چینی، بھارتی اور پاکستانی ڈرون

چینی، بھارتی اور پاکستانی ڈرون
چینی، بھارتی اور پاکستانی ڈرون

  

کل بار بار جی مچلتا رہا کہ پاکستان کے واقعاتِ حاضرہ پر قلم اٹھاؤں اور پانچوں سواروں میں شامل ہو جاؤں لیکن پھر خیال آیا کہ خاکسارانِ جہاں کی خبر بھی لینی چاہیے۔ پاکستانی ان کو لاکھ حقارت کی نظر سے دیکھیں لیکن کسی کو کیا پتہ کہ اِسی گَرد میں کوئی شہسوار بھی چھپا ہوا ہو اور بظاہر نظر نہ آ رہا ہو۔ اس لئے اس ’سوار‘ کی تلاش میں نکلا جائے وگرنہ تو مطیع اللہ جان کی بازیابی، روئت ہلال کے سلسلے میں مفتی منیب الرحمن اور فواد چودھری کا ’اِٹ کھڑکّا‘ اور خواجہ برادران کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ وغیرہ ایسے موضوعات تھے جن پر کج بحثی اور قلم فرسائی کی جا سکتی تھی۔ اس قبیل کے موضوعات فی الوقت پاکستان کے کوچہ ء صحافت میں بہت ’اِن‘ گردانے جاتے ہیں اور قارئین کی غالب آبادی بھی ان کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہے۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ہو جاتی ہے لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت کا دل ان مباحث کو سن سن اور دیکھ دیکھ کر نہیں بھرتا۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ دنیا کے سارے ترقی یافتہ ممالک کا میڈیا تو اس قسم کے ملکی واقعات و حالات پر تبصرہ گوئی یا کالم نویسی سے بالعموم حذر کرتا ہے اور اپنے ناظرین و سامعین و قارئین کو ایسی خبریں دینے میں پیش پیش رہتا ہے جن کا کینوس ان کے ملکی واقعاتِ روز مرہ سے اوپر اٹھ کر علاقائی، بین الاقوامی بلکہ گلوبل واقعات تک چلا جاتا ہے…… بس اسی خیال کے تحت خود کو اپنے ملکی ٹیکٹیکل واقعات سے آگے نکل کر سٹرٹیجک موضوعات کی طرف لے جاتا ہوں اور حضرت امیر خسرو کی زبان میں خود کلامی کرتا ہوں:

گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کھیس

چل خسرو گھر آ پنے سانجھ بھئی چوندیس

ڈرون کے نام سے تو آج ساری دنیا واقف ہو چکی ہے۔ لیکن تقریباً پانچ عشرے پہلے 1970ء میں یہ ایک تصور ہی تھا۔ بے پائلٹ ہوائی جہاز ایک انقلابی آئیڈیا تھا۔ اس قسم کے آتش زیرِ پا آئیڈیاز، مغربی اذہانوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر جلد ہی عمل میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ امریکہ ہمیشہ اس فکر و عمل کے پراسس میں پیش پیش رہا ہے۔ وہاں کے عسکری سائنس دانوں اور انجینئروں نے جلد ہی نہ صرف بغیر پائلٹ کے ہوائی جہاز (UAV) بنا لئے بلکہ بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں اور بغیر کپتان کے بحری جہاز بھی تیار کر لئے۔ آپ کو معلوم ہے ناں کہ امریکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں جنگیں شروع کرنے کے ’پنگے‘ لیتا رہتا ہے۔ یہ زندہ جنگیں نئے عسکری اسلحہ جات اور گولہ بارود ٹیسٹ کرنے کے کام بھی آتی ہیں۔ پھر امریکہ ان ”جنگی تجربات“ میں اپنے حواریوں (NATO) کو بھی شامل کر لیتا ہے۔ ان حربی معرکوں میں جاں کا زیاں تو ہوتا ہے لیکن نئے سلاحِ جنگ جب زندہ آزمائشوں سے گزرتے ہیں تو ان کو خوب سے خوب تر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ پھر یہ اسلحہ جات عالمی مارکیٹ میں آ جاتے ہیں، ان کے منہ مانگے دام لگتے ہیں اور اس طرح ان جنگی تجربات سے اقتصادیات کو تقویت دی جاتی ہے اور عالمگیر حکمرانی کا تاج سر پر سجائے رکھنے کا تسلسل برقرار ہے۔

امریکہ نے جب غیر مسلح ڈرونوں سے مسلح ڈرونوں تک سفر کی بالائی منازل طے کر لیں تو ہم جیسے ممالک بھی اس طرف آئے۔ آج پاکستان میں بھی مسلح ڈرون تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ ایک جدید ترین (Latest) جنگی ہتھیار ہے۔مغربی یورپ کے ممالک، روس اور چین بھی امریکی تقلید کر رہے ہیں۔ انڈیا بھی اپنی تگ و دو میں لگا ہوا ہے کیونکہ اس کا ایک تلخ تجربہ اسے حالیہ لداخ کے سٹینڈ آف میں ہو چکا ہے۔

لداخ کی اس جھڑپ میں چین کی طرف سے جاسوسی (غیر مسلح) ڈرونوں کا عام استعمال کیا گیا۔ انڈیا نے بھی اس طرف دھیان ضرور فرمایا لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ چین اس فیلڈ میں اس کو آؤٹ سمارٹ کر چکا ہے۔ ڈرون ایسے علاقوں کی ریکی کے لئے نہایت موزوں ہے جو انسانی رسائی میں نہیں ہوتے۔ مزید برآں ان علاقوں میں پٹرولنگ (گشت) بھی اب ممکن ہو چکی ہے جو انتہائی دشوار گزار تصور کئے جاتے ہیں۔ وادی ء گلوان اور پاگونگ جھیل اسی قسم کے علاقوں میں شامل ہیں۔ انڈیا ان علاقوں میں ریکی اور گشت کے سلسلے میں چین کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔

انڈیا کے پاس اس وقت جو جدید ترین مسلح (یا غیر مسلح) ڈرون ہیں ان کا نام حیرون (Heron) ہے اور یہ اسرائیل سے خریدے گئے ہیں۔ اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز، حیرون اور ریسرچر نامی ڈرونوں کو کئی دوسرے ملکوں کے علاوہ بھارت کو بھی فروخت کرتی ہیں۔ حیرون کی لمبائی 28فٹ ہے، اس میں 250کلو گرام وزن اٹھانے کی صلاحیت ہے، اس کی رفتار 200میل فی گھنٹہ ہے، یہ 10ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے اور لگاتار 52 گھنٹوں تک فضا میں محو پرواز رہ سکتا ہے۔اسرائیل سے درآمد کردہ دوسرا ڈرون ریسرچر ہے جو سطح سمندر سے 6100میٹر تک کی بلندی پر جا سکتا ہے۔ لیکن لداخ ایریا میں اس ڈرون کا استعمال اتنا موثر اور کارگر نہیں۔اس وقت انڈیا کے ترکش میں 70عدد حیرون موجود ہیں۔ انڈیا خود بھی ڈرون سازی میں ’مبتلا‘ ہے اور اس کے بڑے ڈرون کا نام ’رستم‘ ہے۔ (اس کے مقابلے میں پاکستان میں جو ڈرون ڈویلپ کئے جا رہے ہیں ان میں سب سے کامیاب ڈرون کا نام ’براق‘ ہے جس کا تجربہ تین برس پہلے شمالی وزیرستان میں شوال کی پہاڑیوں پر کیا جا چکا ہے)

چین میں ڈرون سازی کے وسیع کارخانے ہیں اور دنیا بھر میں اسے ڈرون فروشی میں باقی ملکوں کے مقابلے میں سبقت حاصل ہے۔ اسرائیل ساختہ حیرون کے مقابلے میں چین کے پاس جو ڈرون ہے اس کا نام GJ-2s ہے۔ اس کی لمبائی 11میٹر ہے، یہ 480کلو گرام تک لوڈ اٹھا سکتا ہے اور اس لوڈ میں 40، 40 کلوگرام کے 12میزائل یا بم لے جائے جا سکتے ہیں، اس کی رفتار 380کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ 9000میٹر تک کی بلندی پر اڑ سکتا ہے…… دوسرے لفظوں میں یہ ڈرون، حیرون سے زیادہ تیز رفتار اور بہتر طور پر مسلح ہے۔ پاکستان نے چین سے 48عدد یہ GJ-2sخریدے ہیں …… عام پاکستانی قارئین صرف یہ جانتے ہیں کہ انڈیا ایل او سی پر ”ننھے ننھے“ کواڈ کاپٹر بھیجتا رہتا ہے اور پاکستان آرمی انہیں کبھی سرحد سے ایک فرلانگ کے اندر آنے پر گرا لیتی ہے اور کبھی دوفرلانگ تک…… اور بس……!! لیکن پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس اپنے ہاں تیار کردہ (بّراق / رستم) اور اپنے دوستوں سے خرید کردہ (GJ-20s/حیرون)ان چھوٹے چھوٹے غیر مسلح ڈرونوں سے کہیں بڑے اور پاور فل مسلح ڈرونوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ 30ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے ان ڈرونوں کو اگر حریف کی جاسوسی کے لئے بھی استعمال کیا جائے تو اس کاوش کی حدود کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔انڈیا نے گزشتہ برس 26فروری کو بالاکوٹ پر جو فضائی حملہ کیا تھا، معلوم ہوتا ہے کہ اس ایریا کی ریکی نہیں کی گئی تھی۔ اگر کسی حیرون کو استعمال کرکے بالاکوٹ کی ریکی کر لی ہوتی تو انڈین ائر فورس کے طیارے چند درختوں اور ایک کوےّ مار کر واپس نہ بھاگتے اور دنیا بھر کی رسوائی مول نہ لیتے!

چین کی PLA، تبت میں ان ڈرونوں کو استعمال کرتی رہی ہے اور ان کو لائیو ایکسرسائزوں میں لائیو ایمونیشن کے ساتھ استعمال میں لاتی رہی ہے۔ ان ڈرونوں میں مختلف قسم کے گائیڈڈ میزائل اور بم بھی استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات سے ہٹ کر ان ڈرونوں کے دوسرے استعمالات بھی روبہ کار لائے جاتے رہے ہیں۔مثلاً ان ڈرونوں کے علاوہ چھوٹے غیر مسلح ڈرون استعمال کرکے خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں اپنے صف بند ٹروپس کو کھانا پہنچانا اور اسی طرح ادویات اور ہلکا ایمونیشن بھی ان چھوٹے ڈرونوں میں لاد کر ان سے وہ کام لیا جاتا رہا ہے جو اب تک انڈین آرمی سیاچن، کارگل اور لداخ (دولت بیگ اولدی) میں نہیں لے سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا کے پاس جو حیرون ہیں ان کی بلندی کی رینج وہ نہیں جو چینی ڈرونوں کی ہے۔

امریکی ریپر اور پری ڈیٹر نامی مسلح ڈرون بہت مہنگے ہیں اور انڈیا فی الحال ان کو خریدنے کا پروگرام نہیں رکھتا۔ پاکستان آرمی نے چین سے جو 48عدد CJ-2s خریدے ہیں ان کے استعمال کی کوئی سُن گُن ابھی تک نہیں ملی۔ شائد مستقبل کی جنگوں کی پلاننگ میں ان کا رول بھی وہی ہو جو PLAکے انہی ڈرونوں کا ہے!

مزید :

رائے -کالم -