انتخابات اور انجام گلستان ؟ 

انتخابات اور انجام گلستان ؟ 
انتخابات اور انجام گلستان ؟ 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک کے گیارہویں قومی عام انتخابات کے لئے پولنگ کل (بدھ کے روز) ہونا ہے۔ تمام ذرائع ابلاغ، سرکاری اور غیر سرکاری تجزیہ نگار، سیاسی مبصرین اور سیاسی جماعتیں اور امیدوار ان اپنے اپنے اندازے لگا رہے ہیں اور تبصرے کئے جارہے ہیں کہ نتائج کیا ہوں گے۔ جو بھی امیدوار میدان میں ہیں، سب ہی امید سے ہیں۔

سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنے اندازے پیش کررہی ہیں۔ بہت سارے تجزیہ نگاروں کی رائے درست ہو سکتی ہے لیکن حقیقت تو گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ محدود اور پابندی زدہ ایسی انتخابی مہم جس کے دوران ووٹروں کو یہ بھی علم نہیں کہ ان کے حلقہ انتخاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے کتنے امیدوار ہیں، ان کے انتخابی نشان کیا ہیں، کی صورت میں کیا تجزیہ پیش کیا جاسکتا ہے۔

شہر ہوں یا دیہات، ووٹر کو تین یا چار سے زیادہ نشان یاد ہی نہ ہوں اور ان نشانات رکھنے والے امیدواروں کے علاوہ امیدوار بھی ووٹروں کو اپنے نشان سے آگاہ نہ کر سکے ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نتائج کیا ہوں گے۔ انتخابات کی صورت میں کیا تبدیلی آرہی ہوگی۔ 

پاکستان میں انتخابات دولت مند لوگوں اور بار بار آزمائے ہوئے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کا گورکھ دھندا ہے۔ کسی بھی ٹی وی چینل کو دیکھ لیں، کن سیاسی جماعتوں کے اشتہارات کی بھر مار تھی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ شائد کوئی اور انتخابات میں حصہ ہی نہیں لے رہا ہے۔ کیا ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والے اشتہارات الیکشن کمیشن کی عائد کردہ پابندیوں کے تقاضے پورے کرتے تھے ؟ ملک میں حقیقی معنوں میں جن انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن نے اس پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ، اسے تیار ہی نہیں کیا اور نہ ہی اپنی تجاویز کی تشہیر کی۔

گھسی پٹی اصلاحات کو سابق قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پیش کر کے جلد بازی میں منظور کرالیا۔ اور قومی اسمبلی کے اراکین نے بھی انکھیں بند کر کے منظوری دے دی۔ ایسے انتخابات سے کیا فائدہ جن کے نتیجے میں بار بار آزمائے ہوئے لوگ ہی منتخب ہو جائیں اور قوم کے سر پر پانچ سال سوار رہیں۔ 

پاکستان کی معاشی صورت حال میں تو ان انتخابات کی صورت میں منتخب ہونے والی قومی اور صوبائی اسمبلیاں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرتی نظر نہیں آتیں ، جس گرتی ہوئی معیشت کو انقلابی اصلاحات اور کڑوے فیصلوں کی ضرورت ہے ، وہ توقعات آنے والی اسمبلیاں ہر گز پوری نہیں کر سکیں گی۔ مشکل حالات میں مشکل فیصلے کرنا بہت مشکل ہوتے ہیں۔ ان کے لئے دور رس نگاہیں رکھنے والے لوگ ہی ضروری ہوتے ہیں۔

حکومت کے ایوانوں میں پہنچ کر حکومت کے خرچوں پر پلنے والے لوگ قوموں کو بحرانوں سے نکالنے کے فیصلے نہیں کیا کرتے ہیں۔ اگر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ قوموں کو بحرانوں سے نکلانے کے مشکل فیصلے بروقت کر لیتے تو انقلاب فرانس اور انقلاب روس نہیں ہوتا۔ ایرانی انقلاب نہیں آتا۔

مصر، لیبیا، عراق، یوگوسلاویہ، وغیرہ وغیرہ میں تبدیلیاں نہیں آتیں۔ سوویت یونین ڈھیر نہیں ہوجاتا۔ افغانستان جس صورت حال سے گزر رہا ہے اس سے نہیں گزرتا۔ لاکھوں لوگ در بدر نہیں ہوتے۔ مارے نہیں جاتے۔ خود پاکستان جن مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اس میں ہر گز ہر گز نہیں گھرتا۔ 

پاکستان کی تاریخ میں 2018 کے انتخابات اپنے اندر بہت سارے معنی لئے ہوئے ہے۔ ملک کو خانہ جنگی سے محفوظ رکھنا ہے۔ ملک کی تہس نہس معیشت کو دوبارہ مضبوط پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ ملک میں تمام اداروں کے درمیان مستقل مزاجی کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ایک طرح سے ملک کو دوبارہ نئے سرے سے استوار کرنا ہے۔

کیا انتخابات کی صورت میں وجود میں آنے والی اسمبلیوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ پاکستان میں یہ سب کچھ کرسکیں گی؟ تلخ بات ہے لیکن کرنے میں حرج بھی نہیں ہے کہ بونے ایسے کام نہیں کیا کرتے ہیں، کھلے ذہن، وسعت قلب اور صاف دامن اور مستقبل میں جھانکے کی صلاحیت رکھنے والی مخلص قد آور شخصیات ہی ملکوں کو بحرانوں سے نکالا کرتی ہیں۔ 

انتخابات میں کون سی سیاسی جماعت کامیاب ہوتی ہے، اکثریت کس کو ملتی ہے۔ دعوی تو سب ہی کر رہے ہیں، صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی دعوی کررہی ہے کہ آئندہ وزیر اعلیٰ اس کا ہوگا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد جی ڈی اے کا بھی ایسا ہی دعوی ہے۔

پاک سر زمین پارٹی کا بھی یہ ہی دعوی ہے ؟ ایم کیو ایم کا اصرار ہے کہ وہ اپنی ماضی کی پوزیشن بحال رکھے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سارے لوگ اپنی ضمانتیں بچا لیں تو ان کا سیاسی بھرم محفوظ رہ سکے گا۔ انتخابات میں بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی ہی صوبہ سندھ میں اکثریت حاصل کرتی نظر آتی ہے۔ یہ سادہ اکثریت ہوتی ہے یا غیر معمولی اکثریت حاصل کرتی ہے ؟ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی پر کرپشن سمیت ہر طرح کے الزامات کے تیر برسانے والے سیاسی مخالفین آپس میں ہی بری طرح منقسم اور منتشر ہیں۔

یہ سیاسی عناصر متحد ہو کر مشترکہ سیاسی مخالف کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کرنے کا مظاہرہ ہی نہیں کر پائے ہیں۔ یہ ماضی میں بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ پتا نہیں کیوں ان کے ذہنوں میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ متحد ہو کر وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ،بلکہ منتشر رہ کر وہ کامیابی حاصل کر لیں گے۔

جب جی ڈی اے ، تحریک انصاف، مجلس عمل، ایم کیو ایم، پاک سر زمین پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک لبیک اور آزاد امیدوار پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں ہوں گے تو ووٹ کس کے تقسیم ہوں گے۔

ووٹ تقسیم ہونے کی صورت میں جی ڈی اے ، تحریک انصاف، مجلس عمل، ایم کیو ایم، پاک سر زمین پارٹی، مسلم لیگ ن، اور آزاد امیدوار کیوں کر کامیاب ہو سکیں گے۔ مختصر یہ کہ جس طرح سے انتخابات ہور ہے ہیں، جو لوگ بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، اس صورت میں دس انتخابات بھی کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے : 

یہ راز تو کوئی راز نہیں، سب اہل گلستاں جانتے ہیں

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا 

مزید : رائے /کالم