معیشت کو دستاویزی شکل دینا بہت بڑا چیلنج ہے،ہمایوں اختر

  معیشت کو دستاویزی شکل دینا بہت بڑا چیلنج ہے،ہمایوں اختر

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کی تکمیل کے بعد پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن کیلئے پہلا مرحلہ عبورکر لے گا،وزیرا عظم عمران خان ورثے میں ملنے والے پہاڑجیسے مسائل سے انتہائی جراتمندی سے نبرد آزما ہیں اور اسی وجہ سے ماضی کے '' تجربہ کار '' حکمرانوں کی حیرانی اور پریشانی دیدنی ہے،حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 2020میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 78فیصد کی ریکاڈ کمی ہوئی۔

حلقہ این اے 131کے رہنماؤں اور صنعتکاروں کے نمائندہ وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ہمایوں اختر خان نے کہا کہ مالی سال 2019 کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ13ارب 43 کروڑ ڈالر تھا جوجی ڈی پی کا 4.8 فیصد بنتا ہے،مالی سال 2020 کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب 66 کروڑڈ ا لر رہا۔ حکومت برآمدات کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، مینو فیکچرننگ پر خصوصی توجہ مرکوز ہے جس سے ہماری مجموعی گروتھ بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلئے ہرشخص کو اپنی استعداد کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا، صرف چند لاکھ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈال کر زیادہ دیر تک معاملات کو نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکمرانوں نے قومی اداروں کوبھی اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جس سے ان اداروں کی کارکردگی انتہائی متاثرہوئی اور اس کے نتائج پوری قوم کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اس بات سے آگاہ ہیں کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر گروتھ ممکن نہیں اس لئے نجی شعبے کو ہر طرح کی سہولتیں اورمراعات دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہے اس لئے اپوزیشن دو سالوں میں نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے تھوڑا صبر کرے انشا اللہ ہمارا وعدہ ہے کہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -