اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں تعمیراتی کام کیخلاف وی سی سمیت فریقین سے جواب طلب

اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں تعمیراتی کام کیخلاف وی سی سمیت فریقین سے جواب ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں تعمیراتی کام کے خلاف دائررٹ پر وائس چانسلر سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا، گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ درخواست گزار نورالحق کی جانب سے عباس خان سنگین ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ نئے تعمیراتی کام سے کالج کی عمارت کو نقصان پہنچ رہا ہے، اسلامیہ کالج قومی ورثہ ہے اور ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے، اس میں تعمیراتی کام سے ورثہ کو نقصان کا اندیشہ ہے،اس موقع پر جسٹس اکرام اللہ خان نے ریمارکس دیئے کہ کالج میں بچوں کیلئے جگہ نہیں،اگر تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا، تو بچے کہاں بیٹھیں گے؟درخواست گزارکے وکیل نے کہا کہ100 سال گذرنے کے بعد ایک عمارت کوقومی ورثہ قرار دیا جاتا ہے تاہم اسلامیہ کالج کو کھدائی کرکے کھنڈر بنا دیا گیا ہے، تعمیراتی کام اور کھدائی سے کالج کی قدرتی خوبصورتی بھی متاثر ہوئی ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ وی سی کیلئے رہائشگاہ سمیت دس بلاک بن رہے ہیں، جس میں کمیونٹی سنٹر، جم، آئی ٹی بلاک، سوشل سائنس بلاک وغیرہ تعمیرکیے جارہے ہیں۔وکیل کیمطابق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ اسلامیہ کالج کیلئے ڈونیٹ کردیا تھا جسے 2008 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔تعمیراتی کام سے اس تاریخی عمارت کا نہ صرف حسن تباہ ہوجائے گا بلکہ ٹریفک، سیوریج اور رش کے مسائل بھی درپیش ہوں گے۔سیکرٹری سپورٹس، ٹوارزم اینڈآرکیالوجی کیجانب سے 26 فروری 2013 کوجاری اعلامیہ میں اسلامیہ کالج کو قومی ورثہ قراردیاگیا تھالہذا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی جبکہ22 اپریل2019 میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزم نے بھی عمارت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کاخط جاری کیا تھا وکیل عباس سنگین نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلامیہ کالج میں تعمیراتی کام کے خلاف حکم امتناعی جاری کی جائے عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وی سی اسلامیہ کالج اور دیگر متعلقہ حکام سے کمنٹس مانگ لیے۔ درخواست میں وی سی اسلامیہ کالج،صوبائی حکومت، ہائیرایجوکیشن اور وائس چانسلراسلامیہ کالج کو فریق بنایا گیا ہے۔