خواجہ آصف وزیر اعظم بنے تو فوج قبول نہیں کریگی: جنرل پرویزمشرف

خواجہ آصف وزیر اعظم بنے تو فوج قبول نہیں کریگی: جنرل پرویزمشرف
خواجہ آصف وزیر اعظم بنے تو فوج قبول نہیں کریگی: جنرل پرویزمشرف

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق صدر جنر ل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ خواجہ آصف وزیر اعظم بنے تو فوج قبول نہیں کرے گی ،شہباز شریف سے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تم وزیر اعظم بن کر پاکستان کو آ گے کیوں نہیں لیجاتے لیکن کوئی جواب نہیں آیا تھا ، چودھر ی نثار نے مجھے آرمی چیف بنوایا ، میں نے کرپشن نہیں کی ایک پیسہ بھی ثابت ہوتو احتساب کے لئے پیش ہو جاؤنگا ، لال مسجد ، اکبر بگٹی اور آرٹیکل 6کے کیسز سیاسی ہیں ، افتخار احمد جعلی آدمی تھا اور اس کے اور بھی بہت سے کام تھے جوبتائے نہیں جا سکتے ، میں ملک سے آیا تو اکاؤنٹ تک نہیں تھا نہ ہی ایک ڈالر میرے اکاؤنٹ میں تھا ، ملک چلا رہا تھا نواز کو باہر نا جانے دیتے تو ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتا تھا ، دوبارہ اقتدار میں آیا تو لال مسجد ، بگٹی جسے کام دوبارہ کرونگا ، پانامہ کیس پر عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا کہ ملک کو کیسے چلانا ہے اورکن لوگوں نے چلانا ہے ، نواز شریف کی نا اہلی سے انصاف کا بو ل بالا ہو گا ، نواز شریف نے صرف 17فیصد ووٹ حاصل کئے اور دھندناتے پھر رہے ہیں ، میرا کسی بھی حاضر سروس فوجیوں سے تعلق یا ملاقات نہیں نہ ہی فون کر تا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی پر انگلی اٹھے ، عمران خان کافی غریب آدمی ہے اور اس کے قریبی دوست میرے بھی دوست ہیں ، اس کی باہر کو ئی پراپرٹی نہیں ہے ، ن لیگ کیا پیپلز پارٹی کو بھی پکڑا جائے ، فوج میں احتساب کا نظام زیادہ سخت ہے لیکن ان کا مقدمے سول کورٹ میں نہیں چلائے جاتے ، وزیر اعظم ملک کو چلاتا ہے احتساب بھی سب سے پہلے اسی کا ہونا چاہیے ، نثار نے میرے ساتھ کچھ نہیں کیا میرا طیارہ تو نواز او ر شہباز شریف نے ہوا میں رکھا تھا اس میں مارا جا سکتا تھا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سابق صدر جنر ل پرویزمشرف نے کہا کہ نواز شریف اینڈ فیملی ہر لحاظ سے پھنسے ہوئے ہیں ، جعلی دستاویزات اور جھوٹ عدالت میں بولا گیااب یہ تو قوم کی عدالت میں بھی یہ گناہگار ہیں ، نواز شریف کی نااہلی سے انصاف کا بو ل بالا ہو گا اور عوام بھی چاہتی ہے ۔انہیں صرف 17فیصد ووٹ ملے اور دھندناتے پھر رہے ہیں ۔میں نے کسی بھی فوجی جوان سے ملاقات یا رابطہ نہیں رکھا اور میں جان بوجھ کر کسی سے ملاقاتیں نہیں رکھتا تاکہ کسی طور پر کسی پر انگلی نہ اٹھے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹا گیا ہے اوراس میں ن لیگ ہی نہیں پیپلز پارٹی کے بھی ایم این ایز نے بھی اپنی پراپرٹیاں بنائی ہوئی ہیں نواز شریف نے اپنے تینوں ادوار میں جائیدادیں بنائی ہیں او ر اس میں پورا شریف خاندان شامل ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ لند ن جیسا ملک جس میں پچاس ہزار پاؤنڈ لیجائے جائیں تو بھی ان کی باقاعدہ پوچھ گچھ ہوتی ہے مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح ملین بلین روپے وہاں لیجا کر فلیٹس خریدے گئے ،

انہوں نے کہا کہ مجھے نواز شریف کے خلاف مواد نکالنے کی ضرور ت ہی پیش نہ آئی کیونکہ اس سے قبل بینظیر نے نوازشریف کے خلاف اور انہون نے بینظیر کے خلاف بہت کچھ نکال کر رکھا ہوا تھا اور اب بھی وہی نکل کر سامنے آگیا ہے ، بینظیر کے لئے رحمان ملک اس مواد کے لئے کام کرتا تھا اور ن لیگ کے لئے سیف الرحمان ہاتھ پاؤں مارتا تھا ۔ میں نے تو ان کے خلاف کیسز قائم نہیں کئے بلکہ انہیں ملک سے باہرجانے دیا کیونکہ مجھے ملک کو آگے لے جانے اور اکانومی سمیت ملک کے تمام شعبوں کو بہت بہتر بنانا تھا اگر میں ان مسائل میں الجھ جاتا تو آج کی طرح حقیقی مسائل سے نمٹنے کی بجائے کھیل کھیل میں لگ جاتا ۔ نواز شریف فیملی کے خلاف کیسزآ ج بھی پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں کچھ میں یہ بری بھی ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں ملک کو چلا رہا تھا جو کسی طور بھی آسان کام نہیں تھا ، لیڈر کو اپنا وقت اہم بنانا ہوتا ہے میں نواز شریف ، بینظیر اور زرداری کے کیسز بارے کو ئی بریفنگ نہیں لیتا تھا مجھے معلوم ہوتا تھا کہ کیسز میں کیا ہو رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم حکومت چلاتا ہے اور اسے اس کا جوابدہ ہونا چاہیے اور باقاعدہ طور پر اس کا احتساب ہو نا چاہیے ۔ آرمی میں بھی احتساب ہوتا ہے الگ بات ہے کہ ان کا ٹرائل سول کورٹس میں نہیں آتا لیکن کئی جنرلوں کو گھر میں بھیج دیا جاتاہے ۔ میرے خیال میں خواجہ آصف وزارت اعظمیٰ کے لئے موزوں امیدوار نہیں کیونکہ وہ فوج میں بہت پاپولر ہیں انہیں جنر ل راحیل شریف کے دور میں تقریب میں سائیڈ لائن لگا دیا گیا تھا اور اگر وہ وزیر اعظم بنیں گے تو فوج انہیں قبول نہیں کرے گی انہوں نے بتایا کہ خواجہ آصف نے جنر ل ایوب کی ملٹری پر بہت ہی زیادہ نا مناسب تقریر اسمبلی میں کی تھی جس پر مجھے بھی غصہ آیا تھا اور فوج میں اس شخص پر شدید تحفظات ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پر کرپشن چارجز لگائیں مجھ پر ایک پیسہ بھی نکالیں میں نے ملک کی سیکیورٹی ، اکانومی ، انڈسٹری سمیت سب شعبوں میں بہتریں کیا اور آ ج صر ف سیاسی کیس بنا کر پھنسایا گیا تھا لیکن میرا احتساب کیا جائے صرف اس بات پر کہ میں نے کرپشن کی ہو ۔میں جب ملک سے باہر آیا تو میرے اکاؤنٹ میں ایک ڈالر بھی نہیں تھا میں 3ہزار کیوبک فٹ کے فلیٹ میں ہوں یہ نہیں 49منزلہ اسحق ڈار کی مالکیتی عمارتوں میں نہیں رہ رہا انہواں نے کہا کہ ، مجھے فخر ہے کہ میں نے لال مسجد ، بگٹی والا کام کیا ہے دوبارہ موقع ملا تو دوبارہ کریں گے ، افتخار چودھر ی جعلی قسم کا آدمی تھا اس کے ساتھ یہ کرنا بہت ضروری تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بچوں نے کبھی فائدہ حاصل نہیں کیا تھا ، میرے بچے اکانومی کلاس میں جاتے تھے میں چاہتا تو سب کچھ ہو سکتا تھا میرے بچوں کی تربیت ایسی ہوئی ہوئی ہے کہ میں انہیں پروٹوکول دیتا بھی تو وہ کبھی بھی اسے قبول نہیں کرتے عام شہریوں کی طرح زندگی گزانے پر لوگ بہت خوش ہوتے تھے ۔

جنرل مشرف کاکہنا تھا کہ سیاستدان تو میری گڈ بکس میں آنا چاہتے تھے ان کو کسی قسم کے پریشر کی ضرورت نہیں ہو تی تھی سب جانتے ہیں اور میرا ڈرائیور تک جانتا ہے کہ اسحق ڈار کی کونسی کونسی بلڈنگیں ہیں وہ مجھے دکھاتا بھی ہوتا ہے ۔شہباز شریف اور نثار میرے دوست بھی تھے اور مجھے سے بہت سارے معاملات شیئر کنے آیا کرتے تھے ، پنجاب یونیورسٹی کو سدھارنے اور وی سی وغیرہ کے معاملات پر میرے ساتھ بات چیت ہوتی تھی ۔ 

مزید : قومی


loading...