عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 30

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 30
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 30

  

ابوجعفر اور سلیم پاشا دیر تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ بالآخر یہ طے پایا کہ فی الفور ابوجعفر کا ادرنہ سے روانہ ہو جانا ہی سب سے بہتر ہے۔ کیونکہ قاسم کی گم شدگی اور سلطان کی پراسرار خاموشی درحقیقت ابوجعفر کے خلاف خطرے کا اعلان تھی۔ چنانچہ ابوجعفر کے فرار سے لے کر سلطان کے قتل تک تمام معاملات طے کر چکنے کے بعد سلیم پاشا نے ابوجعفر سے اجازت لی اور اپنے گھر چل دیا۔

اگلے دن جمعۃ المبارک تھا ۔ ابوجعفر ادرنہ کا مشہور خطیب تھا ۔ اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ ادرنہ کے لوگ اسے خطبہء جمعہ میں غیر حاضر پائیں۔ چنانچہ اس نے خطبہء جمعہ کے بعد ہفتہ کی شب........رات کی تاریکی میں مارسی کو لے کر البانیہ کی جانب روانہ ہونے کی حکمتِ عملی تیار کرلی ۔ کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات کے لیے متبادہ لائحہ عمل میں بھی سوچا گیا ۔ اور وہ یہ تھا کہ اگر ابوجعفر کو اس دوران اچانک گرفتار کرلیا جاتا ہے تو ینی چری میں موجود اس کا تیار دستہ اسے پہلی منصوبہ بندی کے تحت بزورِ شمشیر فوری آزادی دلائے گا۔ اور اسے برق رفتاری سے شہر سے باہر ایک خفیہ مقام پر پہنچا دیا جائے گا جہاں اس کے تجربہ کار ساتھی مارسی کو لیے ہوئے موجود ہوں گے۔ اور اس طرح یہ لوگ بجلی کی تیزی کے ساتھ فرار ہوجائیں گے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 29پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شاید ابوجعفر کے نصیب میں متبادل لائحہ عمل کے ذریعے فرار ہونا ہی لکھا تھا ۔ کیونکہ عین اس وقت جب وہ سینکڑوں لوگوں کے سامنے خطبہء جمعہ ادا کر رہا تھا ایک انتہائی عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔

ہوا یوں کہ خطبہء جمعہ جاری تھا۔ لوگ باادب ہوکر مسجد میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں منبرِ خطابت کے قریب سے ایک لمبا تڑنگا شخص اٹھا۔ جس نے اپنے چہرے کو اپنے عمامہ کے پلو سے چھپا رکھا تھا ۔ ابوجعفر منبر پر بیٹھا خطبہ پڑھ رہا تھا کہ وہ شخص چلتا ہوا منبر کے پاس آکر ٹھہر گیا ۔ یک لخت پورے مجمع کی نظریں اس لمبے تڑنگے شخص پر جاپڑیں ۔ مسجد میں موجود سینکڑوں افراد حیرت و استعجاب سے اس اجنبی کی جانب دیکھنے لگے۔ ابوجعفر نے اس شخص کو اپنے پاس آتے دیکھا تو اس کا خون خشک ہوگیا ۔ اسے کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ پہلے پہل اس کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ اور پھر وہ یک لخت خاموش ہوگیا .........اور کڑک دار آواز میں اجنبی سے پوچھا:۔

’’کون ہو تم؟ اور خطبہء جمعہ کے دوران اٹھنے کی جرأت تم نے کیسے کی؟‘‘

مسجد میں موجود ہر شخص کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس شخص نے ابوجعفر کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اور اپنے چہرے کو پھیر کر عوام کی جانب کرلیا۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ حاضرینِ محفل سے کچھ کہنے والا ہے۔ اور پھر چند لمحوں بعد اس نے بآوازِ بلند کہا:۔

’’معزز حاضرین جمعہ! ........یہ شخص جسے آپ خطیبِ مغرب کے نام سے جانتے ہیں اور جو آپ کے سامنے پچھلے بیس برس سے خطبہء جمعہ پڑھ رہا ہے.........مسلمان نہیں........بلکہ ایک راسخ العقیدہ عیسائی ہے۔ یہ ادرنہ میں قیصر قسطنطنیہ کے جاسوسوں کا سرغنہ ہے۔

حاضرینِ کرام! محض آپ لوگوں کی وجہ سے اب تک سلطانِ معظم اس شخص کو گرفتار کرنے سے معذور رہے۔ سلطانِ معظم کو یہ خطرہ تھا کہ آپ لوگ ابوجعفر کی گرفتاری پر ہنگامہ برپا کردیں گے ۔ چنانچہ انہوں نے طویل انتظار اور منصوبہ بندی کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا کہ ابوجعفر کو بھرے مجمعے میں گرفتار کیا جائے۔‘‘

ابوجعفر کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ وہ شخص جو اپنے جذبات پر کسی گرگٹ کی طرح قابو پالیا کرتا تھا ۔ آج اس کی تمام مہارت اور تجربہ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ سخت سردی کا موسم تھا ۔ لیکن اس کا جسم پسینے سے شرابور ہوگیا ۔ اس کا چہرہ دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کسی نے اس کی کلائی کاٹ کر اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔

اب اسے سلطان کی پراسرار خاموشی اور قاسم کی گم شدگی کی صحیح وجہ سامنے آئی۔ تو گویا سلطان نے یہ چال کھیلی تھی۔ ابوجعفر کے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ اسے گرفتار کرنے کے لیے خطبہء جمعہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ یہا ں تو نہ اسے کوئی بچانے والا تھا ۔ اور نہ ہی اس کا کوئی محافظ دستہ ۔ مجمعے میں صرف ایک شخص ایسا موجود تھا ۔ جو ابوجعفر کی خفیہ تنظیم کا رکن تھا ۔ اس شخص نے ابوجعفر کو یوں سرِبزم بری طرح پھنستے دیکھا تو ہمت کرکے اٹھا۔ اور منبر کے قریب لمبے تڑنگے شخص سے کہنے لگا:۔

’’تم جھوٹ بکتے ہو۔ خطیبِ مغرب پر اس قدر سنگین الزام لگا کر تم نے اپنی موت کو آواز دی ہے۔ یہ مجمع تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ اگر تمہاری بات میں سچائی ہے ۔ تو تم نے اپنے چہرے کو کیوں چھپا رکھا ہے..........تم کسی کو کوئی ثبوت نہیں دکھا سکتے ۔ ہم خطیبِ مغرب کے مرید اور مقتدی ہیں۔ تمہاری اس گستاخی پر تمہیں معاف نہیں کرسکتے ۔‘‘

وہ شخص انتہائی جذباتی انداز میں بات کر رہا تھا ۔ ابوجعفر نے اپنے کارندے کو یوں کھڑے ہوتے دیکھا تو اس کی ڈھارس بندھی ۔ اب وہ کسی قدر سنبھل چکا تھا ۔ اس کے دماغ نے فوراً کام کیا اور اس نے گرجدار آواز کے ساتھ مجمعے سے مخاطب ہوکر کہا:۔

’’پکڑ لو اس ناہنجار کو ! جس نے اسلام کے ایک پرانے خادم کو بھرے مجمعے میں عیسائی کہہ کر اسلام اور سلطنتِ عثمانیہ کی توہین کی ہے۔‘‘

لوگ پہلے ہی سنسنی کی شدت سے چہ مے گوئیوں اور کھسر پھسر میں مصروف تھے۔ بعض من چلے اور جوشیلے نوجوان اپنی جگہ پر بار بار پہلو بدل رہے تھے ۔ جونہی خطیبِ مغرب نے حکم دیا ۔ وہ جوشیلے نوجوان اٹھے اور منبر کے پاس کھڑے نقاب پوش کو پکڑنا چاہا۔ ابھی وہ ایک قدم بھی نہ بڑھاپائے تھے کہ پوری مسجد ایک گونجدار آواز سے گونج اٹھی۔ یہ گرجدار آواز کس کی تھی۔ یہ گرجدار آواز سلطان مراد خان ثانی کے محافظ دستے کے سپہ سالار ’’طغرل بیگ‘‘ کی تھی۔ طغرل بیگ نے شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے کہا:۔

’’خبردار! کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔‘‘

طغرل بیگ کے ہاتھ میں ننگی تلوار لہرا رہی تھی۔ اور اس کی پشت پر شاہی محافظ دستے کے بہترین سپاہی برہنہ شمشیر یں لیے کھڑے تھے۔ مجمعے میں جو کوئی جہاں کہیں تھا بیٹھ گیا ۔ اب منبر کے پاس کھڑے نقاب پوش کو کوئی خطرہ نہ تھا ۔ چنانچہ اس نے اپنے چہرے سے عمامے کا پلو ہٹا لیا۔یہ قاسم بن ہشام تھا ۔ جو آج سے کئی روز قبل مارسی کی بازیابی کے لیے البانیہ کے راستے پر روانہ ہواتھا ۔ اس نے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ ایک دن اور ایک رات اپنا سفر جاری رکھا۔ لیکن اسے پورے راستے میں اس قسم کے کوئی آثار دکھائی نہ دیے۔ کہ مارسی کے اغواء کنندگان اس راستے پر آئے ہوں۔ اس نے جگہ جگہ مختلف لوگوں اور دہقانوں سے بھی دریافت کیا ۔ لیکن اسے کوئی سراغ نہ ملا۔ اب اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ مارسی کو ابھی تک ادرنہ سے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا ۔ وہ جانتا تھا کہ ادرنہ سے صرف دو ہی راستے نکلتے ہیں۔ ایک وہ جو ایشیائے کوچک کی طرف جاتا ہے اور دوسرا وہ جو یورپ کی طرف۔

ایشیائے کوچک کی جانب مارسی کے لے جائے جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا ۔ چنانچہ اس نے ایشیائے کوچک کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف یورپ کی جانب سفر جاری رکھا۔ اور جب اسے یقین ہوگیا کہ مارسی کو ابھی تک ادرنہ سے نکالا ہی نہیں گیا ۔ تو اس نے واپس ادرنہ لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن و ہ یہ سوچ کر مایوس ہوا کہ اب ادرنہ میں اس کی واپسی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ شہزادہ علاؤالدین غلط فہمی میں مبتلا ہوچکا تھا ۔ جبکہ بہرام خان اور اس کے گماشتے شکاری کتوں کی طرح جگہ جگہ قاسم کی بو سونگھتے پھر رہے تھے ۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ادرنہ میں داخل نہیں ہوگا۔ بلکہ شہر سے پانچ کو س دور ہی اپنا راستہ بدل کر سلطانی لشکر کی جانب چل پڑے گا۔ وہ چاہتا تھا کہ سلطان کو تمام حالات سے آگاہ کر کے نئے سرے سے منصوبہ بندی کرے۔ لہٰذا یہی ہوا، وہ اپنے سفر کے گیارہویں روز سلطان مراد خان ثانی کے سامنے تھا ۔ سلطان اسے دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ لیکن جب قاسم بن ہشام نے سلطان کو ادرنہ میں ہونے والے واقعات کی تفصیلات بتائیں تو سلطان ہکا بکا رہ گیا ۔ اور اس نے کوئی پائیدار حکمتِ عملی سوچنے کی غرض سے قاسم کو اپنے ہمراہ لشکر میں روک لیا۔اس نے اپنے شاہی دستے کے بااعتماد سالار طغرل بیگ کو بھی طلب کیا ۔ اور ادرنہ میں سازشیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ۔ چنانچہ قاسم بہترین سپاہیوں کا ایک دستہ ہمراہ لے کر ادرنہ میں خفیہ طریقے سے داخل ہوا۔ اور بھیس بدل کر ابو جعفر کی سازش کے تانے بانے تلاش کرنے شروع کردیے۔ لیکن اس نے ابھی تک کسی پر ہاتھ نہ ڈالا تھا ۔ اسی اثناء میں سلطان ادرنہ لوٹ آیا ۔ قاسم خفیہ طریقے سے سلطان کے ساتھ ملتا رہا۔ اور باہمی مشاورت سے یہ طے ہوا کہ ابوجعفر کی سازش میں شامل افراد کو گرفتار کرنے سے پہلے ابو جعفر پر ہاتھ ڈالا جائے۔ چنانچہ آج قاسم جمعۃ المبارک کے بھرے مجمع میں ابو جعفر پر ہاتھ ڈالنے کے لیے آپہنچا۔

اب ابوجعفر کے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا ۔ ابوجعفر کو بھرے مجمعے میں گرفتار کرنے کی وجہ یہی تھی کہ عامۃ الناس کو اس کا اصل چہرہ دکھا کر اسے گرفتار کیا جاسکے۔ تاکہ شہر میں کسی قسم کے ہنگامے یا فسادات کا خطرہ باقی نہ رہے۔

ابوجعفر کی حالت غیر تھی۔ اس نے جونہی قاسم کو دیکھا اس کی سٹی گم ہوگئی ۔ اب وہ اس وقت کو کوس رہا تھا ۔ جب اس نے خطرات پیدا ہوجانے کے باوجود ادرنہ میں رہنے کا فیصلہ کیاتھا ۔ سلطان اور قاسم اس کی توقع سے زیادہ ہوشیار اور ذہین ثابت ہوئے تھے۔ قاسم نے چہرے سے نقاب ہٹایا۔ تو مجمع میں سے بہت سے لوگوں نے اسے پہچان لیا۔چنانچہ ایک مرتبہ پھر مجمعے پر سناٹا طاری ہوگیا ۔ لوگ قاسم کو ایک اچھے اور بہادر انسان کی حیثیت سے جانتے تھے ۔ قاسم نے لوگوں کو پرسکون ہوتے دیکھا تو پھر کہنے لگا:۔

’’حاضرینِ کرام! مجھے تو یہ بھی شک ہے کہ آپ کا خطیبِ مغرب ابوجعفر نسلاً بھی عرب نہیں بلکہ لاطینی ہے.........لیکن میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔ البتہ آپ نے سن رکھا ہوگا کہ ینی چری نے نومسلم سپاہیوں میں کسی نے بغاوت کا بیج بو دیا ہے۔ تو جان لیجیے ! یہی ہے وہ شخص۔

آپ نے یہ بھی سن رکھا ہوگاکہ قصرِ سلطانی کے پاس ہی ایک البانوی مہمان کنیز کو قتل اور اس کی بیٹی اغواء کر لیا گیا ہے۔ تو جان لیجیے! کہ یہی ہے وہ شخص جس نے یہ مذموم کام کیا۔

معزز حضرات گرامی! آپ جانتے ہیں کہ شہاب الدین پاشا کی سرکردگی میں جانے والی ہماری فوجوں کو شکست ہوچکی ہے۔ ہمارے بہترین سپاہی شہید کردیے گئے ہیں۔ جبکہ سلطانِ معظم کے بہنوئی محمد چپلی اور چار ہزار ترک سپاہی قید کرلیے گئے ہیں۔ ہمیں اپنی اس شکست کا انتقام لینا ہے........اور ینی چری ہی ہماری قوت ہے۔ جبکہ ابوجعفر وہ شخص ہے ۔ جس نے یہی چری کے بعض سالاروں کو بہت سے نومسلم سپاہیوں کو ان کے سابقہ مذہب عیسائیت کی طرف گہری سازش کرکے لوٹادیا ہے۔ ادھر ادرنہ شہر میں بغاوت کا خطرہ بھی بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ سلطانِ معظم کے خصوصی حکم سے آج اس بھرے مجمع میں ابوجعفر غدار کو گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘

قاسم کے آخری جملے ادا ہونے کے دیر تھی کہ مجمعے نے چیخ چیخ کر ابو جعفر پر لعنت بھیجنی شروع کر دی ۔ اگر سپاہی دستے کی ننگی تلواروں کا خوف نہ ہوتا تو بعض جوشیلے نوجوان ابو جعفر کو مارنے کے لیے بھی دوڑ پڑتے ۔ اب ابوجعفر کے پاس کوئی چارہ نہ تھا ۔ چند لمحوں بعد شاہی دستے کے مسلح سپاہیوں نے ابوجعفر کو اپنی حراست میں لے لیا۔

(جاری ہے)

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -