خود کو تحریک انصاف کا عہدیدار بتا کر کراچی میں ایک شخص نے دو نوجوان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر جسم فروشی کیلئے بیچ دیا لیکن وہ شخص کون ہے ؟ افسوسناک خبر آ گئی

خود کو تحریک انصاف کا عہدیدار بتا کر کراچی میں ایک شخص نے دو نوجوان لڑکیوں کو ...
خود کو تحریک انصاف کا عہدیدار بتا کر کراچی میں ایک شخص نے دو نوجوان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر جسم فروشی کیلئے بیچ دیا لیکن وہ شخص کون ہے ؟ افسوسناک خبر آ گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں 2 لڑکیوں کو گھریلو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر انہیں فروخت کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان سامنے آگئے، تاہم پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے۔روزنامہ جنگ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں قیوم آباد کے رہائشی محنت کش اسرار حسین کے گھر پر اس کی پڑوسن صوفیہ اپنے ساتھ اسرار عباسی اور اس کی اہلیہ انعم کو لائی اور اسرار حسین کی دونوں بیٹیوں کو ڈیفنس میں ملازمت کا جھانسہ دے کر اپنے ہمراہ لے گئی۔ابتداءمیں لڑکیوں کے اہل خانہ کو 20 ہزار روپے ایڈوانس تنخواہ بھی دے دی گئی تاہم بعد میں وہ نہیں ہوا جو بتایا گیا تھا۔ملزم اسرار نے خود کو پاکستان تحریک انصاف کا عہدے دار بتا کر غریب خاندان کو ڈرا کر رکھا اور 6 ماہ تک دونوں بہنوں کو اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا۔ایک متاثرہ لڑکی کے مطابق ملزم اسرار عباسی اور انعم نے بڑی بہن کو سہراب گوٹھ میں افغانی شہری کے پاس 3 لاکھ روپے میں بیچ دیا، جبکہ اسے زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔اس دوران لڑکیوں کے اہل خانہ پولیس کے پاس چکر کاٹتے رہے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔لڑکیوں کے ماموں کے مطابق ان کی بھانجی زاہدہ کا فون آیا جس نے بتایا کہ وہ سہراب گوٹھ میں رہ رہی ہے، جس پر مدینہ کالونی تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا، جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر لڑکی کو بازیاب کرایا اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔5 جولائی کو دوسری لڑکی شبینہ نے اپنے والد کو فون کیا اور بتایا کہ اسے ڈیفنس کے ایک گھر میں رکھا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کراچی کے ترجمان کے مطابق اسرار عباسی نامی شخص کے پاس ماضی میں پارٹی عہدہ ضرور تھا تاہم اب اس کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے اور وہ پچھلے 5 سال سے پارٹی کی سرگرمیوں میں بھی پیش نہیں ہو رہا ہے۔اصل ملزمان اسرار عباسی، انعم اور صوفیہ اب تک مفرور ہیں جبکہ متاثرہ لڑکیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ یہ پھر کسی کا گھر برباد نہ کر سکیں۔