لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیخلاف نیب انکوائری کیلئے درخواست گزار کے اعتراض پر فیصلہ محفوظ کرلیا

لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیخلاف نیب انکوائری کیلئے درخواست ...
لاہورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیخلاف نیب انکوائری کیلئے درخواست گزار کے اعتراض پر فیصلہ محفوظ کرلیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف نیب انکوائری کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے اعتراض پر فیصلہ محفوظ کرلیا،درخواست گزار نے رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست ڈویژن بنچ کے روبرو لگانے پر اعتراض اٹھا تے ہوئے موقف اپنایا کہ دیگر کیسز بھی سنگل بنچ کے پاس زیر التوا ہیں،عدالت یہ درخواست بھی سنگل بنچ کے پاس سماعت کیلئے بھیجے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔اے کے ڈوگر نے درخواست میں نیب،وفاق، پرویز خٹک، فردوس عاشق اعوان،وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ محمود خان اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 25 کے تحت قانون سب کے لیے برابر اور سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ چیئرمین نیب کے پاس مخصوص افراد کے احتساب کا کوئی اختیار نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے لیکن نیب کارروائی نہیں کر رہا،سابق وزیر اعلی پرویز خٹک پر اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے لیکن نیب خاموش ہے، وزیر اعلی خیبر پختوانخواہ محمود خان اور سینیٹر محسن عزیز پر مالم جبہ لیز کیس میں ہیر پھیر کا الزام لیکن نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی غضنفر عباس چھینہ پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام لیکن نیب خاموش ہے۔ استدعا ہے کہ عدالت آرٹیکل 25 کے تحت مندرجہ بالا تمام سیاستدانوں کے خلاف نیب کو کارروائی کا حکم دے۔