سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ کی نظر!

سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ کی نظر!

  

عدالت عظمےٰ نے سوشل میڈیا پر غیر مہذب اور غیر اخلاقی مواد کا نوٹس لیا اور کہا ہے کہ اس پر جو ہو رہا وہ برداشت کی حد سے گذر گیا ہے۔ فاضل عدالت کی آبزرویشن یہ بھی تھی کہ یو ٹیوب پر ریاست، عدلیہ اور فوج کے خلاف مہم جاری ہے۔ مسٹر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اس میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا، مزید یہ بھی رائے دی کہ فاضل عدالت کو اظہار رائے کی آزادی سے کوئی تعرض نہیں، فیصلے پر بات بھی ہو سکتی ہے، لیکن دشنام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ فاضل عدالت نے جو بھی آبزرویشنز دی ہیں۔ان سے اختلاف یوں ممکن نہیں کہ آئین میں اظہارِ رائے کی آزادی کی حدود متعین ہیں، صحافی اگر آزادیئ صحافت کے لئے پُرعزم ہیں اور اس کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ خود کو ضابطہ اخلاق کا پابندبھی سمجھتے ہیں۔فاضل عدالت کی یہ رائے بھی تسلیم شدہ ہے کہ فیصلے پر تنقید ہو سکتی ہے،(احتیاط اور آداب کے ساتھ) اس سے اختلاف کا اظہار کیا جا سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر جو ہو رہا ہے، اس کا علاج اس پر بندش نہیں، بلکہ اس پر قواعد و ضوابط کا نفاذ ہے۔صحافتی تنظیموں، وکلاء اداروں، اور سول سوسائٹی پر لازم ہے کہ اچھی طرح غور کر کے علاج ڈھونڈا جائے۔پابندی کوئی مسئلہ حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر دے گی،جس میں بین الاقوامی سطح پر اعتبار اور وقار کا مسئلہ سرفہرست ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -