مرید عباس قتل پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے جواب طلب

مرید عباس قتل پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے جواب طلب

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نجی چینل کے اینکر مرید عباس کے قتل کیس کے ملزم عادل زمان کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر تے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ملزم سے جواب طلب کر لیا۔عدالت نے فریقین کو اگست کے پہلے ہفتے میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت کا حکم دیتے وقت اہم شواہد کو نظر انداز کیا، عاطف زمان نے ایک ہی پستول سے مرید عباس سمیت 2 افراد کو قتل کیا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ عادل زمان کا قتل میں کوئی کردار ہی نہیں ہے۔فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عادل زمان قتل کے وقت عاطف زمان کے ساتھ تھا، گواہ عمر ریحان نے اپنے بیان میں عادل زمان کی موجودگی کا بتایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عاطف زمان جب گولیاں چلا رہا تھا تو عمر ریحان نے اس کو پکڑا، عادل زمان نے عمر ریحان کو بھی پکڑا اور پھر اس پر فائرنگ کی کوشش کی۔فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمر ریحان نے ساری باتیں اپنے بیانات میں ریکارڈ کرائی تھیں، سندھ ہائی کورٹ نے گواہ کے بیانات کے بجائے مدعی کے بیان پر ضمانت دی۔درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ 9 جولائی کو مرید عباس کا قتل ہوا، 11 جولائی کو عمر ریحان نے بیانات ریکارڈ کرائے، مرید عباس سمیت دونوں افراد کے قتل میں دو، دو گواہ موجود ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -