میئرصاحب،مسائل حل نہیں کرسکتے توآپ کاکیافائدہ؟آپ توبڑے اطمینان میں دکھائی دے رہے ہیں،جسٹس گلزار احمد کا وسیم اختر سے مکالمہ، سیکرٹری سندھ کو اجلاس بلانے کا حکم

میئرصاحب،مسائل حل نہیں کرسکتے توآپ کاکیافائدہ؟آپ توبڑے اطمینان میں دکھائی ...
میئرصاحب،مسائل حل نہیں کرسکتے توآپ کاکیافائدہ؟آپ توبڑے اطمینان میں دکھائی دے رہے ہیں،جسٹس گلزار احمد کا وسیم اختر سے مکالمہ، سیکرٹری سندھ کو اجلاس بلانے کا حکم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کے الیکٹرک اورشہری حکومت میں بلوں کی ادائیگی کاتنازع پر چیف سیکرٹری سندھ کو کل اجلاس بنانے کا حکم دیدیا،عدالت نے سندھ حکومت کے متعلقہ افسران کو میئر کراچی کے تحفظات سننے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں میئر،سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری فنانس بھی شریک ہوں،کل مل کر بیٹھیں اور شکایات سنیں،عدالت نے وسیم اختر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میئرصاحب،مسائل حل نہیں کرسکتے توآپ کاکیافائدہ؟آپ توبڑے اطمینان میں دکھائی دے رہے ہیں،بلوں کامعاملہ حل کراناہماراکام ہے؟پھروزیراعلیٰ کوکہتے ہیں خودحل نکالیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بنچ نے بلوں کی عدم ادائیگی پر کے ایم سی کیخلاف کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت کی،میئر وسیم اختر، سیکرٹری بلدیات اور کے الیکٹرک حکام سپریم کورٹ رجسٹری میں پیش ہوئے،سپریم کورٹ میں میئروسیم اختر نے اختیارات نہ ملنے کی شکایات کی،سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ کے ایم سی کے افسران بھی میٹنگ میں نہیں آتے، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ میئر ہیں عوام کے نمایندے ہیں، آپ کے پاس کیوں چل کر آئیں، سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ میں خودمیئر کے پاس جانے کوبھی تیارہوں،وسیم اختر نے کہا کہ میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، ہر روز دباؤ میں سوتا ہوں، جب اختیار نہیں دینے تو الیکشن کیوں کرائے گئے؟ جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت کے افسران سے استفسار کیاکہ میئر کراچی کوکیوں اختیار نہیں دیتے، سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ قانون کے مطابق سب اختیار میئرکو ہیں،ہم ان کی شکایات دور کرنے کےلئے بلاتے ہیں آتے نہیں، وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ کے ایم سی کو 58 کروڑروپے ادا کرنے ہیں،حکومت سندھ نے کہا کہ کے ایم سی کو بلز کی ادائیگی کیلئے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں، اگست میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے ادا کردیں گے،وسیم اختر نے کہا کہ کے الیکٹرک نے کے ایم سی کو 7ارب روپے ادا کرنے ہیں، بجلی پول اور کیبل کی مد میں کے الیکٹرک کو 7 ارب روپے دینے ہیں،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کے الیکٹرک والے تو غیرملکی ہیں،ان کا کاروبار ہے، منافع نہیں ملا تو چلے جائیں گے، کاروباری کمپنی مفت بجلی کیوں دے گی، عدالت نے چیف سیکرٹری کومعاملے پرکل اجلاس بلانے کاحکم دیدیا،عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ میئرکراچی، سیکرٹری بلدیات وفنانس بھی شریک ہوں،اجلاس بلاکربلوں کی ادائیگی کاحل نکالاجائے،عدالت نے وسیم اختر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میئرصاحب، مسائل حل نہیں کرسکتے توآپ کاکیافائدہ؟آپ توبڑے اطمینان میں دکھائی دے رہے ہیں،بلوں کامعاملہ حل کراناہماراکام ہے؟جسٹس گلزاراحمد ،پھروزیراعلیٰ کوکہتے ہیں خودحل نکالیں،سپریم کورٹ نے مزید سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔