امریکہ کے ساتھ گرمجوشی ، سی پیک پر سرد مہری؟

امریکہ کے ساتھ گرمجوشی ، سی پیک پر سرد مہری؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاک امریکہ تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاﺅ کا شکار رہے ہیں،بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ پاکستان اور دُنیا کی واحد سپر پاور کے مابین تعلقات نہایت پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات کا یہ مدوجزر کا حالیہ دور نہایت دلچسپ ہے۔ ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے متعلق اپنی توقعات پوری نہ ہونے پر ایک ٹویٹ کے ذریعے جس طرح اپنی فرسٹریشن کا اظہار کیا تھا۔ اس سے لگتا تھا کہ شاید اب پاک امریکہ تعلقات کی گتھی جلد نہ سلجھے۔یہ ٹویٹ پاکستان کے وقار کے منافی تھا۔ پاکستان نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تمام سول و فوجی امداد بند کر دی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے لئے مختص کولیشن سپورٹ فنڈ کو بھی ناجائز طور پر روک دیا گیا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفارتی عملہ کی نقل و حرکت پر بعض پابندیاںعائد کر دی گئیں، درحقیقت پاک امریکہ تعلقات کی حالیہ دراڑ کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکہ نے خطے میں چین کے خلاف ایک محاذ بنانے کی غرض سے بھارت سے پینگیں بڑھانے کا آغاز کیا اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست اور اپنے نان نیٹو اتحادی پاکستان کے مفادات اور حتیٰ کہ افغانستان کے داخلی تحرکات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر ضروری طور پر کابل، دہلی اور واشنگٹن کی ایک غیری فطری سٹرٹیجک الائنس کی مثلث قائم کر دی۔افغانستان میں بھارت کو غیر ضروری طور پر کردار دے کر امریکہ نے ایک بڑی غلطی کی، جس کی بنا پر امریکہ افغان مسئلے ے حل سے دور سے دور ہوتا گیا۔امریکہ بھارت کو افغانستان میں کردار دے کر اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا،بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ امریکہ کو اپنی اس تذیرواتی غلطی پر افغانستان میں شکست پر فیس سیونگ حاصل کرنے سے بھی محروم ہو گیا۔تاہم دیر آئے درست آئے کے مصداق بالآخر ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن مذاکراتی عمل سے بھارت کو اس طرح نکال باہر کیا،جس طرح دودھ سے مکھی نکالتے ہیں۔پاک امریکہ مرد مہر تعلقات میں یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اگرچہ افغانستان میں قیام امن اور امریکی افواج کا وہاں سے انخلا ایک کٹھن اور پیچیدہ عمل ہے اور اس میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں،لیکن تاحال امریکہ اور طالبان کے مابین افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور افغان قوم کے مستقبل کے حوالے سے جاری مذاکرات کسی بڑے حادثے کا شکار نہیں ہوئے۔یہ مذاکراتی عمل افغانستان میں جاری اٹھارہ سال سے جنگ کے خاتمہ کے لئے بہت سی ”ہچکیوں“ کے باوجود دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری ختم ہونے لگی اور برف پگھلنے لگی۔ وزیراعظم عمران خان کا وائٹ ہاﺅس میں جو فقید المثال سواگت ہوا،اس کی بنیاد امریکی طالبان اس مذاکراتی عمل میںپاکستان کے تعاون سے رکھی تاہم دلچسپ رویہ ہے کہ امریکہ نے اس کے باوجود بھی پاکستان سے اپنے تعلقات گرموشی کرتے ہوئے چھڑی اور گاجر کی پالیسی کو نہیں چھوڑا۔ امریکہ پاکستان کی داخلی معاشی صورت حال کی ابتری کو موقع سمجھتے ہوئے سی پیک کو نشانہ بنانے سے نہیںچونکا،جبکہ آئی ایم ایف نے قرضہ کی فراہمی کے لئے عائد شرائط سے جس طرح پاکستان کی چیخیں نکوائی ہیں اس کے ڈانڈے بھی امریکی خواہشات سے ملتے نظر آئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی پاکستان پر ہنوز لٹک رہی ہے۔ مزید ازاں وزیراعظم عمران خان کے دورہ¿ امریکہ سے قبل حافظ سعید کی گرفتاری کا تحفہ بھی پیش کرنا پڑا،تب جا کر امریکہ بہادر رام ہوا اور وزیراعظم عمران خان کو دورہ¿ امریکہ میں غیر معمولی سفارتی کامیابیاں ملیں۔وزیراعظم عمران خان کا دورہ¿ امریکہ نہایت غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ پاکستانی عوام نے بھی ایک بڑے جلسے کی صورت میں ان کا واشنگٹن میں فقید المثال استقبال کیا۔ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی اپنے وطن او قوم کے لئے بہت درد دِل رکھتے ہیں۔وہ دُنیا کے صف ِ اول کے ممالک میں رہتے ہیں، وہاں کی حکومتوں کا تقابل اپنی حکومت سے کرتے ہیں۔وہ خلوصِ دِل سے چاہتے ہیںکہ پاکستان بدل جائے اِس لئے دیارِ غیر میں تبدیلی کے نعرہ کے ساتھ وزیراعظم عمران خان خوب مقبول ہیں۔اوورسیز پاکستان بیک وقت اپنی دو شناختوں کے ساتھ اپنے ملک کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان میںبھی ووٹ ڈالنے اور انتخاب میں حصہ لینے کے حق کے خواہاں ہیں۔پاکستانی سیاست میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار پر ملک میں ایک جامعہ مکالمہ اور بحث کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مثبت اور منفی پہلو اُجاگر ہو سکیں۔ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ملاقات کے مناظر اور جھلکیاں بہت خوشگوار اور متاثر کن تھیں، جبکہ اس ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے خم ٹھونک امریکہ سے بات کی، جبکہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی قوم کو خوش کرنے کی غرض سے پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کی پیشکش کر کے ایک ماسٹر سٹروک کھیلا۔ پاکستان کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ امریکہ ایک سپر پاور کے طور پر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرے تاہم یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ امریکہ نے خود ثالثی کی پیشکش کر ڈالی۔
امریکہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے دُنیا دم بخود رہ گئی اور بھارت میں تو صفِ ماتم بچھ گئی۔امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے امریکی کردار کی حمایت کا بھی ذکر کیا، جسے بھارتی میڈیا آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں ایک نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی1.3ارب ڈالرکی امداد بحال کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وائٹ ہاﺅس میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے وقت گزارا، جبکہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کی خوب ستائش کی اور انہیں وائٹ ہاﺅس سے خوش کر کے بھیجا،لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ دُنیا کی پاکستان سے کیا توقعات ہیں اور ہم کس حد تک انہیں پورا کر سکتے ہیں!کیا امریکہ کے ساتھ گرمجوشی سی پیک کی سرد مہری ثابت ہو گی؟ کیا پاکستان امریکہ طالبان مذاکرات کی حتمی کامیابی کی ضمانت دے پائے گا؟وزیراعظم عمران خان کے دورہ¿ امریکہ کی کامیابی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید کا خطے کی صورت حال کے تناظر میں افغان امن عمل میں کلیدی کردار ہے اس حوالے سے ان کا وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ پینٹاگان اور اپنے ہم پلہ امریکی جرنیلوں سے ملاقاتیں بھی خطے کی تذویراتی صورت حال میں نہایت اہم ہیں۔ وزیراعظم عمران خان امریکہ کے کامیاب دورے سے واپس آئے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ اب طرف امریکی انتظامیہ کی ان سے توقعات اور داخلی طور پر جو بہت سے سیاسی و معاشی چیلنجز ان کے منتظر تھے وہ ان سے کیسے عہدہ برا ہوتے ہی۔ چیئرمین سیینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد اور 25جولائی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کی کال ایسے وقت میں نہایت اہم ہے جب اپوزیشن جماعتیں حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگا رہی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کا دوسرا سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی گرفتار ہو چکا ہے، تاجر بھی سراپا احتجاج ہیں، آنے والے دن اہم ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -