چیئرمین نیب سے استعفے کا مطالبہ

چیئرمین نیب سے استعفے کا مطالبہ

  

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے تند و تیز لہجے اور انتہائی شدید الفاظ میں نیب کے چیئرمین جناب جسٹس(ر) جاوید اقبال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔(ان کے الفاظ کے انتخاب کی داد نہیں دی جا سکتی، بلکہ ان پر اظہارِ افسوس کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا)۔سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے حال ہی میں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواست پر 87صفحات پر مشتمل جو فیصلہ جاری کیا ہے،اس کے حوالے سے جناب بلاول نے کہا کہ نیب ایک انتقامی ادارہ ہے،اسے تالہ لگا دینا چاہئے۔نیب کا قانون کالا قانون ہے اسے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا (رہا) ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلا تفریق احتساب کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے قانون سازی کرنی چاہیے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے بھی نیب پر تنقید کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ احتساب کا نیا ادارہ بنایا جائے، اور موجودہ نیب کو تالا لگا دیا جائے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی اور جمعیت العلمائے السلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی کم و بیش انہی جذبات کا اظہار کیا ہے،جبکہ حکمران جماعت کے زعما کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی لوٹ مار کے بارے میں ان سے سوال نہ کر سکے۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ بلاول کو نیب پر نہیں، چوری اور ڈاکہ زنی کے بارے میں سوال پوچھنے پر اعتراض ہے۔عمران خان نے ”رائے ونڈ“ اور سندھ کے چوروں سے بیک وقت قوم کی جان چھڑائی ہے۔ سارے چور مل کر احتساب سے بچنے کے لیے زور لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس کے بعد ردعمل کا اظہار یوں کیا کہ بلاول اور ان کے والد ِ محترم کو اپنی کرپشن کا حساب دینا پڑے گا۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ بلاول اور ان کے ساتھی بچ نہیں پائیں گے۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے بقول سندھ حکومت ماضی کی طرح آج بھی کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے جانی، مانی اور گردانی جاتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اپنی ناکامی کا ملبہ نیب اور (وفاقی)حکومت پر ڈال رہے ہیں۔

جناب بلاول سمیت اپوزیشن رہنماؤں کا نقطہ نظر واضح ہے، اور حکومتی ارکان کے جوابی حصوں کے خدوخال بھی چھپے ہوئے نہیں ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ نیب اس وقت جن مقدمات کی پیروی(یا چھان بین) کر رہا ہے،ان میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماؤں کو اولیت حاصل ہے۔ تحریک انصاف کا کوئی بڑا رہنما اس کے ریڈار پر نظر نہیں آتا،جن چند لوگوں کو برسوں پرانے معاملات میں ہدف بنایا گیا،انہیں بھی ریلیف مل چکا ہے۔اس پس منظر میں بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی تنقید کو دیکھا جائے تو اسے غیر جانبدارانہ قرار دینا مشکل نظر آئے گا، لیکن یہی بات اس تاثر کو بھی گہرا کر رہی ہے کہ نیب سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کر رہا۔برسر اقتدار جماعت کے ساتھ رعایت برتی جا رہی ہے۔تحریک انصاف کے ذمہ داروں نے بلاول بھٹو زرداری اور ان کے ہم نواؤں کو جو الزامی جوابات دیے ہیں، ان میں جتنا بھی وزن ہو، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس تناظر میں حالات کا جائزہ لینا ممکن نہیں رہتا۔ سپریم کورٹ نے نیب کی برسوں کی کارکردگی کا جو جائزہ لیا ہے،اسے سامنے رکھا جائے تو اس ادارے کو جنم دینے والے اور اس کے اختیارات کا تعین کرنے والے قانون پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

نیب کے موجودہ چیئرمین پر غم و غصے کا جو بھی اظہار کیا جائے،اِس بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ان کا تقرر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد حزبِ اختلاف جناب خورشید شاہ کے ساتھ اتفاق رائے سے کیا تھا۔ان دونوں جماعتوں نے جبکہ انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل تھی،اور وہ دستور اور قانون میں اپنی پسند کی تبدیلی کر سکتی تھیں،ایک دوسرے کو زچ کرنے کے لیے نیب قانون کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔اب ان کے پاس ”ویٹو“ نہیں رہا۔ایک تیسرا(بلکہ بڑا) فریق تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کی صورت میں سامنے آ چکا ہے،جس کی شراکت کے بغیر احتساب کے حوالے سے نہ کوئی نئی قانون سازی ممکن ہے، نہ پرانے قانون میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

نیب کے چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا طریق کار قانون نے طے کر رکھا ہے،اس لیے ان سے مستعفی ہونے کی امید نہیں لگائی جا سکتی۔ سیاسی رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیانات اور مطالبات کے ذریعے بھڑاس نکالنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی طرف بھی توجہ دیں گے۔تحریک انصاف آج حکومت میں ہے،لیکن کل اسے اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسے وقتی سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نیب قانون کا جائزہ لینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔چیئرمین نیب کو گرفتاریوں کا جو اختیار حاصل ہے اسے محدود کیا جا سکتا ہے۔نیب کے دائرہ عمل کی حدود کے تعین میں جو خلا ہیں،انہیں پُر کیا جا سکتا،اور کرپشن کی واضح تعریف کر کے راہِ عمل بھی متعین کی جا سکتی ہے۔اگر فہم و فراست سے کام نہ لیا گیا تو پھر کل ان کو بھی کف ِ افسوس ملنا پڑے گا، جو آج خوشی سے تالیاں بجا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -