انتخابات کی ساکھ!

انتخابات کی ساکھ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


انسداد منشیات کی خصوصی عدالت راولپنڈی نے رات گیارہ بجے قومی اسمبلی کے حلقہ ساٹھ سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اور سابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کے خلاف چھ سال سے جاری ایفی ڈرین کیس میں عمر قید اور پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے نااہلی کے فیصلے کے نتیجے میں انتخابی عمل پر لوگوں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے اور عدالتوں میں اپیل کی صورت میں اسکی منسوخی یا معطلی کا قوی امکان ہے لیکن انتخابی عمل میں تو اب بہر صورت حنیف عباسی کی شرکت ممکن نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف نے بھی انسداد منشیات عدالت کے اس فیصلے کی ٹائمنگ کو خاص طور پر ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے نا انصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے راولپنڈی بار سے خطاب نے جس میں انہوں نے خفیہ اداروں پر مختلف حساس مقدمات میں مرضی کے بنچ بنوانے کیلئے عدلیہ پر دباؤ ڈالے جانے کے الزامات عائد کیے، احتسابی اور انتخابی عمل کے حوالے سے بڑے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان ہی واقعات و حالات کے باعث گزشتہ روز سینیٹ میں بھی کئی ارکان کی جانب سے انتخابی عمل کے غیر جانبدارانہ ہونے کے حوالے سے سخت بے اطمینانی کا اظہار کیا گیا اور نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی ساکھ مشکوک اور دو پارٹیاں نشانہ ہیں۔


25جولائی 2018ء کو عام انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے، جن سے پاکستانی قوم کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اوریہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ 25 جولائی کے انتخابات سے اس ملک کے مسائل حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے بلکہ یہ مسائل بہت گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ ہم ان انتخابات کے ذریعے الجھی ہوئی سیاسی صورتحال اور مطلق پارلیمان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسکے کئی ٹھوس اسباب ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو جماعتی سیاسی نظام کی بجائے سہ جماعتی سیاسی نظام کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں۔ سیاسی پولرائزیشن بہت زیادہ ہے اور شائد پہلی مرتبہ عام انتخابات غیر نظریاتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں، کوئی بھی سیاسی جماعت قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت تو کیا، 272 نشستوں میں سے 100 نشستیں بھی حاصل کرتے ہوئی نظر نہیں آرہی، عام انتخابات کے بعد بڑا سیاسی بحران دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں بظاہر کثیر الجماعتی سیاسی نظام ہے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں، اس وقت پاکستان میں سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے پاس رجسڑڈ ہیں لیکن ہر جگہ دو یا تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا ہے، اس طرح ازخود دو جماعتی نظام رائج ہو جاتا ہے۔ باقی چھوٹی سیاسی جماعتیں کبھی کبھار حکومت سازی میں اہمیت اختیار کر جاتی ہیں لیکن سیاست دو جماعتوں کے گرد گھومتی ہے۔
پاکستان میں بھی ایسا ہی رہا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سے پہلے پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قیام پاکستان کے بعد وجود میں آئی تھی، جس پر اس وقت کی حکمراں اشرافیہ نے پابندی عائد کردی تھی اور یہی حشر نیپ کا ہوا،انکے مقابلے میں راتوں رات مسلم لیگ کے نام سے کنگز پارٹی قائم کی جاتی رہی اور یہ کنگز پارٹی بھی تھوڑے ہی وقفے میں ختم کردی گئی۔

یہ کھیل جاری رہا تاوقتیکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی قائم ہوئی اور مشرقی پاکستان میں آل پاکستان عوامی مسلم لیگ کو شیخ مجیب الرحمن نے عوامی لیگ بنا دیا ، سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں صرف پیپلز پارٹی رہ گئی، اسکے مقابلے میں کوئی دوسری جماعت مقابلے کیلئے باقی نہ رہی، راتوں رات نئی مسلم لیگ بنانے کا حربہ بھی کامیاب نہ رہا تو تحریک استقلال سامنے آئی لیکن وہ بھی پیپلز پارٹی کے سامنے ٹھہر نہ سکی اس مرحلے پر تو پہلے والا دو جماعتی نظام بھی نہیں رہا،گزشتہ تین عشروں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دو جماعتی سیاسی نظام قائم رہا، 1988ء سے 1999ء تک کے جمہوری وقفے اور 2008ء سے 2018ء کے جمہوری وقفے میںیہی دو جماعتیں باری باری حکومتیں بناتی رہیں اس دوران اگرچہ پاکستان تحریک انصاف بھی انتخابات میں مدمقابل رہی لیکن دو جماعتی نظام ہی قائم رہا۔ اب پہلی مرتبہ جماعتی نظام کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو غیر اہم کرنے کی کوششیں ہوئیں اور پاکستان تحریک انصاف کو مکمل سازگار سیاسی ماحول فراہم ہوا لیکن دونوں سیاسی جماعتیں پاکستانی سیاست میں آج بھی اہم ہیں۔ اب انتخابات کے نتیجے میں دو کی بجائے تین سیاسی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے کیلئے کوشاں ہوں گی۔


مرکز میں حکومت بنانے کا اصل فیصلہ پنجاب کو کرنا ہوتا ہے۔ پنجاب میں ماحول تحریک انصاف کیلئے سازگار تھا لیکن میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی طرف سے وطن واپس آکر گرفتاری کے فیصلے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب نے اس صوبے کی سیاسی حرکیات تبدیل کردی ہیں۔ لہذا کوئی بھی سیاسی جماعت نہ صرف سادہ اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو 100 سے زیادہ نشستیں نہیں ملیں گی،قومی اسمبلی کی 272 جنرل نشستوں میں سے 142 نشستیں پنجاب کی ہیں، ان 142 نشستوں میں سے جس سیاسی جماعت نے بھی زیادہ نشستیں حاصل کرلیں، وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی، اگر پاکستان مسلم لیگ ن 50 سے 60 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پھر پی ٹی آئی کے لئے حکومت بنانا آسان نہیں رہے گا اور پھر یہ امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر مخلوط حکومت بنائیں، اگر پی ٹی آئی نے 90 سے زیادہ نشستیں حاصل کرلیں تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 849 جنرل نشستوں پر 11855 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے سب سے بڑی امیدواروں کی تعداد 766پی ٹی آئی والوں کی ہے ، پیپلز پارٹی 711، اور ن لیگ 618 امیدواروں کے ساتھ صوبائی اسمبلیوں میں تیسر ے نمبر پر ہے قومی اسمبلی کی 272جنرل نشستوں پر بھی تحریک انصاف نے سب سے زیادہ 244، پیپلز پارٹی نے 225، ایم ایم اے 192، مسلم لیگ ن نے 179جبکہ تحریک لبیک نے 176امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت مضبوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی، تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ پولرائزیشن نظریاتی اختلافات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ شاید پہلی مرتبہ غیر نظریاتی بنیادوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، 1960ء سے 1990ء کے عشرے تک نظریاتی صف بندی کسی نہ کسی طرح تھی، جو ختم ہوتے ہوتے آج بالکل نہیں رہی، کسی بھی سیاسی جماعت کے امیدوار کو اپنی پارٹی کے منشور کا مکمل ادراک نہیں ہے۔


پوری دنیا کی نظریں پاکستان کے انتخابات پر ہیں، الیکشن کی ساکھ پر اثر پڑے گا،انتخابی عمل پر ان خدشات کے ظاہر کی جانے کے باوجود یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن، عدلیہ ، فوج اور وفاق اور صوبوں کی نگراں حکومتیں مسلسل اس امر کی یقین دہانی کراتی چلی آرہی ہیں کہ مکمل طور پر منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے۔ ان حوالوں سے ظاہر کی جانے والے متعدد تحفظات کا ان اداروں نے ازالہ بھی کیا ہے، سب سے اہم بات یہ کہ بعض حلقوں کی جانب سے انتخابات مؤخر کرنے کی شدید خواہش اور پرزور مطالبے کے باوجود انتخابات ایک دن کیلئے بھی ملتوی نہیں کیے گئے ہیں نیب نے بھی آصف علی زرداری اور بعض دوسرے سیاستدانوں کے خلاف انکوائریوں کو انتخابات کے بعد تک مؤخر کرکے انہیں انتخابی عمل میں شرکت کا موقع فراہم کیا ہے۔ لیکن حنیف عباسی کے خلاف فیصلے پر رونما ہونے والا ردعمل جسٹس شوکت صدیقی کا خطاب اور ارکان سینیٹ کا اظہار خیال رائے عامہ پر مثبت اثرات مرتب نہیں کرے گا۔ تاہم چند مخصوص واقعات کو پورے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کا سبب نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ضروری ہے کہ عدلیہ ، الیکشن کمیشن، نگراں حکومتیں اور عسکری قیادت سب انتخابی عمل کو مکمل طور پرامن شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں اور کسی بھی جانب سے اس پر انگلی اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہنے دیں اور اس مقصد کیلئے جو فیصلے اور اقدامات بھی ضروری ہوں انہیں روبعمل لانے میں کسی کوتاہی کو حائل نہ ہونے دیں۔

مزید :

رائے -کالم -