طالبہ خدیجہ صدیقی کیس میں مدعی اور ملزم کی طرف سے دائر5مختلف درخواستیں خارج

طالبہ خدیجہ صدیقی کیس میں مدعی اور ملزم کی طرف سے دائر5مختلف درخواستیں خارج
طالبہ خدیجہ صدیقی کیس میں مدعی اور ملزم کی طرف سے دائر5مختلف درخواستیں خارج

  


لاہور(نامہ نگار)کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے والی طالبہ خدیجہ صدیقی کیس میں دائر کی گئی 5مختلف درخواستیں خارج کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔

شہرقائد میں موٹرسائیکل سواردہشتگردوں کی پولیس پر فائرنگ ،ہیڈ کانسٹیبل شہید ،اہلکارزخمی

جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان نے کیس کی سماعت کی، عدالت کے روبرو مقدمہ کی مدعیہ نے موقف اختیار کیا کہ تھا کہ ملزم کی جانب سے پیش کی گئی ان کے دوستانہ کی تصاویر کو کیس میں شامل نہ کیا جائے اور ملزم شاہ حسین بیرون ملک فرار ہونے کے کوشش کر رہا ہے ،ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا جائے جبکہ پراسکیوشن کے گواہ اصغر علی کو دوبارہ جرح کے لئے کیا جائے، ملزم شاہ حسین نے کیس میں سماعت کے دوران خدیجہ صدیقہ کی مبینہ طور پر4قابل اعتراض تصاویر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم اور مدعیہ کے ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی گہرے تعلقات تھے ،دوستانہ کے علایہ پیش کی گئی قابل اعتراض تصاویر کو بھی کیس کا حصہ بنایا جائے جبکہ مقدمہ میں شامل کی گئی اقدام قتل کی دفعہ کو ختم کیا جائے، عدالت نے پانچوں درخواستوں پر فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مدعی اور ملزم کی جانب سے پیش کی گئی 5درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر عبوری حکم جاری کر دیاہے۔

مزید : لاہور


loading...