ترک عدالت کا تاریخی فیصلہ

ترک عدالت کا تاریخی فیصلہ

  

بانگ درا کی نظم بلاد اسلامیہ میں علامہ اقبال نے قسطنطنیہ کا ذکرکیا ہے۔ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامہ میں آیا صوفیہ کی عظیم الشان عمارت کا ذکر کیا ہے۔اسلام کی گمشدہ تاریخ میں فراس الخطیب نے مسجد قرطبہ اور مسجد آیا صوفیہ کی اعلی طرز تعمیر کی تعریف کی ہے۔جرمن تاریخ دان گومبرچ نے بھی اس مسجد کی عظیم عمارت کا ذکر کیا ہے۔ایچ جی ویلز نے بھی مسجد کی چھت کی خوبصورتی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر آج کل خلافت عثمانیہ اور ترک تاریخ پڑھنے کا خوب موقع مل رہاہے۔اس کا آغاز ڈرامہ ارطغرل نے کیا تھا۔ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پر بھی بیشمار پیج بن گئے ہیں۔ یو ٹیوب چینل کھل گئے ہیں۔ کالم جوابی کالم لکھے جا رہے ہیں۔ ڈرامہ ارطغرل کے اداکار مختلف کمپنیوں کے برانڈ ایمبیسیڈر بن رہے ہیں اور وہ عنقریب پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔ترکی کے ساتھ پاکستان کے روابط مثالی ہیں۔ماضی میں دونوں ممالک مختلف شعبوں اور قدرتی آفات کی صورت میں ایک دوسرے کا سا تھ دیتے آئے ہیں۔اور بیسویں صدی کے آغاز میں چلنے والی تحریک خلافت سے تاریخ کے تمام طالب علم بخوبی آگاہ ہیں۔

قوموں کی تاریخ میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں۔اور یہ فقرہ کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مسجد آیا صوفیہ کی بابت درست ہے۔سلطنت عثمانیہ کسی وقت میں یورپ تک حکومت کرتی تھی۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، اپنے لوگوں کی بغاوتوں اور غیروں کی سازشوں کے نتیجے میں یہ سلطنت آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔آخری خلیفہ کو جس طرح ذلت آمیز طریقے سے ملک بدر کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔تاریخی طور پر قسطنطنیہ میں اس جگہ 360ء میں ایک لکڑی کا بنا ہوا کلیسا تعمیر کیا گیا تھا۔یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول (Justinian 1) ) کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً ایک ہزار سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (مشرقی رومی سلطنت) کا دارالحکومت بھی تھا۔ ماہرین بحیرہ روم کے پار سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اشیا ء لائے تھے۔اس وقت یہ دنیا کی سب سے زیادہ جگہ رکھنے والی اور پہلی مکمل محراب دار چھت رکھنے والی جائے عبادت تھی۔اسے بازنطینی فن تعمیرکا نچوڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر سے سیفن تعمیر کی تاریخ بدل گئی۔اس کی تعمیر پانچ سال دس مہینے میں مکمل ہوئی۔ دس ہزار معمار اس کی تعمیر میں مصروف رہے اور اس پر دس لاکھ پاؤنڈ خرچ آیا۔ اس کی تعمیر میں قیصر نے دنیا کے متنوع سنگ مرمر استعمال کیے، تعمیر میں دنیا کے خاص مصالحے استعمال کیے گئے۔

مشہور انگریز مؤرخ ایڈورڈ گبن نے اپنی کتاب Decline of the roman(empire) میں بھی قسطنطنیہ کی فتح کا ذکر کیا ہے۔ ترکی میں خلافت کا دور ختم ہونے کے بعد مصطفے کمال اتاترک نے جدیدیت کے نام پر اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ تقریباً 85 سال بعد موجودہ ترک حکومت نے عدالتی فیصلے کے تحت اس میوزیم کو مسجد کا درجہ دیا ہے۔ ترکی کی سب سے اعلیٰ انتظامی عدالت، کونسل آف سٹیٹ نے 10 جولائی کو اپنے فیصلے میں لکھا "ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تصفیے کی دستاویز میں اسے مسجد کے لیے مختص کیا گیا لہذا قانونی طور پر اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1934ء کا کابینہ کا فیصلہ جس میں اس عمارت کے مسجد کے کردار کو ختم کر کے میوزیم میں تبدیل کیا گیا وہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔"صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ آیا صوفیا کے دروازے مقامی و غیر ملکی، مسلم و غیر مسلم کے لیے کھلے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ بنی نوع انسان کا ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت کے ساتھ ہرکسی سے بغلگیر ہونے، کہیں زیادہ مخلصانہ ماحول کے ساتھ اپنے وجود کو جاری رکھے گا۔ جناب ایردوان نے استنبول کے فاتح سلطان محمد کی جانب سے سن 1453ء میں فتح کیے جانے کے بعد آیا صوفیا کو مسجد کا درجہ دینے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ”یہ ٹھیک 567 سالہ قدیم ایک حق ہے۔ اگر کسی نے اعتقاد کے مرکز پر بحث کرنی ہے تو یہ آیا صوفیا نہیں بلکہ اسلام دشمنی اور غیر ملکیوں سے نفرت کا معاملہ ہونا چاہیے"۔

پاکستان اور اور دنیا بھر سے سیاح ہر سال اس عظیم ترین عمارت کو دیکھنے جاتے ہیں۔تھوڑا عرصہ پہلے ترکی کے صدر نے ایک عظیم الشان لائبریری کا افتتاح بھی کیا تھاجس میں پانچ ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے ختم ہونے کا معاہدہ لوزان بھی 2023ء میں ختم ہو رہا ہے اس عالمی تناظر میں آیا صوفیہ مسجد کا درجہ بحال کرنا بلاشبہ اسلام کی عظمت کی نشاندہی کرتاہے۔ حقییقت یہ ہے کہ مسلمان اس دور میں بری طرح پس رہے ہیں۔ کشمیر سے لے کر فلسطین تک مسلمانوں کا خون ارزاں تصور کیا جاتا ہے۔حالانکہ مسلمان عظمت رفتہ کے علمبردار ہیں۔اقوام متحدہ کی ساکھ کا اندازہ تقریباً ستر سال سے کشمیر میں حق خود اردیت پر اس ادارے کی پیش رفت ہے۔ناقدین کو پتہ ہونا چاہئے کہ 2020ء میں آیا صوفیہ کی حیثیت گرجاکی نہیں، بلکہ میوزیم کی تھی اور اسے 1934ء میں میوزیم بنانا ہی غلط تھا۔ مسجدکوکیسے میوزیم بنایا جا سکتاتھا؟ چنانچہ میوزیم کو، نہ کہ گرجاکو، واپس مسجد بنا دیا گیا ہے جو لوگ بیت المقدس کی مثال دے رہے ہیں، ایک تووہ صلح اور فتح کے شرعی و قانونی فرق کو نہیں سمجھ رہے-

اسی طرح جو لوگ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے شرعی ضابطے کی بات کر رہے ہیں، وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تحفظ دارالاسلام میں قائم عبادت گاہوں کو حاصل ہوتا ہے، نہ کہ دارالحرب کے مفتوحہ علاقے میں قائم عبادت گاہوں کو۔یہ قابل تحسین فیصلہ ہے۔ اور غیروں پر انحصارکرنیوالے،دوسروں کی سازشوں کا شکار ہونے والے، اپنی تاریخ سے آنکھیں چرانے والوں کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ بھی مسلمان ممالک کے باہمی تعاون سے حل ہو سکتاہے اور ایک دن مسلمان بیت المقدس کی مسجد میں بھی آسانی سے نما ز ادا کر سکیں گے۔ سپین کی مسجد قرطبہ کی حیثیت بحال ہو گی اور وہ بھی مسلمانوں کے لئے کھول دی جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -