امریکہ کیساتھ سکیورٹی، دفاعی شعبوں میں تعاون کی بحالی کے آثار پیدا ہو گئے: وزیر خارجہ 

امریکہ کیساتھ سکیورٹی، دفاعی شعبوں میں تعاون کی بحالی کے آثار پیدا ہو گئے: ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن (اظہر زمان سے) پاکستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کا سلسلہ جو کچھ عرصے سے تعطل کا شکار چلا آرہا تھا، اب اس کی بحالی کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ ان تاثرات کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوموار کی شب پاکستانی سفارتخانے میں پاکستانی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا جس میں انہوں نے قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے ساتھ سربراہی اور وزارتی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپ ڈیٹ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں امریکہ کی طرف سے دفاعی تعاون کو بحال کرنے اور فروغ دینے کا واضح عندیہ دیا گیا۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت میں ایک بڑا طبقہ خطے میں اس کے قیام کا خواہاں ہے، لیکن اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اوول آفس میں صدر ٹرمپ کو اس مسئلے کا پس منظر بتاتے ہوئے ایک بڑی طاقت کے طور پر اس کے حل کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور اس مسئلے پر ثالثی کرنے کو تیار ہوگئے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ معلوم ہوا کہ بھارت بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ بلاشک اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کی تعمیر و ترقی کی صورت میں نظر آئیں گے۔وزیر خارجہ نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ ان مذاکرات میں دو طرفہ تجارت پر خصوصی زور دیا گیا، جنہیں پاکستان کی نئی حکومت بھی بہت اہمیت دیتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دو طرفہ تجارت میں دس بیس گنا اضافہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی ایڈ کی بجائے ٹریڈ چاہتی ہے۔ اگر تجارت بڑھے گی اور سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوگا تو اس سے ہمارے نوجوانوں کو روزگار میسر آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے بھی مفید بات چیت ہوئی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان کثیر الجہتی دو طرفہ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاک امریکہ تعلقات کے لئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کی مصروفیات تین گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہیں جن میں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی میڈیا سے گفتگو کے بعد الگ مذاکرات شامل تھے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان وزارتی سطح پر بات چیت کا دور ہوا۔ اس کے بعد ورکنگ لنچ کے موقع پر دونوں سربراہوں اور ان کے وفود کے ارکان کے درمیان مشترکہ بات چیت ہوئی۔ 
وزیر خارجہ 

مزید :

صفحہ اول -