چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک ووٹنگ کی بجائے بحث کیلئے مقرر کرنے پر اجلاس ملتوی، قائد ایوان کا خیر مقدم

  چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک ووٹنگ کی بجائے بحث کیلئے مقرر کرنے پر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ٍٍ اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد سینٹ میں پیش کر دی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پر رائے شماری کی بجائے صرف بحث خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ بحث سے متعلق چیئرمین سینٹ نے اپنے خلاف قرار داد کا ایجنڈا آئٹم لے لیا ہے۔ بحث میں اپوزیشن کے انکار پر اجلاس کی کارروائی صرف 6 منٹ چل سکی۔ اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ارکان کی رخصت کی درخواستیں نمٹائیں۔ بعد ازاں ایجنڈا ٹو کے تحت اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کو بحث کے آغاز کی دعوت دی۔ ایجنڈا آئٹم ٹو چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کی قرار داد تھی۔ سینیٹر راجا ظفر الحق نے قرار داد پیش کی اور کہا کہ ہم نے چیئرمین سینٹ کے بارے میں عدم اعتماد کی قرار داد پر بحث اور ووٹنگ کرانے کی درخواست کی تھی جس پر اعتراض لگ گیا اور اب اس قرار داد کو قاعدہ 281 کے تحت بحث کیلئے رکھ دیا گیا اس لیے ہم اس میں شرکت نہیں کر سکتے۔ یکم اگست تک اجلاس ہو گا جس میں رائے شماری ہو گی۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے اپوزیشن لیڈر کے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سے سینیٹ کا وقار اور روایت برقرار رہے گی۔ اپوزیشن لیڈر کے بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اس اہم اجلاس سے متعلق رولنگ کا آپریٹنگ پارٹ پڑھا کہ سینٹ سیکرٹریٹ کو ہدایت کرتا ہوں کہ اجلاس میں تاخیر کو روایت نہ بنایا جائے طریقہ کار روایت رولنگ قاعدہ 12 پر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے صدارتی فرمان پڑھا جس کے تحت اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا کارروائی 6 منٹ ہو سکی۔اپوزیشن نے اجلاس میں "اکبراللہ"کے نعرے بھی لگائے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دی کہ میں اپنے لئے نہیں سینیٹ کی بقاء، آئین، قواعد اور چیئرکی رولنگ کی بالادستی کی جدوجہد کر رہا ہوں، افراد آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ادارے، آئین، قواعد، روایات قائم رہتی ہیں، میں چاہے اس کرسی پر رہوں یا نہ رہوں لیکن اس ہاؤس کے ممبر کے طور پر بھی پارلیمان کے وقار اور آئین، قواعد اور چیئر کی رولنگ کی تکریم کو بحال رکھنے کیلئے،نتائج کی پرواہ کئے بغیر، ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا،چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے  تقدس اور غیر جانبداری  کے حوالے سے حالیہ منفی پروپیگنڈے کا نقصان چیئرمین سینیٹ کے غیر جانبدار عہدے کو پہنچ رہا تھا، اپوزیشن کی تحریک ملنے کے بعدمیں نے وزارت پارلیمانی امور کوصدر مملکت کو سمری بھجوانے کیلئے  خط لکھا، میں نے اپنے ضمیر کے مطابق کام کیا، کیونکہ  میں سینیٹ کو کمزور کرنے اور چیئرمین سینیٹ کی کرسی کو متنازعہ بنانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانا چاہتا تھا،میں اس کرسی پر صرف اپنے صوبے کا نمائندہ نہیں بلکہ تمام وفاقی اکائیوں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہوں۔چیئرمین سینیٹ نے  اپوزیشن لیڈر کے مطالبے  پر  سینیٹ کاریکوزیشن اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔سینیٹ میں متحدہ حزب اختلاف کے مشاوتری اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ظفر الحق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے معاملے پر کوئی سودے بازی نہیں کرینگے۔ انہیں ہر صورت جانا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں 63 ارکان سینیٹ شریک ہوئے۔ سینیٹ سے متعلق تمام معاملات میں آئینی کردار ادا کرینگے۔ آئین اور قانون کی کسی کو بھی روگردانی نہیں کرنی چاہئے۔ میڈیا کے استفسار پر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اپوزیشن کا کوئی سینیٹر نہیں بکے گا نہ بکا ہے۔ چیئرمین کو ہٹانے کے لئے کسی سے کوئی سودے بازی نہیں کرینگے۔ ہم آئین اور قانون کی پاسداری پر یقین  رکھتے ہیں۔ 
سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -