حضرت شاہ المعروف خواجہ زندہ پیر سرکار ؒ گھمکول شریف

حضرت شاہ المعروف خواجہ زندہ پیر سرکار ؒ گھمکول شریف

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

خانقاہیں، درگاہیں، دربار، آستانے اولیاء کرام کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ یہ درگاہیں خلق خدا کیلئے قلبی سکون اور روحانی تسکین کے مراکز ہیں۔ اولیاء کرام جن کی زندگیاں ریاضتوں، مشقتوں اور مجاہدوں سے معمور ہیں اور جورضائے الہٰی کے حصول اور احترام انسانیت پر عمل پیرا رہنے کا عملی نمونہ رہے۔ انہی کی برکتوں سے یہ آستانے اور درگاہیں زندہ جاوید ہیں اور عقیدت مندوں کیلئے روحانیت کی تعلیم کی بہترین تربیت گاہیں ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم ہے کہ ذاکرین کیلئے ذکروں میں بہترین ذکر لا الہ الا اللہ ہے۔اس حدیث مبارکہ سے اذکار میں سے بہترین ذکر الہٰی کی افضلیت آشکارہ ہوتی ہے۔

دربار عالیہ گھمکول شریف، کوہاٹ ایک ایسی درگاہ، ایک ایسا آستانہ ہے جہاں ہر وقت افضل الذکر لا الہ الااللہ کا نشاط انگیز ورد جاری رہتا ہے۔ اس آستانے کے درو دیوار، وہاں کی فضائیں ہر وقت اللہ کے محبوب ْﷺ کے پسندیدہ ذکر لا الہ الا اللہ سے گونجتی رہتی ہیں۔ اس آستانے کا یہی ماحول، یہی روایت اس دربار کو دیگر مزارات اور درباروں سے منفرد وممتاز کرتی ہے۔ دربار عالیہ نقشبندیہ گھمکول شریف کوہاٹ شہر کے نواح میں پہاڑوں کے درمیان آباد ایک ایسا آستانہ ہے جہاں ہر وقت فضاء پر سکون اور خاموش رہتی ہے۔ اس خاموشی میں جب دربارعالیہ پر مامورذکر خوان اپنے مخصوص انداز میں، جذب و مستی میں ڈوب کر انتہائی پر کیف انداز میں لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر طرف اللہ رب العالمین کا ہی جلوہ ہے اور یہ خاموش، سر اٹھائے کھڑے پہاڑ، سبک رفتار فضائیں، چمکدار دن کی روشنی اور اجلی راتوں کی چاندنی سب ذکر خدا کی برکتیں سمیٹ رہی ہیں۔ اگر مزارات کے موجودہ ماحول اور وہاں پر رائج روایات کا تنقیدی جائزہ لیں تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ انوار و تجلیات کے مراکزان مزارات پر ایسی روایات عام ہوچکی ہیں جو اصول دین اور تعلمات اسلامی کے منافی ہیں جن کی وجہ سے یہ مزارات اور وہاں کا ماحول خاصا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو تبلیغ حق اور راہ حق کی نشاندہی کے منافی ہیں۔ در حقیقت یہ مروجہ روایات ان تمام مزارات اور صاحب مزارات کی حقیقی تعلیم و تبلیغ کے برعکس ہیں۔ درس مساوات، احترام انسانیت، تزکیہ نفس اور رجوع الی اللہ ہی اولیاء کرام کی زندگی کا مقصد و نصب العین رہا ہے اور ان اولیاء کرام کے وصال کے بعد بھی ان کی درگاہیں انہیں تعلیمات کا منبہ و مرکز رہی ہیں تاہم نئی اور فرسود روایات رائج ہوجانے سے ان مزارات سے رشد و ہدایات کا جاری یہ نظام خاصا متاثر ہوا ہے جبکہ ان تمام حالات کے برعکس دربار عالیہ گھمکول شریف ایک ایسا آستانہ ہے جو ان تمام فرسودہ اور غیر اسلامی روایات سے پاک ہے۔ دربار عالیہ کا سبز گند جوکہ گنبد خضریٰ سے مماثل ہے اس دربار کی دربار رسالت مآب ﷺسے نسبت اور صاحب مزار کی محبوب خداﷺ سے دیوانہ وار محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دربارعالیہ میں ہر وقت لا الہ الا اللہ کے ذکر سے گونجتا ہوا ماحول اللہ عزوجل کی ربوبیت، اس کی بزرگی اور وحدانیت کا اقرار و اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ دربار عالیہ پر مامور خدام سفید لباس (جو کہ تقویٰ کی نشانی ہے) میں ملبوس داڑھی مبارک چہروں پر سجائے انتہائی اہتمام کے ساتھ اپنے روزانہ کے معمولات اور امور زندگی انجام دینے کے ساتھ ساتھ ذکر خوانی کرتے نظر آتے ہیں۔ دربار عالیہ کا کشادہ صحن صاحب مزار کی وسعت قلبی اور وہاں پر ہر وقت جاری لنگر اس بات کا ثبوت ہے کہ دربار عالیہ پر آنے والے زائرین اس دربار عالیہ کا خاصہ ہے۔ دربار عالیہ کا نظام اور صاحب مزار کی اپنی حیات خلق خدا کی رہنمائی اور رُشد و ہدایت اور راہِ حق کی جستجو کرنے والوں کیلئے ہمیشہ ممدود و معاون رہتی ہیں۔

جب ان آبادیوں میں اللہ والوں کے قدم مبارک اور نگاہ فیض کے چھینٹے پڑے وہی جگہیں وآبادیاں آستانوں میں بدل گئیں اور شریف کے لقب سے زبان خلق پر مشہور ہوگئیں۔ مثلا گولڑہ سے گولڑہ شریف، علی پور سے علی پور شریف، جلال پور سے جلال پور شریف، شرق پور سے شرق پور شریف، بڈیانہ سے بڈیانہ شریف، علی پور چٹھہ سے علی پور چٹھہ شریف۔ ان آبادیوں کی عزت و تکریم کا موجب صرف اور صرف ان اولیاء عظام کا ان میں قیام و ظہور ہے۔ جتنے بھی صاحب آستانہ گزرے ہیں ہر کسی کو اپنے شیخ نے جگہ متعین کر کے بٹھایا ہے۔ ساڑھے نو سو سال قبل جناب رسالت مآب ﷺکا گنبد خضریٰ سے ملک ہندی طرف دست مبارک اٹھا تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے اجمیر شریف کو آباد کیا اور ساڑھے نو سو سال بعد دوسری بار اشارہ ہوتا ہے۔ تو گھمکول شریف کے قیام کیلئے دربار عالیہ گھمکول شریف کو یہ خاص امتیازی حیثیت ہے کہ اس دربار عالیہ کا ظہور اور بنیاد جناب رسال مآب ﷺکے اشارہ پاک کی نسبت ہے سے ہے۔ اس بے آب و گیاہ جنگل جہاں کسی جانور اور پرندے کی آواز تک نہ تھی کسی انسان کی گزرگاہ کا گمان بھی نہ تھا صرف اور صرف زندہ پیر ؒ نے جناب رسالت مآب ﷺکے فرمان کی تکمیل کی اور تن و تنہا رات کو غار مبارک کو اپنی خلوت گاہ کا شرف بخشا۔ فرمان رسول ﷺ پر ہر واسطہ توڑنے اور اللہ کریم سے واسطہ جوڑنے کا ثمر ہے کہ اس بارگاہ مقدسہ گھمکول شریف سے ہر وقت افضل الذکر لا الہ الاللہ کی صدائیں فضاء کو محیط کئے رکھتی ہیں۔ حضور قبلہ عالم ؒ نے جناب رسالت مآب ﷺ کی محبت کا کماحقہ حق ادا کر دکھایا ہے۔ آج آپ ؒ بفضلہ تعالیٰ دید ہ ور کیلئے آئینہ مصطفائی ہیں اور گھمکول شریف کی بارگاہ رب تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

صاحب مزار، حضرت خواجہ زندہ پیر علیہ الرحمۃ الرحمن کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے کوہاٹ کے نواح میں واقع ان پہاڑوں کے درمیان قیام اورعبادت و ریاضت سے یہ آستانہ آباد کیا جو آج گھمکول شریف کے نام سے مشہور ہے اور ہزاروں لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ حضرت خواجہ زندہ پیر ؒ کا اصل نام حضرت شاہ تھا مگرآپ مختلف وجوہات کی وجہ سے خواجہ زندہ پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔ صوفی رب نواز صاحب اپنی تصنیف ”کنز العرفان فی الشانِ حضرت خواجہ زندہ پیر علیہ الرحمۃ الرحمن“میں آپ ؒ کا سن پیدائش 1912ء بتاتے ہیں۔ حضرت خواجہ زندہ پیر ؒ حضرت پیر غلام رسول کے ہاں کوہاٹ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد بھی ایک صاحب حال بزرگ تھے۔ حضرت خواجہ زندہ پیر ؒ کی طبیعت اوائل عمری سے ہی ریاضت و عبادت کی طرف مائل تھی۔ نفلی روزے کا اہتمام اور قیام الیل شروع سے ہی آپ کے معمولات میں تھے۔ ذکر خدا کی کثرت اور محبوب خدا ﷺ سے بے پناہ محبت نے آپ کو تصوف کی لذت اور معرفت کے مدارج سے آشکارہ کیا جس میں تزکیہ ء نفس کی آمیزش سے آپ عرفان کی منزلیں طے کرتے ہوئے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ خاصان خدا اور اولیاء کرام کے خزانوں سے علم لدنی نصیب ہوتی ہے۔ وہی علم لدنی جو اسرار الیہیہ کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ عالم کی نظر حروف و سطور پر ہوتی ہے جبکہ فقیران حروف و سطور کے مابین چھپی حقیقت کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جس چیز کو عالم ظاہری آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے فقیر اس چیز کو بہت پہلے دل کی آنکھ سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔ حضرت خواجہ زندہ پیر ؒ کی طلب طریقت کی راہ میں اپنے وقت کے ممتاز صوفیائے عظام سے بالخصوص پیر سید جماعت علی شاہ صاحب اور حضرت پیر حافظ محمد عبدالکریم سے شرف ملاقات رہا۔ تاہم بے قرار دل کو طلب حق کی راہ کے حصول میں قرار نہیں مل رہا تھا۔ چنانچہ حضرت امام علی الحق شہید المعروف امام صاحب (سیالکوٹ) میں جاکر مراقب ہوئے جہاں سے آپ کو موہڑہ شریف (مری) میں جانے کا اشارہ ہوا۔ جہاں آپ نے حضرت باوا قاسم سرکارؒ کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کیا اور ان کے آخری خلیفہ مجاز قرار پائے۔

گھمکول شریف کی آباد کاری کا معاملہ بھی انتہائی عجیب اور پرکیف ہے۔ 1952ء میں جب حضرت خواجہ زندہ پیر ؒ نے پہلی بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی تو فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضری دی جہاں آپ نے گنبد خضریٰ کے سامنے بارگاہ نبوی ﷺ میں درخواست پیش کی کہ ”سرکار میرے لئے کیا حکم ہے“ چنانچہ گنبد خضریٰ سے حبیب خدا ﷺ کے دست رحمت کشا کا اشارہ ہوتا ہے کہ ان پہاڑوں کی طرف دیکھیں، اللہ کریم کی قدرت سے حائل تمام حجابات اٹھالئے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ پہاڑی علاقے میں ایک حجرہ مبارک پر ”زندہ پیر اور دربار عالیہ گھمکول شریف“لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ آپ بمطابق حکم انہی پہاڑوں میں پہنچ کر اسی غار میں قیام پذیر ہوتے ہیں اور دربار عالیہ گھمکول شریف کی آبادی کاری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

دربار عالیہ گھمکول شریف ایک ایسا باوقار آستانہ ہے جس کی آباد کاری خود رسالتِ مآب ﷺ کی ہدایت و حکم اور رہنمائی سے ہوئی۔ اس لئے اس دربار کے در و دیوار اور فضائیں ہر وقت افضل الذکر لا الہ الا اللہ کے ذکر سے گھونجتی رہتی ہیں گویا کہ یہ مزار ایک Echoing Shirineہو۔ جہاں دنیا کے طو ل و عرض سے عقیدت مند شریک ہوتے ہیں۔ حضرت خواجہ زندہ پیرؒ کے عقیدت مند دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں اکثر ممالک میں آپؒ کا عرس مبارک منایا جاتا ہے۔ حضرت خواجہ زندہ پیرؒ راہِ حق کی شمع روشن کر کے 3ذوالحجہ 1419ھ بمطابق 22مارچ 1999ء بروز سوموار 87سال کی عمر مبارکہ میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے(انا للہ وان الیہ راجعون)۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزندارجمند پیر منور حسین شاہ المعروف پیر بادشاہ سرکار کی دستار بندی کی گئی اور انہیں گھمکول شریف کا سجادہ نشین مقرر کیا گیا۔آپ کے سالانہ عرس شریف کی تقریبات 3ذوالحجہ سے شروع ہوتی ہیں جو کہ تین روز تک جاری رہتی ہیں جس میں اندرون و بیرون ممالک سے علماء و مشائخ عظام، قراء و نعت خواں حضرت کے علاوہ مریدین و زائرین کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -