور مزید 100 جج صاحبان کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ اے ڈی آر کے نظام کے تحت مقدمات کے جلد فیصلوں میں مددگار ثابت ہو سکیں۔صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عبدالباسط نے بھی خطاب کیا۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میاں ظفر اقبال نے اپنے تحقیقی مقالے میں مفاہمتی عمل سے مقدمات کے فیصلوں کے بارے میں اپنے تجربات اور کامیاب نتائج سے آگاہ کیا۔ 

مزید : لاہور


loading...