امریکی امداد لعنت اسکی ضرورت نہیں، باہمی مفادات اور برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں، شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ کی رہائی پر بات ہو سکتی ہے، بھارت جوہری ہتھیار ترک کرے پاکستا ن بھی کر دے گا: عمران خان

  امریکی امداد لعنت اسکی ضرورت نہیں، باہمی مفادات اور برابری کی سطح پر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے سب سے بڑی لعنت تھی، جس طرح اسامہ بن لادن کے وقت امریکہ نے پاکستان میں کارروائی کی ہم ایسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتے۔امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں سوالوں کے جوابات کے سیشن کے دوران وزیر اعظم سے امریکی امداد کے حوالے سے سوال پوچھا گیاتو اس پر عمران خان نے کہا کہ ہمیں امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہماری بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں باہمی مفادات اور برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات چاہتا ہوں۔ پہلے پاکستان امریکہ سے امداد چاہتا تھا اور امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا کرتا تھا لیکن اب ایسی صورتحال نہیں ہے۔ اپنے دورہ امریکہ کی وجہ سے میں اس لیے خوش ہوں کہ ہمارے تعلقات باہمی نوعیت کے ہوگئے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے نفرت ہے کہ کسی سے امداد مانگی جائے کیونکہ ماضی میں امریکی امداد پاکستان کیلئے سب سے بڑی لعنت تھی، یہ بہت ہی شرمناک ہے کیونکہ کوئی بھی ملک خود داری کی بنا پر اوپر اٹھتا ہے، کوئی ملک امداد اور بھیک سے آگے نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اسامہ بن لادن کو امریکہ نے پاکستان میں گھس کر مارا۔ بطور اتحادی ہر پاکستانی کیلئے یہ شرم کا مقام تھا کہ اس کا اتحادی اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے، ہم دوبارہ ایسی صورتحال نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ برابری کی سطح پر باوقار تعلقات ہوں۔اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ اگر آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں، ، پاکستان اوربھارت کوغربت جیسے چیلنجز کاسامناہے،بھارت کیساتھ کشمیرکاتنازع ہے،شروع سے کہتا آیا ہوں کہ افغان مسئلے کا حل جنگ میں نہیں ہے اور اب سب جانتے مسئلہ سیاسی مذاکرات سے حل ہوگا،افغان جنگ میں پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں، افغان طالبان امریکہ کیساتھ مذاکرات کررہے ہیں،بہت جلد امن معاہدہ کاامکان ہے،بھارت،افغانستان اورایران سمیت تمام ہمسایوں کیساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں، منگل کویہاں امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پیس کی جانب سے تقریب منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا اور 1970 کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے کرکٹ کھیل کر اس کے بعداسپتال بنایا لیکن بعد ازاں مجھے احساس ہوا کہ سیاست میں آئے بغیر پاکستان کو صحیح سمت نہیں دی جاسکتی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان بدعنوانی کی وجہ سے بد حالی کا شکار ہوا اور میری پارٹی کی بیناد ہی کرپشن کیخلاف ڈالی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ 15 سال تک میری جماعت میں کوئی نہیں تھا لیکن بعد ازاں لوگوں کو میری باتوں کا احساس ہوا اور ہم نے 2013 میں پہلی بار ایک صوبے میں حکومت بنائی۔انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں قیام امن کی خاطر اپنے ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، میں نے اپنے بھارتی ہم منصب سے کہا ہے کہ اگرآپ ایک قدم آگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم اٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آپ کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں پڑتے ہیں اگر چاہیں یا نہ چاہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ سے ملاقات کر کے ہمیں خوشی ہوئی۔پاکستان وزیراعظم نے کہا کہ 2001 سے 2013 تک پاک امریکہ تعلقات نہایت خراب رہے اوریہ بد ترین دورتھا۔عمران خان نے کہا کہ میں شروع سے کہتا آیا ہوں کہ افغان مسئلے کا حل جنگ میں نہیں ہے اور اب سب جانتے مسئلہ سیاسی مذاکرات سے حل ہوگا۔امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان زیادہ مدد نہیں کر رہا اور ہم سمجھتے ہیں پاکستان نے اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کیا ہے۔افغان جنگ میں پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان طالبان امریکہ کیساتھ مذاکرات کررہے ہیں،بہت جلد امن معاہدہ کاامکان ہے،افغانستان میں امن واستحکام کیلئے ہم سب ایک پیج پرہیں،پاکستان نے امریکہ کیساتھ مل کردہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی،افغانستان میں بدامنی سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کواٹھاناپڑا،بدامنی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاراورکرکٹ ٹیموں نے پاکستان آناچھوڑدیا،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے70ہزارجانیں قربان کیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے مہمان نوازی پرشکرگزارہوں،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی دعوت پرامریکہ آیاتھا، پاکستان اوربھارت کوغربت جیسے چیلنجز کاسامناہے،بھارت کیساتھ کشمیرکاتنازع ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان اہم کرداراداکررہاہے،بھارت،افغانستان اورایران سمیت تمام ہمسایوں کیساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں۔افغان مسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدارمیں آنے کے بعدکرنٹ اکاوَنٹ خسارے کاسامناتھا۔60کی دہائی میں پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ80کی دہائی کے بعد حکمرانوں کی کرپشن ملک کو نیچے لے گئی، ہم اقتدار میں آئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے حکمران اقتدار میں آنے کے بعد خود کو فائدہ دینے کا ہی سوچتے تھے، کرپشن کے ذریعے حکمران خود کو فائدہ پہنچانے کے چکر میں رہتے ہیں، ہمارے سیاستدان حکومت میں آکر پیسہ بنانے کو جائز سمجھنے لگتے تھے، اقتدار میں آئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا مسئلہ کرپٹ افراد کی منی لانڈرنگ کا ہے، منی لانڈرنگ کی وجہ سے ملک سے پیسہ باہر چلاجاتاہے، غربت اور ناخواندگی کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی منی لانڈرنگ ہے۔منی لانڈرنگ کے ذریعے حکمرانوں نے اپنے ادارے تباہ کردیئے، اداروں کو اس لئے تباہ کیا گیا تاکہ ان کی کرپشن پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے، آج سب سے بڑا چیلنج اداروں کو دوبارہ سے فعال بنانا ہے، کئی اداروں کو ہم نے بہتر بنایا مگر یہ طویل مدتی کام ہے۔ عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر نے ہمارے دل جیت لیے ہیں، ٹرمپ نے جس طرح سے خیرمقدم کیاوہ ہمارے لئے انتہائی خوشگوار تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے والدین نو آبادیاتی نظام کے دورمیں پیدا ہوئے تھے، میں آزاد پاکستان میں پیدا ہونے والی نسل سے ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے ہمیشہ یاد دہانی کروائی کی کہ نوآبادیاتی نظام میں رہنا کتنا مشکل تھا جہاں آپ ایک آزاد ملک میں نہیں رہتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ بہت فخر کی بات تھی جب پاکستان نے 60 کی دہائی کی میں تیزی سے ترقی کی، اس وقت پاکستان کی معیشت خطے میں تیز ترین تھی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی سے ہمیں امید ملی کہ اس ملک کی ایک منزل ہے لیکن 70 کی دہائی کے بعد پاکستان کے حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا بڑا مسئلہ غربت ہے ہم تجارت بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ 23 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار میں آیا تو مجھے لگاکہ میں سیاسی جماعتوں سینہیں بلکہ مافیاسینبردآزماہوں، پچھلی دو حکومتوں نے ریکارڈ قرضے حاصل کیے، گزشتہ 10سالوں میں قرضہ 6ٹریلین سے 30ٹریلین پرپہنچ گیا، جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ دونوں پارٹی کہتی ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔پاکستانی میڈیا کو برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے یہاں تک کے میڈیا بے قابو بھی ہوجاتا ہے، پاکستان جیسا میڈیا دنیا میں کہیں نہیں،میں خودا?زاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، ہم حکومت کے طور پر میڈیا کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے بلکہ واچ ڈوگ کے ذریعے اسے قابو کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں 70 سے 80 ٹی وی چینلز ہیں جس میں سے 3 چینلز کہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے۔میڈیا کا کام ذاتی حملے کرنا نہیں ہے، میڈیا اپوزیشن کرے لیکن بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے، جب میڈیا مالکان سے ان کی ا?مدنی اور ٹیکس کا سوال کریں تو وہ کہتے ہیں یہ ا?زادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے لیکن سنسر شپ عائد نہیں کریں گے۔
عمران خطاب

واشنگٹن(اظہر زمان /بیورو رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شکیل آفریدی اور عافیہ صدیقی کے تبادلے پر امریکا سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی فا کس نیو ز کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شکیل آفریدی کا درجہ پاکستان میں جاسوس کا ہے۔اسامہ بن لادن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے اتحادی تھے، اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں پاکستان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ صاف گو انسان لگے جو لفظوں کی ہیرا پھیرا نہیں کرتے، میرا پورا وفد بھی میٹنگ سے بہت خوش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام 4 دہائیوں سے خانہ جنگی سے متاثر ہیں، افغانستان کو امن کی ضرورت ہے، طالبان کوحکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمائندگی ملنی چاہیے، طالبان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات اب تک کامیاب ترین مذاکرات رہے ہیں، طالبان ایک مقامی تحریک ہے، وہ کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں، امریکا کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ حل نہ ہوا تو داعش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے بڑا خطرہ بن جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، ایران کے مسئلے پر مصالحت کے حق میں ہیں اور اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، جنگ سے پہلے ہی خطہ متاثر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیار ترک کر دے تو پاکستان بھی ایٹمی ہتھیار ترک کردے گا۔ کیو نکہ ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ خطہ جنگوں سے پہلے ہی متاثر ہے۔عمران خان نے کہا کہ 'پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کرا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 72 سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت مہذب ہمسائے کی طرح رہ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلح افواج پیشہ ور اور ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، پاکستان کا انتہائی جامع اور موثر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکا شکیل آفریدی کی بات کرتا ہے تو ہم عافیہ صدیقی کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے، قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں امریکا سے بات ہو سکتی ہے۔خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی رہے ہیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ ہمسایہ ملک میں بدامنی سے براہ راست پاکستان پر اثرپڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلو میٹر طویل سرحد ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن لانے کی کوششوں پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر پیش رفت ہوئی، طالبان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات اب تک کے کامیاب ترین مذاکرات رہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو حکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمائندگی ملنی چاہئے، افغان طالبان افغانستان کے باہر کارروائیاں نہیں کرتے۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے چار دہائیوں تک افغانستان میں جنگ لڑی، مگر افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکا، گزشتہ 19 برس کے دوران امریکا نے افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کیا ہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ داعش پاکستان، امریکہ اور افغانستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان امریکی سرماریہ کاروں کو پاکستان میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی بزنس ایگزیکٹو کے وفد نے ملاقات کی۔ پاکستانی سفارت خانے میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے م

مزید :

صفحہ اول -