کلبھوشن آرڈیننس پیش، قومی اسمبلی میں ہنگامہ،حکومتی، اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی، نعرے بازی حکومت پر الزامات

          کلبھوشن آرڈیننس پیش، قومی اسمبلی میں ہنگامہ،حکومتی، اپوزیشن ارکان ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزارت قانون نے کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت قومی اسمبلی میں کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے شدید اعتراضات اٹھائے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن کے اراکین کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، حکومتی اراکین کے جواب دینے کی کوشش پر ایوان میں گرما گرمی کا ماحول پیدا ہو گیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ کل تک کلبھوشن کی وجہ سے ہم پر مودی کے یار کے الزامات لگتے تھے، آج کون مودی کا یار ہے؟ وزیراعظم بتائیں اب پاکستان کی غیرت کا سودا کیوں کیا جا رہا ہے، یہ قانون قبول نہیں ہے۔ کلبھوشن پاکستان کا دشمن ہے۔ عالمی دباؤ میں آ کر حکومت کیوں ایک بھارتی جاسوس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ قانون سازی قومی حمیت اور غیرت کے خلاف ہے۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیوں پاکستانی غیرت کا سودا کر رہے ہیں، پاکستان کی عزت کیوں بیچ رہے ہیں۔ کلبھوشن پاکستان کا مجرم، اس نے اقبال جرم کیا، اسے سزا دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے کہا کوئی این آر او نہیں دوں گا لیکن جتنے این آر او عمران خان نے دیئے، کسی آمر نے بھی نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن مانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتا تھا، اعتراف جرم کے باوجود اس کو این آر او دیا جا رہا ہے۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹ جو حملہ کرکے گرا، اسے بھی چائے پلا کر واپس بھیج دیا۔ جہانگیر ترین اور بی آر ٹی کو بھی این آر او ملا۔ بلین ٹری سونامی، چینی، آٹا چوری پر بھی این آر او دیا گیا۔قومی اسمبلی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی دلیل نہ جواب، صرف بڑھکیں مارتی ہے۔ بلاول کو اتنا خوف ہے جواب سنے بغیر ہی ایوان سے چلے گئے، کیا اپنی بات کر کے نو دو گیارہ ہونا ہی جمہوریت ہے۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ اپنے دور میں کلبھوشن کا نام لینے سے کترانے والے آج ہمیں سکھا رہے ہیں۔ آئی سی جے میں بھارتی وکلا نے کس سیاستدان کے بیان کا سہارا لیا تھا۔انہوں نے کہا یہ جمہوریت کو نہیں سمجھتے، نہ جواب سننے کی ہمت ہے، خوف اتنا تھا کہ کورم کی گنتی تک پارلیمنٹ میں نہیں رکے۔ بلاول این آر او کی بات کر رہے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کو کس نے واپس بھیجا؟ ریمنڈ ڈیوس کیخلاف احتجاج کرنیوالوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کیخلاف احتجاج کرنیوالوں پر مقدمات بنے، قوم بھولی نہیں ہے۔ ڈرون حملوں سے متعلق آصف زرداری نے کچھ نہیں کیا۔ کلبھوشن کی سرگرمیوں کو آپ نے کبھی بحث کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ان سے پوچھتے کلبھوشن کا نام کیوں نہیں لیتے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا پرچی کی بنیاد پر سیاست میں آنیوالے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ سندھ میں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس پر بلاول بھٹو بات نہیں کرتے۔ ایوان سے فرار نے ثابت کر دیا پرچی کی سیاست کیا ہوتی ہے؟ بلاول ٹوئٹر ٹوئٹر کھیلتے ہیں، سندھ پر بات نہیں کرتے۔ بلاول کو علم نہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، بلاول کے والد کو چینی پر سبسڈی ملی۔

آرڈیننس پیش

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ دوسالوں میں غربت کی شرح بڑھنے کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں،پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 ہے، اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 جبکہ 3 ناقابل مرمت طیارے ہیں،میڈیا کے گزشتہ دو سال کے دوران کے 1ارب 15کروڑ روپے کے بقایاجات میں سے 50 فیصد ادا کرچکے ہیں اور بقیہ رقم ایک ہفتہ میں ادا کر دی جائے گی، پی ٹی وی میں گزشتہ حکومتوں کے دوران سیاسی بھرتیاں گئیں، 2500سے زائد لوگ بغیر اہلیت کے بھرتی کئے گئے،پی ٹی وی کے آرکائیو کو رقم لئے بغیر دوسرے اداروں کے ساتھ شئیر کیا گیا، پی ٹی وی میں موجودہ دور میں کوئی بھرتیاں نہیں کی گئیں، دوسالوں میں غربت کی شرح کے بڑھنے کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں،احساس ریلیف پروگرام میں سندھ کو اسکے حصے سے 10 فیصد زیادہ دیا گیا، پی آئی اے کی فلاٹس کی پابندی کی وجہ پائلٹس کے لائسنس والا معاملہ نہیں ہے بلکہ دیگر سیفٹی اقدامات کا مکمل نہ ہونا تھا، پی آئی کی پروازوں پر پابندی جلد اٹھا لی جائے گی،وزیر سول ایوی ایشن اور سول ایوی ایشن کے بیان میں اگر تضاد ہے تو وزیر ایوی ایشن آکر جواب دیں،ملک میں یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے پہلا فیز مکمل ہوچکا ہے،پانچویں جماعت تک یکساں نصاب کا نظام 2021تک نافذ ہوجائے گا، پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کو یکساں معیار پر لایا جائے گا،پی ٹی وی کی جانب سے پروگرام میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ دیکھانے والا معاملہ کو ہلکا نہیں لیا گیا،اس پر تحقیق جاری ہے، بلین ٹری سونامی منصوبہ پر 125 ارب روپے پانچ سال میں خرچ کیاجائے گا، تمام صوبوں میں یہ منصوبہ شروع ہو چکا ہے،پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 ہے، اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 جبکہ 3 ناقابل مرمت طیارے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، پارلیمانی سیکرٹری ایوی ایشن جمیل احمد اور پارلیمانی سیکرٹری وفاقی تعلیم وجیہہ اکرم نے وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت شروع ہوا، وقفہ سوالات کے دوران وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا کے بقایا جات ہیں اس میں کچھ مسلم لیگ (ن)کے دور کے تھے اور کچھ ہماری حکومت کے دور کے ہیں،مالکان سے بات چیت ہوئی اور یہ طہ پایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران کے بقایا جات ہم ادا کریں گے،یہ 1ارب 15کروڑ کے بلز ہیں، 50فیصد ادا کرچکے ہیں اور باقی 50فیصد ایک ہفتہ میں ادا کر دئیے جائیں گے،علاقائی اخبارات کے حوالے سے اور کم اشاعت والے اخبارات کے اشتہارات کے حوالے سے میکنزم بنا رہے ہیں، پی ٹی وی میں گزشتہ حکومتوں کے دوران سیاسی بھرتیاں گئیں، 2500سے زائد لوگ بغیر اہلیت کے بھرتی کئے گئے،اس اہم ادارے کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا،۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ دوسالوں میں غربت کی شرح کے بڑھنے کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، 2015کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 1998کے مقابلے میں کم ہوئی جو 57.9 فیصد سے کم ہوکر24.30فیصد ہوئی، بلوچستان کے عوام کو ہماری حکومت میں بڑا حق ملنے والا ہے،ہم سینیٹ سے بلوچستان کے لئے صوبائی اسمبلی کی 13نشستیں بڑھانے کا بل منظور کرایا ہے،سندھ کا حصہ احساس ریلیف میں حصہ 20فیصد بنتا تھا جبکہ سندھ کو 30فیصد سے زیادہ دیا گیا،احساس پروگرام کے تحت سندھ کو اسکے حصے سے 10فیصد زیادہ دیا گیا،پانچویں جماعت تک 2021تک نافذ ہوجائے گا،تعلیم کی کوالٹی بڑھانے کے لیے کام جاری ہے، پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں کو یکساں معیار پر لایا جائے گا، ناز بلوچ نے کہاکہ ایم ڈی پی ٹی وی کے دوہری شہریت ہے، سرکاری ٹی وی پر پاکستان کے دو غلط نقشے دکھائے، اس معاملے میں نچلے سٹاف کو فارغ کردیا گیا، علی محمد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی وی کی جانب سے پروگرام میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ دیکھانے والا معاملہ کو ہلکا نہیں لیا گیا، معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں تحقیقات کے لیے بھیجا گیا ہے۔پارلیمانی سیکرٹری ایوی ایشن جمیل احمد نے کہا کہ وزیر برائے ایوی ایشن کے بیان کو اس تناظر میں کیوں نہیں دیکھا جاتا، سیفٹی اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے نقائص کو اجاگر کیا۔ یہ سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی اور لائنسس کے حوالے نقائس پر جواب جمع کرایا۔ یورپی یونین نے 2008 میں بھی سیفٹی اقدامات کے تناظر میں پی آئی اے کی فلائٹس بند کی تھیں۔ پی آئی اے کی فلاٹس کی پابندی کی وجہ صرف پائلٹس کے لائسنس والا معاملہ نہیں ہے، سیفٹی کے اقدامات کے حوالے سے پی آئی اے نے 4 ایکشن پر عمل مکمل کیا ہے اور پانچویں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کا معاملہ ہمارا نہیں ہے، یہ پرانا معاملہ ہے، ہم اس کو حل کر رہے ہیں، اور خامیوں کو اجاگر کر رہے ہیں، وزیر اور سول ایوی ایشن کے بیان میں اگر تضاد ہے تو وزیر ایوی ایشن آکر جواب دیں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ بلین ٹری سونامی کے 110 نگہبان چترال میں لگائے گئے ہیں، 84000لوگوں کو اس منصوبہ میں ملازمت دی ہے۔منصوبہ پر 125 ارب پانچ سال میں خرچ کیاجائے گا جبکہ اتنی رقم صوبے خرچ کریں گے، تمام صوبوں میں یہ منصوبہ شروع ہو چکا ہے، وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے تحریری جواب قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے میں کل طیاروں کی تعداد 34 ہے، اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 جبکہ 3 ناقابل مرمت طیارے ہیں، کل طیاروں میں بی 777 کی تعداد 12، اے 320 کی تعداد 12، اے ٹی آر-72 کی تعداد 5 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 5 ہے، قابل مرمت طیاروں میں بی 777 کی تعداد 12، اے 320کی تعداد 12، اے ٹی آر-72 کی تعداد 4 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 3 ہے، نا قابل مرمت طیاروں میں بی 777 اور اے 320 میں کوئی شامل نہیں، ناقابل مرمت طیاروں میں اے ٹی آر-72 کی تعداد 1 جبکہ اے ٹی آر-42 کی تعداد 2 ہے۔

وقفہ سوالات

مزید :

صفحہ اول -