ایکسائز افسر شاہانہ اقدامات میں سب سے آگے، قومی خزانے کو بھاری نقصان

ایکسائز افسر شاہانہ اقدامات میں سب سے آگے، قومی خزانے کو بھاری نقصان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ملتان (نیوز رپورٹر) محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس ملتان ڈائریکٹوریٹ کی شاہانہ پالیسیاں اعلی بیوروکریسی میں بصیرت کا فقدان قومی خزانے پر بوجھ ثابت ہورہے ہیں اکتوبر 2018ء میں اس وقت کے سیکرٹری ڈاکٹر بلال احمد کی ہدایت پر سہولت سنٹر کے نام پر چونگی نمبر 6 سے ملحقہ رہائشی مہر کالونی میں واقع کوٹھی 80 ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر لی گئی جہاں شہریوں نے رخ کیا اور نہ ہی ایکسائز حکام کو انہیں (بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

سہولت فراہم کرنا میں نصیب ہوا بالآخر اس 80 ہزار ماہوار پر لی جانیوالی لگڑری کوٹھی کے گراونڈ فلور کے ڈرائنگ روم میں ایک ٹیلی فون آپریٹر بٹھادیا گیا جبکہ دیگر کمروں میں خالی فرنیچر ڈال دیا گیا تاکہ آفس کا ماحول واضح ہوسکے جبکہ فرسٹ فلور کو ایکسائز حکام ہی کی ناقص کارکردگی کے باعث سائلین تک نہ پہنچنے والی لاکھوں کی تعداد میں نمبر پلیٹوں کے قبرستان کے لئیےمختص کیا گیا ہے ایکسائز حکام کی جانب سے 9 ماہ کے طویل عرصہ تک سرکاری خزانے سے 70 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سہولت سنٹر کو نیو رجسٹریشن آفس بنانے کے لئیے مزید ایک کروڑ روپے کے اخراجات کئیے گئے ہیں جس سے نئے کمپیوٹرز اور پرنٹرز سمیت دیگر سامان خرید کیا گیا ہے لیکن ایکسائز افسر شاہی نے نہ پارکنگ کی عدم سہولت پر توجہ دی نہ ہی روزانہ کی بنیاد پر فیسوں کی مد میں جمع ہونیوالے لاکھوں روپے کے تحفظ کے لئیے اقدام اٹھائے گئے یہاں تک کہ اس بھاری رقم کو مین آفس منتقل کرنے اور رقم منتقل کرنے والے اہلکار کی حفاظت کے لئے موثر اقدامات سے بھی گریز کیا گیا تاہم شہریوں نے اس نیو رجسٹریشن آفس کو بھی مسترد کردیا ہے جس کے باعث ای ٹی او موٹر برانچ سہیل بزدار نے گذشتہ روز نصف سٹاف کو واپس ڈائریکٹوریٹ افس طلب کرلیا ہے بعض ذراءع کے مطابق شاہ رکن عالم اور مہر کالونی میں ایکسائز دفاتر کے لئیے لی جانیوالی عمارتیں ڈی جی ایکسائز اشرف اکرم گوندل کے دور میں لی گئی ہیں جو کرپشن میں کافی شہرت پا چکے ہیں انہوں نے ان عمارتوں کی اڑ میں کسے نوازا ہے مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ ملک کے وفاقی و صوبائی تمام ادارے بتدریج ون ونڈو سروس فراہم کرکے شہریوں کے لئیے سہولیات کا اہتمام کررہے ہیں وہیں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ شہریوں کے لئیے مشکلات میں اضافہ کرنے میں مصروف ہے ۔

شاہانہ اخراجات