انتقام، ٹکٹکی اور نیا پاکستان

انتقام، ٹکٹکی اور نیا پاکستان
انتقام، ٹکٹکی اور نیا پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اگرچہ عوامی سیاست دان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے بیانات عوامی خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ شائد بچپن میں شیخ رشید نے گسٹاپوچیف ہنرچ ہملر سے تربیت حاصل کی تھی۔اپنے سینکڑوں،بلکہ ہزاروں پچھلے بیانات کی طرح شیخ رشید نے تازہ ترین بیان میں ارشاد فرمایا ہے کہ جھاڑو پھرتے پھرتے آخری کونے تک آ گیا ہے، اب تمام چوروں کو ٹکٹکی لگے گی۔ شیخ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے، آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبریں چھپ چکی ہیں کہ وہ ایک نئی وفاقی پولیس فورس بنانا چاہتے ہیں جو نہ صرف مخالفین پر گہری نظر رکھے گی،بلکہ جتنی ضرورت ہو گی، اتنا مزا بھی چکھائے گی۔ شائد ان کے ذہن میں ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئی فیڈرل سیکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) ہے،

جو انہی مقاصد کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی تھی،لیکن بعد میں اسی کے سربراہ مسعود محمود کے سلطانی گواہ بن جانے کی وجہ سے پھانسی پر لٹکائے گئے تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری حکومت آج کل جرمنی کے ہٹلر سے متاثر ہو جس نے گسٹاپو بنائی تھی اور جس نے بارہ سال میں ہزاروں یا شائد لاکھوں لوگ غائب کرائے تھے جو غائب نہیں ہوئے، وہ بھی مرتے دموں تک اپنے جسموں پر تشدد کے نشانات لوگوں کو دکھاتے رہے۔ ایران کے رضا شاہ پہلوی کی بنائی ہوئی فورس ساواک بھی کسی سے کم نہ تھی اور اس نے بائیس سال لاکھوں لوگوں کو ان کی حیثیت یا مرتبے (سیاسی مخالفت کی)کے مطابق خوب مزے چکھائے۔ جرمنی کے ہٹلر، ایران کے شاہ اور پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کے انجام کے بارے میں نہ ہی پوچھا جائے تو بہتر ہے۔


جرمنی کے سویلین ڈکٹیٹر اڈولف ہٹلر 1933ء کا الیکشن جیت کر برسر اقتدار آئے۔ کچھ لوگ ہٹلر کو فوجی سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ تر فوجی وردی زیب تن کرتے تھے، لیکن اصل میں وہ فوج سے انتہائی متاثر ایک سیاست دان تھے۔انہیں جرمن فوج کی مکمل حمائت حاصل تھی اور جرنیل بھی ان کا خوب دم بھرتے۔ بطور سیاست دان اڈولف ہٹلر سب سے زیادہ متاثر اٹلی کے سویلین ڈکٹیٹر مسولینی سے تھے جو ایک دھرنے کے نتیجے میں 1922ء میں اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ہٹلر اور مسولینی کا کمبی نیشن ایسا تھا،جو فوج کی مدد سے الیکشن جیتنے اور دھرنے کا مجموعہ تھا۔ ہٹلر کی پارٹی کا نام نازی پارٹی اور مسولینی کی پارٹی کا نام فاشسٹ پارٹی تھا۔ فاشسٹ پارٹی کی حکومت نے اپنے شہریوں پر اتنے ظلم ڈھائے کہ آج تک فاشزم ایک استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے،جو حکومت بھی اپنے شہریوں اور سیاسی مخالفین کی ناجائز پکڑ دھکڑ کرے، انہیں جیلوں میں ڈالے

،ان کے گھر والوں پر زندگی اجیرن کردے اور مخالف آواز کو دبانے کے لئے کوئی بھی پُرتشدد حربہ استعمال کر گذرے،وہ ایک فاشسٹ حکومت کہلاتی ہے۔جرمنی کی گسٹاپو پولیس کی بنیاد اڈولف ہٹلر کے برسر اقتدار آتے ہی 1933ء میں ہرمن گورنگ نے رکھی تھی۔ اس کے مختلف ڈیپارٹمنٹ تھے، جن میں سب سے اہم سیاسی مخالفین کو کچلنے اور حکومت کو ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرکے محفوظ بنانے کا تھا۔ نازی جرمنی میں ہٹلر اور فاشسٹ اٹلی میں مسولینی نے نہ صرف سیاسی مخالفین کو بری طرح کچل دیا،بلکہ میڈیا کا گلا گھونٹنے کے علاوہ تمام اداروں اور عدالتوں کو بھی اسی کام کے لئے استعمال کیا۔ ہر طرح کی آواز دبا دی گئی، مخالفین کو غائب کر دیا جاتا یا ان پر مقدمات بنائے جاتے،جن کا فیصلہ عدالتیں بھی ڈکٹیٹر حکومتوں سے پوچھ کر دیتیں۔ سیاسی مخالفین یا مار دئیے گئے یا جیلوں میں سڑتے رہے۔


ہٹلر اورمسولینی نے جب اپنے اپنے ملک تسخیر کر لئے تو دونوں کے دماغ میں دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کی دھن سمائی، جس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ ہوئی، جس میں انہیں شکست ہوئی، جس کے بعد ان ملکوں کے لوگوں کی فوجی نما سویلین ڈکٹیٹرشپ سے جان چھوٹی۔ ایرانی شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے اپنی خفیہ پولیس ساواک کے نام سے 1957ء میں بنائی۔ اس کی تشکیل اور آپریشنل طریقہ کار میں امریکی انتظامیہ، سی آئی اے اور اسرائیلی حکومت اور اس کی ایجنسی ”موساد“ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ساواک ایران میں خوف اور دہشت کی علامت بن گئی، کیونکہ شاہ ایران نے اسے لا محدود اختیارات دے رکھے تھے۔ ساواک کا سب سے اہم رول بھی یہی تھا کہ ہر مخالف آواز کو نہ صرف دبا دیا جائے،بلکہ اسے نشان عبرت بنا دیا جائے۔ایرانی پریس اور مطبوعات پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جاتیں۔ اس دور میں ہم نے بدترین سنسر شپ دیکھا۔ اس کی اپنی جیلیں تھیں،جہاں غائب افراد کو رکھا اور انہیں بدترین ٹارچر دیا جاتا۔

ویسے تو ایران کے طول وعرض میں ساواک کے ٹارچر سیل اور جیلیں موجود تھیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ بدنام ایرانی دارالحکومت تہران کے نواح میں موجود ایون جیل تھی،جہاں 15ہزار مخالفین کو رکھنے کی گنجائش اور ان پر انتہائی بہیمانہ تشدد کی تمام سہولتیں موجود تھیں۔ ساواک سے ہی متاثر ہو کر ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں اپنے پہلے سال میں ہی 1972ء میں فیڈرل سیکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) بنائی، جس کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو کچلنا اور ان کی آوازوں کو دبانا تھا۔ ایف ایس ایف نے بھٹو کی اپنی پارٹی سے اٹھنے والی مخالف آوازیں بھی سختی سے دبائیں جس کی مثال ملک سلیمان افتخار نازی اور مختار رانا جیسے لوگ تھے۔جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت چلی گئی تو نئے آنے والے حکمران جنرل ضیاء الحق نے ایف ایس ایف ختم کرنے کے احکامات جاری کئے اور قوم کی جان اس مصیبت سے چھوٹ گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ایک اہم معتمد رفیع رضا نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ”ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان“ 1997ء میں شائع کی تو ہمیں ان بہت سے حقائق سے آگاہی ہوئی،جو اس سے پہلے نظروں سے اوجھل تھے۔اسی کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایف ایس ایف کو عین ساواک کی طرز پر استوار کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی طرح مطلق العنان شہنشاہ نہیں تھے،بلکہ ایک جمہوری حکومت کے سربراہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ایف ایس ایف بنانے کے باوجود وہ اس سے ساواک کی طرح کے کام نہ لے سکے۔ بہر حال ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ڈاکٹر نذیر احمد، عبدالصمد اچکزئی، بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولانا شمس الدین، حیات محمد شیرپاؤ، نواب محمد احمد خان قصوری اور چھ حر لیڈروں سمیت اور بھی کئی اہم سیاسی افراد قتل ہوئے،جو تاریخ کا حصہ ہیں اور ہمیشہ ان کے نام کے ساتھ جڑے رہیں گے۔


بھارت میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے لئے کوئی ایسی پولیس فورس بنانا سیاسی طور پر ممکن نہیں تھا جو گسٹاپو، ساواک یا ایف ایس ایف کے طرز پر استعمال ہوتی،چونکہ وہ بھی سیاسی مخالفوں اور ان کی آوازوں کو دبانا چاہتی تھیں کیونکہ انہیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں زبردست دھچکا پہنچا تھا تو انہوں نے بھی 1975ء سے 1977ء،یعنی انیس ماہ تک ملک میں ایمرجنسی لگائے رکھی، جس کا انہیں بہت بھاری سیاسی خمیازہ بھگتنا پڑا اور 1977ء کے عام انتخابات میں عبرت ناک شکست ہوئی۔وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ مارشل لاء دور میں بھی جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے اور اہم عہدوں پر رہنے کی وجہ سے اس دور کے بہت سے واقعات میں اہم کردار تھے۔

اب جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق وہ نئی فورس بنانے کی بات کرتے ہیں تو دھیان گسٹاپو، ساواک اور ایف ایس ایف کی طرف جانا یقینی ہے۔ لوگوں کی ٹانگیں اور ہڈیاں توڑی جا سکتی ہیں اور انہیں غائب بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ نے ہٹلر، مسولینی اور شہنشاہ ایران کی ہی ہڈیاں اور ٹانگیں توڑی ہیں اور تاریخ کے صفحات سے ان ہی کی نیک نامی غائب ہوئی ہے۔ انتقام اور ٹکٹکیاں عرب بہار (arab spring) کو جنم تو دے سکتی ہیں، لیکن ایک جمہوری خوش حال پاکستان کو نہیں۔ اللہ نہ کرے نئے پاکستان کی تعبیر ہٹلر کے نازی جرمنی یا مسولینی کے فاشسٹ اٹلی کی شکل میں نکلے، کیونکہ اس طرح تو تباہی ہی تباہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -