جموریت بمقابلہ جمہور!

جموریت بمقابلہ جمہور!
جموریت بمقابلہ جمہور!

  

سلطان محمود فرانس

جمہوریت کے شرعی یا غیر شرعی ہونے پر علماء میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے ، جو علماء جمہوریت کو شرعی سمجھتے ہیں وہ ایک حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک دو کے رائے ایک سے بہتر ہے اور تین کی رائے دو سے اور چار کی رائے تین سے بہتر ہے، یعنی اکثریت کی رائے اقلیت کی رائے سے بہتر ہے اور جمہوریت چونکہ اکثریت کی رائے پر اتفاق کو کہتے ہیں اس لئے مذکورہ بالا حدیث نبویﷺ جمہوریت کے حق میں قوی دلیل ہے۔ چونکہ پاکستان میں بھی اس وقت نام نہاد جمہوری نظام قائم ہے تو ہم اس حدیث نبویﷺ کی روشنی میں پاکستان کی جمہوریت کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے بھی یا نہیں!

دنیا کے تقریباً وہ سارے ممالک جن کا نظام حکومت اس حدیث نبویﷺ کی بنیاد پر قائم ہے وہ سارے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہیں اور وہاں کی اقوام بھی ایک خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں، پاکستان میں جمہوریت کو جمہور یعنی عوام کے مقابلے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے اور صرف ایک فیصد طبقہ باقی کے ننانوے فیصدجمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کر رہا ہے، ہمارے ملک میں پارلیمانی جمہویت ہے مگر اس کا طریق کار بالکل غیر جمہوری ہے، پاکستان میں جمہور کا جمہوریت سے اتنا ہی واسطہ ہی جتنا شریف سیاستدانوں کا شرافت سے۔

قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر کے انتخاب کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جس امیدوار کو اکثریت مسترد کرتی ہے الیکشن کمیشن اسی کی کامیابی کا اعلان کرتا ہے، آج تک ہونے والے تمام انتخابات میں ٹرن آؤن اوسطاً پچاس فیصد سے کم ہوتا ہے یعنی اگر ایک حلقے میں ووٹرز کی کل تعداد چار لاکھ ہے تو تقریباً دو لاکھ ووٹرز انتخابی دوڑ میں شامل تمام امیدوروں کو مسترد کر دیتے ہیں باقی دو لاکھ ووٹرز مختلف امیدواروں کا ووٹ دیتے ہیں اور ان میں جو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے اس کو کامیابی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے، اگر وہ امیدوار ایک لاکھ ووٹ بھی حاصل کر لے مگر تین لاکھ ووٹرز نے اس جو مسترد کر دیا تو اس حلقے کا نمائندہ کیسے ہو گیا جس کو اکثریت نے مسترد کر دیا؟

آپ کسی بھی حلقے کا نتجہ نکال کہ دیکھ لیں آپ کو تقریباً یہی تناسب ملے گا کوئی بھی امیدوار اپنے حلقے کے پچاس فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کرتا مگر کہلاتا اس سارے حلقے کا نمائندہ ہے، اسی طرح آج تک دو تہائی اکثریت لینے والی جماعت کے ووٹ بھی کل تعداد کا پچاس فیصد بھی نہیں ہوتے کسی نے دو کروڑ ووٹ حاصل کئے تو کسی نے ڈیڑھ کروڑ مگر دعوٰی بیس کروڑ کی نمائندگی کا کرتے ہیں، ان میں بھی اکثر ووٹ امیدوار کے اپنے ہوتے ہیں نہ کہ پارٹی کے جس کی سب بڑی دلیل عمران خان کا آئندہ الیکشن میں اپنا نظریہ چھوڑ کر الیکٹیبلز کو تحریک انصاف میں لینا اور بڑی تعداد میں ان کو ٹکٹ جاری کرنا ہے، اگر کوئی جماعت قومی اسمبلی میں تقریباً ایک سو بیس کے لگ بھگ نشستیں حاصل کرتی ہے تو اسے حکومت بنانے کے لئے آزاد امیدواروں اور چند ایک دوسری جماعتوں سے اتحاد کے بھی ضرورت پڑتی ہے بے شک وہ امیدوار ان ہی کی جماعت کے امیدوار کو ہراکر اسمبلی میں پہنچے ہوں۔

جن ملکوں نے جمہوریت کی بنا پر ترقی کی ہے انہوں اس حدیث نبویﷺ پر من و عن عمل کیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، ان ممالک میں کوئی بھی امیدوار یا جماعت اس وقت تک کامیاب قرار نہیں دی جاتی جب وہ کاسٹ شدہ ووٹس کا 51 فیصد حاصل نہ کرے، یعنی اکثریت کی رائے کو اقلیت پر ترجیح دی جاتی ہے، مگر ہمارے ملک میں اقلیت کو اکثریت پر فوقیت دے کر نہ صرف جمہوریت کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کی جاتی ہے بلکہ جمہور کو حاصل شدہ تمام جمہوری حقوق سے بھی محروم کر دیا جاتا ،اس نام نہاد جمہوریت میں جمہور کا حصہ صرف پانچ سال بعد ایک ووٹ ڈالنے کا ہے ۔اسمبلی میں جاکر جمہوری نمائندے کیا قانون سازی کرتے ہیں ۔جمہور یعنی عوام کے لئیے مختص فنڈ پر کس طرح ڈاکہ زنی کی جاتی ہے، اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم نے تاج برطانیہ کی پیروی کرنی ہے یا تاجدار کائنات صلی اللہ و علیہ وسلم کے عطاء کردہ جمہوری پیمانے کو اپنانا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -