سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود حکومت نے 5 بل منظور کرالئے

سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود حکومت نے 5 بل منظور ...
سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود حکومت نے 5 بل منظور کرالئے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود حکومت نے 5 بل منظور کرالئے،اپوزیشن کے ارکان شور شرابا کرتے رہے اور انہوں نے بلز کی بھرپور مخالفت کی،سپیکر سندھ اسمبلی آ غا سراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے جلاس میں عارف جتوئی نے دوران سوال جواب کورم کی نشاندھی کی جس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ کورم کے لیئے ایس اوپیز کے تحت فیصلہ ہوچکا ہے کورم کی نشاندھی نہیں ہوسکتی آپ بیٹھ جائیں،آغا سراج درانی نے کہا کہ اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو عدالت جائیں۔

وقفہ سوالات کے دوران فنکشنل لیگ کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ تعلیم کا کوئی وزیر پانچ سال مستقل نہیں مل رہا،کوئی وزیر مستقل نہیں جو وزیر آتا ہے کریں گے کریں گے اس سے آگے کچھ ہوتا نہیں،1.5 ملین بچوں کا ڈیٹا نہیں گھر میں بجلی نہیں نیٹ نہیں ہمارے بچے رو رہے ہیں،ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم نہیں دی جاتی ہے،ایک وزیر چند ماہ کے لیے آتا ہے,اس کے بعد نئے وزیر کو کچھ پتا نہیں ہے،تعلیم کے وزیر مراعات لے رہے ہیں،تعلیم کے لیے کچھ نہیں ہورہا ہے،نثار کھوڑو اور سردار شاہ نے بھی کچھ نہیں کیا،اگر آپ کے پاس ڈاکیومنٹ نہیں ہیں تو پھر کیوں سوال پوچھتے ہیں،کیا آپ کو سندھی میں سمجھاوں۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سیکنڈری سکول کم ہیں او پانچ ہزار سکول بند کرنے کی بات ہوئی، سندھ میں ایسے سٹرکچر بنائے گئے ہیں جو دو تین مہینوں میں گر گر جاتے ہیں۔

رکن سندھ اسمبلی ایم ایم اے سید عبدالرشید نے تحریک استحقاق پیش کی،شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری کے پی آر او عزیر رستم عرف عزیر لعل نے میرے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا ہے،مذکورہ فرد سرکاری ملازم اور معطل بھی ہیں حکومت کی جانب سے کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا،کلثوم چانڈیو،غلام قادر چانڈیو راجہ اظھر راجہ رزاق پر سمیت چار رکنی کمیٹی قائم کردی،کمیٹی اگلے پیر تک رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔ گورنر سندھ نے سات بل منظور کیئے ،سپیکر کی ایوان کو آگاہی،سندھ تدریسی اسپتال مینیجمنٹ بورڈ کے قیام بی ایچ یو ایچ آر سی اور عمودی پروگرام سیکنڈری ہیلتھ پر سٹیڈنگ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کیا گیا، ایوان نے تدریسی اسپتال مینیجمنٹ بورڈ کے قیام کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا،سندھ اویکیو ٹرسٹ پراپرٹیز مینیجمنٹ اینڈ ڈسپوزل 2019 اور سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن پرزرویشن کنزرویشن اینڈ مینیجمنٹ بل 2020 ایوان میں متعارف کرایا گیا،بل سٹنڈنگ کمیٹی کے حوالے پیر کے روز ایوان میں پیش کیا اور منظوری لی جائے گی، ضیا الدین میڈیکل یونیورسٹی ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا گیا،بل کے مطابق ضیاالدین یونیورسٹی اپنے بیرون ملک کیمپس قائم کرسکے گی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بل پاس کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر کی ڈوب مرو ڈوب مرو شرم کرو کی نعرے بازی کی گئی،حکومتی بنچ نے اکثریت رائے سے بل پاس کرلیا،: سرکاری بلوں پر اپوزیشن کا ہنگامہ کیا،جبکہ نصرت سحر مسلسل اعتراض اٹھاتی رہی۔سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ سندھ بورڈس آف انٹرمیڈییٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکین ترمیمی بل 2020 ایوان میں متعارف کرایا گیا،ون اے کے تحت بورڈ کو بلا امتحان جاری تعلیم سال کے لیئے بچوں کو سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کا اجرا کیا جاسکے گاٹریزی بنچ نے بل کو اکثریت رائے سے منظور کرلیا اپوزیشن کا شدید احتجاج جاری اور نعرے بازی کی گئی،نصرت سحر عباسی نے بلوں کی کاپیاں پھاڑ دی۔ا یجوکیشن سٹی ترمیمی بل 2020 بھی اسمبلی میں متعارف کرادیا گیااین ای ڈی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالاجی کراچی ترمیمی بل 2020 بل بھی ایوان میں متعارف کرایا گیا،ٹریزری بنچ نے دونوں ترمیمی بل اپوزیشن کے شور شرابے میں اکثریت رائے کے ساتھ منظور کرلئے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور نعرے بازی میں حکومت نے دونوں بل منظور کرلئے سپیکر نے اجلاس آج  جمعہ تک ملتوی کردیا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -