خدارا سمجھئے! حج کا کوئی بدل نہیں ہے

خدارا سمجھئے! حج کا کوئی بدل نہیں ہے
 خدارا سمجھئے! حج کا کوئی بدل نہیں ہے

  

حج کے بابرکت مہینے کا آغاز ہو چکا ہے، پاکستان میں ذوالحج کی آج 2 تاریخ، جبکہ سعودیہ میں 3ہے، وبائی مرض کورونا کی وجہ سے حج محدود ہونے سے دُنیا بھر سے حج کی سعادت سے محروم رہ جانے والے لاکھوں مسلمان رنجیدہ اور غمزدہ ہیں، راقم بھی ان میں شامل ہے جو کئی سال بعد عیدالاضحی پاکستان میں کریں گے۔ دو اور تین ذوالحج کو حرمین شریفین کی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں، مدینہ منورہ والے مکہ مکرمہ اور مکہ مکرمہ والے عزیزیہ جانے کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں،عزیزیہ میں پہلے سے موجود منیٰ جانے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں، مناسک حج کی ادائیگی کے لئے دُنیا کے طول عرض سے آنے والوں کے استقبال کے لئے منیٰ، عرفات، مزدلفہ میں تیاریوں کو آخری شکل دی جا رہی ہوتی ہے۔ ضیوف الرحمن کی خدت کی سعادت کی وجہ سے انہی دِنوں حج آرگنائزر کو بھی اپنے اپنے مکتب میں بار بار جانا پڑتا ہے۔اِس دوران جمرات، منیٰ سے عرفات کے میدان تک آتی جاتی مونو ٹرین کی گونج اور پُرسوز آواز ماحول کو اور پُرسرور بناتی نظر آتی ہے،حج سے محرومی کا دُکھ ایک طرف اور ہمارے 21ویں صدی کے مذہبی علوم سے عاری سکالر کی دانشوری اور مشورے غم کے مزید پہاڑ توڑ رہے ہیں، حالانکہ حج کا سفر تو بڑے نصیب کی بات ہے۔

بڑے کرم کے ہیں فیصلے، بلاوے کے بغیر کون جاتا ہے، بلاوے کے بغیر کس کی ہے جرأت، حج کا سفر بڑے نصیب کی بات ہے۔

اہل ِ پاکستان سے حج کی درخواستیں دینے والوں اور پھر قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والوں کو دوھرے قرب کا سامنا ہے۔ایک طرف انہیں زندگی بھر میں پائی پائی جمع کر کے حج کی سعادت کے لئے رقم جمع کر کے درخواست دینے اور پھر قرعہ اندازی میں کامیابی کے باوجود حج کی رقم بنکوں سے واپس لینے کا غم کھائے جا رہا ہے۔حرمین شریفین سے دوری اللہ کی طرف سے بلاوے کے باوجود محرومی حج نے زخم اور گہرے کر دیئے ہیں۔اللہ کی ناراضگی ہمارے گناہوں کا سبب ہے۔ دوسری طرف نئی صدی کے دانشور حضرات کے حج کی رقم واپس لے کر غریب بچیوں کی شادی کروانے کے مشورے ہیں اور ساتھ حج کی واپس لی گئی رقم سے بچیوں کی شادی کروانے کی صورت میں حج کی قبولیت کے ثواب کا فتویٰ۔ جنت کی بشارت کی یقین دہانی۔ تیسرا غم سرکاری سکیم کے عازمین کو بنکوں سے رقم واپس لینے کے لئے پیش آنے والی مشکلات کا ہے، جو وزارتِ مذہبی امور کی بدانتظامی کہی جائے یا بنکوں کا سرکاری عازمین کی طرف سے جمع کرائی گئی 50ارب سے زائد رقم پر منافع کا لالچ فرمانِ خداوندی ہے۔ ایک عمرے کے بعد دوسرے عمرے کا درمیانی فرق گناہوں کا کفارہ ہے، حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ نبی ئ مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج و عمرہ بار بار کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور مختلف وقتوں میں مختلف انداز میں ترغیب دی گئی ہے۔فرمایا گیا ہے، جس طرح آگ کی بھٹی لوہے، چاندی اور سونے سے میل کو مٹا دیتی ہے، اسی طرح عمرہ اور حج گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔

سفر حج کو انبیاء کرام کے عمل کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:حج اور عمرہ بار بار کرو، کیونکہ دونوں فقر اور گناہوں کو مٹاتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، مَیں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا”ہم کیوں نہ آپ کے ساتھ جہاد اور غزوؤں میں جایا کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کے لئے سب سے موزوں جہاد، حج اور عمرہ ہے“۔تاریخ بتاتی ہے ایک تابعی عبدالرحمن بن اسود نے60حج کیے اور60 ہی عمرے کئے، دونوں کے الگ الگ سفر کئے۔ ایک اور تابعی اسودین یذیر نے80حج کرنے کی سعادت حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ کے بارے میں آتا ہے آپ نے50 حج کئے تھے۔

حج و عمرے کی فضیلت اور اہمیت پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرائض کے حوالے سے سختی سے پابندی کی ہدایت کی ہے۔دلیل دی جاتی ہے اللہ کے نبی نے صرف ایک حج کیا، درست بات ہے،یہ بات بھول جاتے ہیں، نبی ئ مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:ہر صاحب ِ استطاعت پر حج فرض ہے، نفلی عبادات اور حج کو اللہ سے قرب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے ہم نفلی عبادات کی اہمیت بیان کرتے ہیں،مگر حج اور عمرے کے نام پر ڈنڈی مار جاتے ہیں۔

دولت مند حضرات سے اگر کوئی فرد کہہ دے حضرت آپ عمرہ کر لیں آپ کو حج کرنا چاہئے تو وہ فوری فرمائیں گے، میرے لئے دُعا کریں، حالانکہ دنیاوی کاروبار، شادیوں، مکان بنانے، گاڑی خریدنے کے حوالے سے کبھی کسی نے درخواست نہیں کی، وہاں خاموشی سے کرنے کا عمل قرار دیا جاتا ہے۔حج کی رقم سے بچیوں کی شادی کروانے پر کالم لکھنے والوں اور ٹی وی ٹاک شوز کرنے والوں کو تاریخ پڑھنی چاہئے، تاریخ بتاتی ہے، بطورِ مسلمان ہمارے، جو فرائض ہیں نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ جنہیں ہمارے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسندیدہ عمل اور فرض قرار دیا ہے ان کے خلاف بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ سازشیں کی گئی اور کئی کئی سال حج، زکوٰۃ کو پیسوں کا ضیاع اور نماز کو وقت کا ضیاع قرار دے کر پابندی لگائی گئی۔ یہی فلسفہ پیش کیا گیا ایک دن میں پانچ وقت نماز سے کتنا وقت ضائع ہوتا ہے، یہی وقت محنت مزدوری میں لگانا چاہئے۔حج کے پیسوں کو بھی غریبوں کا استحصال اور وقت کا ضیاع قرار دیا جاتا رہا۔ہر دور کا فتنہ الگ الگ رہا، انہی میں یہ بھی شامل رہا، بار بار حج و عمرہ کرنے کی بجائے غریب بچیوں کی شادی کرائی جائے، غریبوں کو کھانا کھلایا جائے۔

بحیثیت مسلمان تقدیر پر یقین ہمارا ایمان ہے، جب کوئی روح پیدا ہوتی ہے اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے حج کے پیسوں سے غریب بچیوں کی شادی کا مشورہ دینے والوں سے جب سوال کیا جاتا ہے آپ نے دنیاوی نعمتوں کے حصول کے لئے اِس سال کروڑوں خرچ کئے، حج فرض ہونے کے باوجود نہیں کیا، کیا آپ نے کسی بچی کی شادی کروائی تو خاموش رہنے کے سوا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

حج جیسے اہم فریضے کے خلاف سازشوں کا حصہ بننے کی بجائے حج جیسے مقدس فریضے کو سمجھنے اور عمل کی ضرورت ہے۔یہ وقت ہے اللہ کو راضی کرنے کا، اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا ہے تاکہ جو اُمت مسلمہ کے لیے حرمین شریفین کے دروازے بند ہوئے ہیں وہ کھل سکیں۔ اے اللہ جو اِس سال حج کی نیت رکھتے تھے کورونا کی وجہ سے نہ جا سکے ان کو جلد حاضری کی توفیق عطا فرما۔پوری دُنیا کو وبائی مرض سے نجات دے، آمین

مزید :

رائے -کالم -