پاکستان کے کردار کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، غلام سرور

پاکستان کے کردار کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، غلام سرور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ٹیکسلا (آئی این پی)وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا اس خطے میں امن کے لئے اہم رول ہے،پاکستان کے کردار کے بغیر اس علاقے میں امن قائم نہیں ہوسکتا،ایوب خان کے بعد امریکہ کا کامیاب ترین دورہ وزیر اعظم عمران خان کا ہے،ملک میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث تنظیمات پرپابندی،انکی امداد میں رکاوٹ،افغاستان سے امریکہ نیٹو کا انخلاء،ہندوستان کا رول افغانستان میں کم کرنا، پاکستان پر عائد مختلف پاپندیوں کا خاتمہ یہ اہداف حاصل کرنا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے،جس کا سہرا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے سر جاتا ہے،دورہ امریکہ سے پاکستان کا دنیا میں امیج بلند ہوا ہے، دنیا کا پاکستان پر اعتماد سے پاکستان کا وقار بین الاقوامی سطح پر بلند ہوا ہے، ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا کہ ایک عظم قوم، ایک عظیم ملک کا ایک عظیم لیڈر عمران خان ہے یہ نیک نامی اس ملک اور قوم کی ہے، پاکستان نے ہندوستان کو ہر موقع پر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا،اور دنیا میں اپنی حیثیت منوائی،فوجی لحاظ سے سفارتی طور پر پاکستان نے مربوط حکمت عملی سے فتح حاصل کی،دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ اس ریجن میں امن اسی وقت ہوسکتا ہے جب افغانستان میں امن ہو،اس کے لئے ہندوستان کا کردار کم کرنا اور پاکستان کے کردار کو بڑھانا مقصود ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے بلدیہ ٹیکسلا میں میڈیا سے خصوصی نشست کے دوران کیا، غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ایک طرف افغانستان کا امن،طالبان کے ساتھ مذاکرات،انڈیا میں نیٹو فورسز کی دستبرداری،اس سارے امور میں ہندوستان کا رول مائنس کرنا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے،ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کشمیر کے مسلہ پر انڈیا کی دررخواست پر ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہوں،پاکستان کی جیت ہے،انکا کہنا تھا کہ پہلے امریکہ کی ترجیحات تھیں کہ اس ریجن میں ہندوستان کو چوہدری بنایا جائے،اور افغانستان کو ہندوستان کی ایک زیلی ریاست بنایا جائے،جس پر پاکستان کو سخت ترین تحفظات تھے،پاکستان اپنے اس مقصد میں مکمل طور پر کامیاب ہوا کہ ہندوستان کو کوئی کردار افغانستان میں ہو۔دنیا نے یہ بات تسلیم کر لی کہ افغانستان کے امن میں پاکستان کے کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا،پاکستان کے اس رول کی وجہ سے وزیر اعظم کو امریکہ دورے کی دعوت دی گئی،اب جبکہ امریکہ نیٹو افغانستان سے جانا چاہتا ہے امریکہ جانے سے قبل یہ کردار ہندوستان کو سونپنا چاہتا تھا، جبکہ پاکستان کسی صورت افغانستان کا تسلط افغانستان میں تسلیم نہیں کرتا تھا،اس پر اصولی طور پر چین، روس اور امریکہ کا اتفاق ہوگیا،ہندستان میں طالبان سے اگر کوئی مذاکرات کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے،امن میں ایک اہم رول بھی پاکستان ادا کر سکتا ہے،اگر پاکستان چاہے تو افغانستان سے بحفاظت پاکستان کی مدد سے امریکہ نیٹو واپس جاسکتا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطہ میں پائیدار امن کے لئے پاکستان کی اہمیت کو پوری دنیا میں تسلیم کیا گیادہشتگردی کے خلاف مردانہ وار جنگ کی وجہ سے پاکستان کی اہمیت و افادیت اور بھی بڑھ گئی ہے پاکستان میں دہشتگردی تقریباً ختم ہوچکی ہے جس میں افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کا کردار کلیدی اہمیت کا رہا،پاکستان نے ہر محاز پر ہندستان کو شکست دی
غلام سرور

مزید :

صفحہ آخر -