واشنگٹن میں ”مذہبی آزادی سمٹ“ میں پاکستان سے کیا گیا مطالبہ سنگین مسئلہ ہے، اشرف جلالی

واشنگٹن میں ”مذہبی آزادی سمٹ“ میں پاکستان سے کیا گیا مطالبہ سنگین مسئلہ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نمائندہ خصوصی)تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا پاکستانی وزیر اعظم کے دورے سے ایک دن پہلے واشنگٹن میں ”مذہبی آزادی سمٹ“ کا انعقاد اور اس میں پاکستان سے کیا گیا مطالبہ ایک سنگین معاملہ ہے۔”مذہبی آزادی سمٹ“میں امریکی نائب صدر مائیک پینس نے پاکستان سے توہین مذہب کے مجرم جنید حفیظ کی رہائی کا مطالبہ کر کے امریکی خطرناک عزائم کا راز فاش کر دیا ہے اسی کانفرنس میں امریکی نائب صدرنے سعودی حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلاگر ایف باداوی کو رہا کریں جس نے 2014میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کومجروح کیا تھا۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکہ دنیا بھر کے گستاخوں کو اپنی چھتری میں پناہ دینا چاہتا ہے۔

۔امریکہ کی طرف سے توہین رسالت اور توہین مذہب کے مجرموں کی پشت پناہی کا سلسلہ امت مسلمہ کیلئے شدید ناگوار ہے۔پہلے مغرب نے سلمان رشدی،تسلیمہ نسرین،ٹیری جونز اور آسیہ ملعونہ جیسے کتنے گستاخوں کو پناہ اور پروٹوکول دے کر امت مسلمہ کو حد درجہ کی اذیت پہنچائی ہے۔امریکی اور یورپی اقدامات سے تہذیبیں تصادم کے دھانے پر پہنچ چکی ہیں۔خدانخواستہ اب اگر جنگ عظیم ہوئی تو وہ ناموس رسالت کے مسئلہ پر ہوگی۔انہوں نے کہا پاکستانی وزیر اعظم کے دورے سے ایک دن پہلے امریکی نائب صدر کا پاکستان سے ایک مبینہ گستاخ کی رہائی کا مطالبہ اپنے اندر بہت سے خطرات سمیٹے ہوئے ہے۔اگر وزیر اعظم نے ختم نبوت ﷺاور نا موس رسالت ﷺکے لحاظ سے کوئی خفیہ ڈیل کی تو قوم اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور یہ وزیر اعظم کا آخری دورہ امریکہ ہوگا۔