قبائلی اضلاع میں الیکشن کے بعد نئی سیاسی صف بندیاں

قبائلی اضلاع میں الیکشن کے بعد نئی سیاسی صف بندیاں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاکھوں قبائلی باشندوں کو قومی سطح پر حق رائے دہی استعمال کرنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا شاندار موقع ملا، 20 جولائی 2019ءکو ہونے والے انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر بالغ حق رائے دہی سے محروم قبائلیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کی 16 نشستوں پر پولنگ پر امن ماحول میں مکمل ہوئی اور الیکشن سے قبل جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا ان میں سے ایک بھی درست ثابت نہیں ہوا اور انتخابات کے پر امن انعقاد نے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی رہائشی خواتین کو 1997ءمیں ووٹ ڈالنے کا حق ملا تھا تو اس وقت سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنٹیئر ریجن میں مردوں کے 78 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کے مقابلے میں صرف 360 خواتین رجسٹرڈ تھیں جبکہ 2019ءکے انتخابات میں قبائلی اضلاع کے کل 28 لاکھ ووٹوں میں خواتین ووٹرز کی تعداد گیارہ لاکھ 30 ہزار سے زائد تھی جن میں ملک کی تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات میں 2 لاکھ پندرہ ہزار سے زائد یعنی 17 فیصد خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ان انتخابات میں پول کئے گئے سات لاکھ 30 ہزار ووٹوں میں مردوں نے پانچ لاکھ 20 ہزار یعنی 26 فیصد ووٹ پول کئے۔ قبائلی اضلاع کی سولہ نشستوں میں سے ایک حلقے کے علاوہ کسی بھی حلقے پر خواتین ووٹوں کی شرح دس فیصد سے کم نہیں تھی، یہ امر قابل تعریف ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے حالیہ قبائلی اضلاعی انتخابات میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، قبل ازیں کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ 17 فیصد قبائلی خواتین گھروں سے نکل کر پولنگ سٹیشن تک آئی ہوں۔ قبائلی رسم و رواج چونکہ خواتین کو اس امر کی اجازت نہیں دیتے اس لئے پاکستانی سیاسی تاریخ خواتین کی پولنگ سرگرمیوں سے خالی دکھائی دیتی ہے۔ انضمام شدہ قبائلی اضلاع کے ان انتخابات نے کئی اور ریکارڈ بھی قائم کئے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک خوبصورت نئے باب کا اضافہ ہوا ہے ، قطع نظر اس کے کہ اس الیکشن میں کس سیاسی جماعت یا امیدوار نے کامیابی حاصل کی ، کسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، مجموعی طور پر یہ دیکھنا چاہئے کہ طویل عرصے سے حق رائے دہی سے محروم رہنے والے قبائلیوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا زریں موقع ملا ہے ۔ دونوں بڑی قومی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کوئی امیدوار کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا لیکن قومی سیاسی جماعتوں کا ان اضلاع کے الیکشن پراسیس میں شامل ہونا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ پی ٹی ایم کے دو مرکزی رہنماﺅں ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کا انتخابات کے دوران پابند سلاسل ہونا بھی اہم ایشو کے طور پر سامنے آیا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر دونوں مذکورہ رہنما انتخابی مہم کا حصہ بنتے تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے، یہاں تک بھی سننے میں آیا ہے کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے بیشتر نو منتخب اراکین پی ٹی ایم کے زیادہ قریب معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں سے چار تو ایسے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ کے حصول کے خواہشمند تھے اور کامیاب نہ ہونے کی صورت میں آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا۔ اصل صورت حال تو بعد میں سامنے آئے گی لیکن فی الحال یہ کہا جا رہا ہے کہ ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو شدید دھچکا لگا ہے اور پارٹی میں اختلافات بھی پیدا ہوگئے ہیں ، تحریک انصاف کے مقامی رہنما ﺅں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور نجی محفلوں میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ ادھر قبائلی ایم این ایز کا پارلیمانی بورڈ پر ٹکٹوں کیلئے دباوٓبھی سامنے آیا ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ بعض کارکنوں نے پارٹی امیدواروں کیخلاف آزاد الیکشن لڑا جس سے ووٹ تقسیم اور ہمارے امیدوار شکست سے دوچار ہوئے، انہیں پارٹی کی طرف سے شوکاز جاری کئے جا رہے ہیں۔ 15حلقوں کے مکمل مگر غیر سرکاری نتائج کے مطابق تاریخی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے میدان مار کرسات جبکہ تحریک انصاف نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں ضم شدہ 7قبائلی اضلاع اور 6سابقہ ایف آرز پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی 16جنرل نشستوں کے فارم 47کے مطابق آزاد امیدوار چھ نشستوں کی اکثریت کے ساتھ بدستور سرفہرست رہے۔حکمران جماعت تحریک انصاف پانچ نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر، جے یو آئی (ف) تین نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پرجبکہ اے این پی اور جماعت اسلامی ایک ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلی مرتبہ ضلع مہند اور باجوڑ کا دورہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیا ب نہ ہوسکی جبکہ مسلم ن لیگ ان انتخابات سے خود کو دور رکھا جس کی وجہ ان کی حمایت یافتہ کسی امیدوار کو بھی کامیا بی نہ مل سکی۔ نئے سیاسی جوڑ توڑ کے لئے ان انتخابات کے بعد پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے آزاد امیدواروں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ ویسے تو ان انتخابات میں کئی اور بولہواسیاں بھی دیکھنے میں آئیں لیکن ایک بات قابل ذکر ہے کہ 16 میں سے 3 نشستیں ایسی تھیں جہاں مسترد ووٹوں کی تعداد جیتنے والے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے ووٹوں کے فرق کی نسبت کہیں زیادہ تھی، یعنی اگر یہ ووٹ مسترد نہ ہوتے تو کوئی دوسرا امیدوار بھی کامیاب ہو سکتا تھا۔ چونکہ ان اضلاع میں قومی سطح کے انتخابات پہلی مرتبہ ہوئے تھے اور عجلت میں کروائے جانے کی وجہ سے عملہ نا تجربہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی مناسب تربیت کا عنصر بھی کم تھا اس لئے بعض غلطیاں انجانے میں سرزد ہو گئیں۔
یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف مقامات پر دہشت گردانہ کارروائیوں نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے اور امن و امان تباہ کرنے والے واقعات انتظامیہ کے لئے ایک مرتبہ پھر چیلنج بن گئے ہیں ابھی تین روز قبل ڈیر ہ اسماعیل خان میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10افراد شہید اور 22ٓ افراد زخمی ہوگئے، پہلے موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے کوٹلہ سیدان چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور اسے نشانہ بنایا ، فائرنگ کے بعد لاشیں اسپتال پہنچنے پر 15سالہ بمبار نوجوان لڑکی نے خودکش حملہ کرنے کے بعد بارودی مواد سے خود کو ا±ڑا لیا جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذکردی گئی جبکہ مزید دھماکوں کے خطرے کے پیش نظر سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیا۔ مذکورہ واقعے کے علاوہ بھی دہشت گردی کے دو ، تین دیگر واقعات میں بھی خاصا نقصان ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان دشمن قوتوں کے مذموم ارادوں پر کڑی نگاہ رکھیں اور زیر زمین پناہ گزین ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے جاری اپنی سرگرمیوں کو ماند نہ پڑنے دیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -