گوادر بندرگاہ ترقی و خوشحالی کی ضامن، منسلک منصوبے جلد مکمل کئے جائیں: وزیراعظم

    گوادر بندرگاہ ترقی و خوشحالی کی ضامن، منسلک منصوبے جلد مکمل کئے جائیں: ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے گوادر بندرگاہ سے جڑے منصوبوں کی جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی و خوشحالی کی ضامن ہو گی،وزارت کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کیلئے بین الوزارتی رابطے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مستقل مشاورت کو یقینی بنایا جائے،منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے موثر ترجیحات مرتب کرنے کیساتھ ساتھ ان کی ٹائم لائنز بھی متعین کی جائیں۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،وزیر بحری امور علی زیدی نے اجلاس کو وزارت کی گذشتہ 22 ماہ کی کارکردگی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا ورثے میں ملنے والے مسائل و مشکلات کے باوجود کئی نئے اقدامات اٹھائے گئے۔ بے پناہ صلاحیت کے باوجود ماضی میں بلیو اکانومی کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا، موجودہ حکومت اس شعبے کی ترقی کیلئے روڈمیپ وضع کر رہی ہے جس پر عملدرآمد کی بدولت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روزگار، سیاحت، قابل تجدید تواناء کے بھی بھرپور مواقع پیدا ہوں گے۔ اس امر کے پیش نظر وزیراعظم نے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا۔اجلاس کو مستقبل کے منصوبوں، خصوصا گوادر بندرگاہ سے جڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے اجلاس میں وزارت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزارت بحری امور میں سرمایہ کاری وترقی کی بے پناہ صلاحیت کی بدولت ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن سے روزگار، علاقائی ترقی اور بھرپور منافع حاصل ہو۔قبل ازیں اپنی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی ہاؤسنگ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک کے غریب عوام کیلئے سستے گھروں کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر نے کے عزم کا اظہار کیا۔متعلقہ حکام نے وزیراعظم کو سستے گھروں کیلئے قرضوں کے معاملے پر بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا سستے گھروں کے منصوبے میں تیزی آنیوالی ہے، اس کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے۔امید ہے سستے گھروں کے منصوبے سے ملک میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ملکی اکانومی دوبارہ مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سستے گھروں کے تعمیراتی کام سے 17 صنعتیں فوری بحال ہو جائیں گی۔دوران اجلاس وزیراعظم کو بینکوں نے ہاؤسنگ قرضوں کا پلان پیش کیا اور بتایا کہ سرمایہ کاری بڑھنے سے کاروبار کے مواقع بڑھیں گے۔وزیرِ اعظم نے کہا حکومت نے تعمیرات کے شعبے کیلئے جو مراعاتی پیکیج دیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، حکومت اس ضمن میں نظام کو آسان سے آسان تر بنانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام سہولت سے مستفید ہو سکیں، تعمیرات کے شعبے میں ہر سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو برؤے کار لایا جائے تاکہ نظام کو تیز اور آسان ترین بنایا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے تمام چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں تعمیر ات کے حوالے سے ون ونڈو کی سہولت، حکومتی اجازت ناموں، فیسوں کی ادائیگیوں، مختلف متعلقہ محکموں کی جانب سے درخواستوں پر متوازی کام ہونے کا آن لائن نظام متعارف کرانے کے سلسلے میں لائحہ عمل پیش اوراس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حکومتی اجازت ناموں، این او سی و دیگر عوامل مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں، اس ضمن میں غفلت یا غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنیوالے اہلکاروں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ رئیل اسٹیٹ ریگولٹری اتھارٹی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاو رت جلد مکمل کی جائے تاکہ اتھارٹی اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کر سکے۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ اور سٹیٹ بنک کو ہدایت کی کہ حکومت کی جانب سے بنکوں کو سبسڈی فراہم کرنے کے عمل کو آسان ترین بنانے کے عمل کو بھی فور ی حتمی شکل دی جائے تاکہ بنکوں کو اس ضمن میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بعدازاں اپنی زیر صدارت انٹرنیٹ کوریج بڑھانے اور بہتر بنانے سے متعلق اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا موجودہ دور میں انٹرنیٹ کی فراہمی اہم ضرورت بن چکی ہے، سکولوں میں انٹرنیٹ کی آسان اور سستی فراہمی سے متعلق ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اجلا س میں وزیراعظم کو ملک بھر اورخصوصاً دوردراز، پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کوریج،یو ایس ایف کی جانب سے گزشتہ 2 سال کے منصوبوں اور رواں سال کے اہداف، بلوچستا ن، خیبرپختونخوا، پنجا ب میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی و بہتری کیلئے مختلف منصوبوں کی پیشرفت پر بھی بریفنگز دی گئیں جن میں انضمام شدہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا پسماندہ علاقوں خصوصا بلوچستان، انضمام شدہ علاقوں، سندھ کے دوردراز علاقوں میں انٹرنیٹ فراہمی اور بہتر کوریج پر توجہ دی جائے۔

وزیراعظم

مزید :

صفحہ اول -