جسٹس قاسم خان سے وکلاءکی بدتمیزی ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا سخت نوٹس ،ملتان بنچ بند کردیا،وکلاءکے خلاف کارروائی کا عندیہ

جسٹس قاسم خان سے وکلاءکی بدتمیزی ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا سخت نوٹس ...
جسٹس قاسم خان سے وکلاءکی بدتمیزی ،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا سخت نوٹس ،ملتان بنچ بند کردیا،وکلاءکے خلاف کارروائی کا عندیہ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ہائی کورٹ ملتان بنچ میں سینئرجج مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کے ساتھ وکلاءکی بدتمیزی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان میں علاقائی بنچ کو بند کردیا ہے ۔آج 25جولائی سے وہاں کوئی کام نہیں ہوگا اور ملتان سے متعلقہ مقدمات بھی لاہور میں ہی دائر ہوں گے ۔لاہور ہائی کورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی انتظامی حکم کے ذریعے کسی علاقائی بنچ کو بند کیا گیا ہو اور اس کے تمام ججوں کو پرنسپل سیٹ پر واپس بلا لیا گیا ہو ۔لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور سینیئر جج صاحبان نے ہائی کورٹ ملتان بنچ میں ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی اور ان کے ساتھی وکلاءکی جانب سے بغیر کسی وجہ کے سینئر جج کے ساتھ بدتمیزی اور بلا جواز ہڑتال کے واقعہ کا سخت نوٹس لیاہے۔ سینئر فاضل جج کے ساتھ بدتمیزی اوران کی عدالت کے باہر جسٹس محمد قاسم خان کے نام کی لگی تختی کو اکھاڑنے، نیچے پھینکنے اور پاﺅں تلے روندنے جیسے واقعہ کی ہائی کورٹ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ملتان بنچ کے تمام جج صاحبان لاہور ہائی کورٹ پرنسپل سیٹ پر کام کریں گے اور ملتان بنچ پر کام نہیں ہوگا حتی کہ ملتان بنچ سے متعلقہ نئے مقدمات کی دائری بھی لاہور میں ہی ہوگی۔ مذکورہ واقعہ کی اطلاع پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمینوں کو بھی کر دی گئی ہے تاکہ وہ اس پر اپنا لائحہ عمل تیار کریں، امید کی جاتی ہے کہ وہ اندریں 24 گھنٹے واقعہ میں ملوث وکلاءکے خلاف ایکشن لیں گے۔ مزید برآں چیف جسٹس کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج صاحبان پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں مسٹر جسٹس محمد یاور علی اور مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی شامل ہیں، مذکورہ واقعہ کے سلسلے میں اگر ملتان بنچ کے سینئر وکلاءملنا چاہیں تو 24 گھنٹے کے اندر ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ شدہ طارق عزیز کیس کی روشنی میں واقعہ میں ملوث وکلاءکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : لاہور


loading...