بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد 

بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد 
بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد 

  

بلوچستان میں اصولی سیاست دم توڑ چکی ہے قوم پرستوں اور مذہبی پارٹیوں میں سابقہ سیاسی کشمکش ختم ہوگئی ہے اب کفر کے فتوے بھی نظر نہیں آرہے ہیں، ایم ایم اے بن گئی ہے لیکن جمعیت علماء اسلام، ایم ایم اے کو نظر انداز کرکے جہاں اسے فائدہ نظر آتا ہے ان نشستوں پر معاہدے کرتی ہے، جمعیت علماء اسلام اپنی مرضی سے دوسری پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ کررہی ہے، 21جولائی کو پریس کلب میں بی این پی کے جہانزیب جمالدینی اور حافظ حسین احمد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور قومی و صوبائی نشستوں پر معاہدہ کرلیا۔

اس معاہدے کے تحت NA-272 پر جمعیت علماء اسلام کے امیدوار اللہ بخش، سردار اختر مینگل کے حق میں دستبردار ہوگئے جبکہ بی پی 25 پر بی این پی کا امیدوار جمعیت کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگیا پریس کانفرنس میں جہانزیب جمالدینی اور جمعیت کے صوبائی سیکرٹری جنرل ملک سکندر شریک تھے۔

بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانزیب جماالدینی نے کہا کہ ہم نے طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ لورالائی کی نشست پر بی این پی کے امیدوار NA-258 پر جمعیت علماء اسلام کے امیدوار مولانا امیر زمان کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اسی طرح کوئٹہ کی نشست پر بی این پی کے نامزد امیدوار نعمان خان جمعیت علماء اسلام کے امیدوار ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اب قومی اور صوبائی نشستوں پر جمعیت علماء اسلام اور بی این پی کے مشترکہ امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔

اس انتخابی اتحاد سے قبل بی این پی اور اے این پی میں اتحاد ہوا اس اتحاد کی وجہ سے دونوں پارٹیاں مشترکہ امید واروں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیں گی۔ NA-264 پر بی این پی کے امیدوار ملک عبدالولی کاکڑ مشترکہ امیدوار ہوں گے اور بی این پی کے امیدوار ملک نعیم بازئی صوبائی نشست PB.24 پر مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

اس طرح J.W.P اور A.N.P نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر اتحاد کیا ہے NA-263 پر نوابزادہ عمر فاروق کاسی جبکہ NA-256 پر J.W.P پارٹی کے امیدوار شازین بگٹی کی حمایت کریں گے اس کا اعلان دونوں پارٹیوں نے پریس کلب میں کیا اس طرح ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے A.N.P سے معاہدہ کیا اس معاہدے کے تحت ANPنے NA-256 پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی ہے اور ANP نے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حمایت کی ہے ایک اور اتحاد مسلم لیگ (ن) کی راحیلہ درانی کی نشست پر ہوا ہے راحیلہ درانی NA-265 پر انتخاب لڑ رہی ہیں ہزارہ قومی جرگہ نے کوئٹہ سٹی پر نامزد امیدوار راحیلہ درانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے خضدار کی نشست PB39 خضدار نال پر آغا شکیل درانی کی حمایت اہلسنت والجماعت نے کی ہے یہ اتحاد بی اے پی (باپ) اور جماعت اہلسنت والجماعت کے درمیان ہوا ہے، اس طرح خضدار میں شفیق مینگل کے عوامی پینل اور نیشنل پارٹی میں اتحاد ہوا ہے، 269 پر نیشنل پارٹی عوامی پینل کے امیدوار شفیق مینگل کی حمایت کرے گی۔ PB39 پر محمد اسلم بزنجو کی جماعت عوامی پینل کرے گا PB40 پر نیشنل پارٹی کے امیدوار سردار زادہ میر شاہ میر بزنجو کی حمایت کریں گے۔ 

ایک اور اتحاد پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے درمیان ہوا ہے پی پی 28 پر جمہوری وطن پارٹی کے نامزد امیدوار شاہ ولی خان خلجی پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار جناب فاروق خلجی کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں مری قبیلہ کے نواب چنگیز مری نے NA 259 پر بلوچستان عوامی پارٹی کے نامزد امیدوار میر دوستین خان ڈومکی اورپی پی 27 سبی پر بی اے پی کے نامزد امیدوار سردار سرفراز ڈومکی کی حمایت کا اعلان کیا ہے خضدار میں ایک اتحاد مسلم لیگ (ن) اور بی اے پی کے درمیان طے ہوا ہے پی پی 38 پر معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت بی اے پی کے نامزد امیدوار جناب میر گل خان ساسولی جناب نواب ثناء اللہ کے حق میں دستبردار ہوں گے اور اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار عبدالرحمن زہری دستبردار ہوں گے خضدار میں جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے قومی میں جمعیت سردار اختر مینگل کی حمایت کرے گی اور صوبائی نشستوں پر بی این پی جمعیت کی حمایت کرے گی سردار اختر مینگل خضدار سے صوبائی نشست پر ہی امیدوار ہیں بی این پی نے لسبیلہ میں پیپلزپارٹی سے معاہدہ کیا ہے سردار اختر مینگل قومی سے انتخاب لڑیں گے اور صوبائی نشست پر بی این پی پیپلزپارٹی کی حمایت کرے گی۔ مختلف سیاسی مذہبی پارٹیوں کو نشستوں کی خاطر اکٹھا کر دیا گیا ہے نظریات، مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ اب بلوچستان میں قوم پرست قوم پرست نہیں رہے اور نہ مذہبی پارٹیاں اپنے موقف پر قائم رہی ہیں کل تک مذہبی پارٹیاں قوم پرستوں کے خلاف کفر کے فتوے دیا کرتی تھیں آج اقتدار کی خاطر اسے گلے لگا لیا ہے۔ اب سیکولر اور اسلام باہم گلے مل رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -