انسان اور گدھے کا فرق

انسان اور گدھے کا فرق
انسان اور گدھے کا فرق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کل میں گھر سے صبح کی سیر عرف عام میں واک کرنے نکلا تو کچھ فاصلے پر دیکھا کہ کافی سارے گدھے اکٹھے ہو کر آپس میں کچھ کھسر پھسر کرنے میں مصروف تھے میں نے قریب ہو کر سننے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک گدھا میری طرف دیکھ کر بولا کہ آپ انسانوں کو آج تک گدھے اور انسان میں فرق ہی نظر نہیں آیا؟ آپ ازل سے انسانوں کو گدھا کہتے ہو، کبھی ہم سے بھی سنا کہ ہم کسی گدھے کو انسان کہہ کر اس کی توہین کرتے ہوں؟ حالانکہ ہم میں بھی کوئی کوئی گدھا انسانوں کی نقل کرتے ہوئے اپنے بھائی پر تشدد کرنے کا مرتکب ہوتا ہے یا کبھی کبھار کوئی گدھا بگڑ جاتا ہے مگر ہم پھر بھی اس کو اپنا بھائی بند سمجھتے ہیں اور اسے سمجھا کر سیدھی راہ پر لے آتے ہیں۔

ہم اپنے مالک کا حکم مانتے ہیں۔ پھر انسان کیوں انسانوں کو گدھا کہہ کر ہماری بے عزتی کرتے ہیں؟ میں نے کہا اوئے گدھے تم واقعی گدھے ہو، تم بات کو سمجھتے نہیں پہلی بات یہ کہ تم یہ ہی نہیں جانتے کہ انسان کو گدھا کہنا تمہاری نہیں انسان کی توہین ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہم کسی انسان کو گدھا نہیں کہتے۔ ہم تو اشرف المخلوقات ہیں۔ ہم انسانوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی تمام مخلوقات کا خیال رکھتے ہیں، ان کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

میری یہ بات سنتے ہی تمام گدھوں نے آں آں آں کی آوازیں نکالیں اور عجیب سے منہ بنا کر میری طرف دیکھنے لگے جیسے میرا مذاق اڑا رہے ہوں اور مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہوں۔ مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے نیچے جھک کر پتھر اٹھانے کی کوشش کی تو وہ لیڈر نما گدھا آگے بڑھا اور بولا ٹھہرو بھئی، میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو کہنے لگا۔

بس یہ ہیں اشرف المخلوقات؟ کہ چھوٹی سی بات پر جو بات ہوئی بھی نہیں تشدد پر اتر آئے ہو؟ ایک ہم ہیں کہ سارا دن انسانوں کی مرضی کے مطابق محنت کرتے ہیں انسان جب چاہے ہمارے اوپر وزن لاد دے اور قصور یا بے قصور ہم پر ڈنڈے برسائے اپنی بیوی سے لیکر زمانے بھر کی بے عزتی کا بدلہ ہم سے لے، بھٹہ خشت پر کام کرنے والے اپنے مالک کے ظلم کا بدلہ ہم سے لیں۔ مزارعے اپنے جاگیرداروں کے ظلم کا غصہ ہم پر نکالیں۔ ہم پھر بھی صبر کرتے ہیں اور انسان کا ہر حکم بجا لاتے ہیں۔

میں نے کہا اگر آپ اتنے ہی صبر والے ہو تو پھر میری پوری بات سنے بغیر ہی کیوں آں آں آں کرنا شروع ہو گئے تھے۔ وہ بولا ہم گدھے ضرور ہیں لیکن خود جھوٹ بولتے ہیں نہ سننا چاہتے ہیں۔

اب دیکھیں ناں کہ آپ ہماری توہین کو توہین ہی نہیں سمجھتے اوپر سے یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے کہ کبھی کسی انسان نے دوسرے انسان کو گدھا نہیں کہا۔ آپ تو اٹھتے بیٹھتے ہر کسی کو گدھا بولتے ہیں۔ اب تو حد ہو گئی ہے کہ آپ کے ایک بڑے اور مقبول لیڈر نے بھی ہزاروں انسانوں کو گدھا کہہ دیا ہے۔

جس پر آپ انسانوں میں بھی بحث جاری ہے اور آپ حسب معمول اپنے تمام مسائل کو پس پشت ڈال کر اسی پر بحث مباحثہ کر رہے ہو۔ آپ کے تمام الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی یہی موضوع زیر بحث ہے اور یہی موضوع میڈیا کی ریٹنگ بھی بڑھا رہا ہے۔ میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا اوئے گدھے ہم انسانوں کو گدھا کہتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ ہم تو بس تشبیہ دیتے ہیں کہ فلاں انسان کے کام گدھوں جیسے ہیں، مطلب یہ کہ وہ بیوقوف ہے۔ یا کوئی غلط کام کرتا ہے۔

ہم انسانوں کو صرف گدھوں ہی کے ساتھ تشبیہ نہیں دیتے ہم تو کتوں اور کئی دوسرے جانوروں کے ساتھ بھی تشبیہ دیتے ہیں یہاں تک کہ ہم شیطان کے ساتھ بھی تشبیہ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم کسی انسان کو خدا نخواستہ کوئی جانور سمجھتے ہیں۔ ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ انسان گدھے کی طرح کم عقل ہے یا یہ انسان کتے کی مانند بہت برا ہے۔

میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں نا اب کئی مائیں اپنے بیٹوں کو گدھا کہہ کر پکارتی ہیں حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ یہ ہماری اپنی اولاد ہے۔

میری تمام گفتگو سننے کے بعد وہ گدھا اطمینان سے بولا کہ آپ اورمجھ میں پہلا فرق یہ ہے کہ آپ نے میری بات کو کاٹ کر اپنی تقریر شروع کر دی تھی اور میں نے آپکی ساری بات اطمینان سے سنی ہے۔ اب میری بات بھی سن لو۔ میں پھر بول پڑا۔ میں نے کہا کہ ہمارے اسی لیڈر نے آج سے سات سال پہلے انہی لوگوں کو پٹواری کا لقب بھی دیا تھا۔

جو ہنوز اسی شدومد سے بولا جا رہا ہے لیکن پٹواریوں نے اس پر احتجاج کیا، کوئی جلوس نکالا نہ دھرنا دیا ،کیونکہ پٹواری جانتے ہیں کہ ہم پٹواری ہیں ہمیں لقب دینے کا کوئی اور مطلب ہے۔ 

گدھے نے پھر میری بات غور سے سننے کے بعد جواب دیا کہ ہم نے کونسا غلط کام کیا ہے جس پر انسانوں کو ہمارے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟ 

کیا ہم نے کبھی کوئی چوری کی ہے، کیا ہم سارا دن جھوٹ بولتے ہیں، ہم انتخابات میں دھاندلی کرتے ہیں یا ہم الیکشن جیت کر اپنے ملک کو لوٹتے ہیں۔؟ 

کیا ہم نے کبھی کسی چیز میں ملاوٹ کی ہے، کیا ہم نے کبھی کسی کو گالی دی ہے، کبھی کسی کا ریپ کیا ہے، کبھی کسی کو قتل کیا ہے، کبھی کسی دوسرے کے کام میں مداخلت کی ہے، کبھی اپنا کام چھوڑ کر دوسروں پر چھاپے مارے ہیں، کبھی کرپشن کی ہے پھر ہمیں کیوں انسانوں کے برابر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔

ہم تو ایک جفاکش اور ذمہ دار مخلوق ہیں۔ زیادہ تر اللہ کی زمین پر چل پھر کر اپنا پیٹ پالتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے موسم اور اپنے مالک کی سختیاں جھیل کر اپنے مالک اور اس کے بچوں کا بھی پیٹ پالتے ہیں۔

اور ایک مالک کے آگے ہم بیس گدھے ایک قطار میں چلتے جاتے ہیں ٹریفک کی بدنظمی کا ارتکاب نہیں کرتے۔ کیا آپ انسان بھی ایسے ہی ہو؟ 

سنو، اے انسان سنو، تم تو اپنی ماں کا بھی احترام نہیں کرتے، یہ زمین یہ دھرتی تمہاری اور ہم سب کی ماں ہے جو آپکی تمام ضروریات کا خیال رکھتی ہے لیکن آپ انسان اسی ماں کے اوپر بے شمار غلطیاں اور ان گنت ظلم کرتے ہو۔ پھر بھی یہ ماں تمہیں گدھے نہیں کہتی۔ جیسے تمہاری انسان مائیں کہتی ہیں۔ حالانکہ تم انسانوں کے تمام راہنماوں، سیاستدانوں اور تمام شعبوں کے سربراہان کے کام اور کرتوت کو دیکھتے ہوئے اس دھرتی ماں کو سب کو گدھا کہنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم