سی پیک پراجیکٹس، 13ہزار چینی ماہرین، 60ہزار سے زائد پاکستانی کا م کر رہے ہیں: یاؤ جنگ

        سی پیک پراجیکٹس، 13ہزار چینی ماہرین، 60ہزار سے زائد پاکستانی کا م کر رہے ...

  

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کی شریک میزبانی میں ”وبائی صورتحال کے بعد چین پاکستان تعاون کے نئے مواقع اور چیلنجز“ کے موضوع پر چین،پاکستان تھنک ٹینکس ویبنار کا انعقاد ہوا، جس میں سرکاری افسران، معتبرماہرین اور منتظمین کو مل بیٹھنے کا موقع ملااور انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان وبائی صورتحال کے بعد دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی سفیر یاؤ جنگ اور سینیٹر مشاہد حسین سید اس ویبنار کے اہم مقررین میں شامل تھے۔ سابق وزیر آبادی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ا نٹر نیشنل (آر ڈی آئی) کی سربراہ ڈاکٹر بائیج ڑاؤ نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ گذشتہ ماہ کی ویڈیو کانفرنس میں بی آر آئی کے ذریعے رابطہ سازی کو بہتر بنانے سے متعلق صدر شی جن پنگ کی تقر یر عالمگیریت کے ایک نئے عہد کے آغاز کے حوالے سے چین کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔امید ہے بی آر آئی امن و استحکام کو فر و غ دینے میں کلیدی کردار ادا کریگی۔ چینی سفیر یاؤ جنگ نے کہا چین کو جب کووڈ -19 بحران کا سامنا تھا تو فروری میں پاکستان نے نہ صرف چین کو مدد فراہم کی بلکہ صدر پاکستان عارف علوی نے دورہ چین کرکے چین سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ پاکستان پہلا ملک ہے جس کیساتھ چین ویکسین تیار کرنیوالی تحقیقی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ سی پیک پراجیکٹس میں 13000 چینی ٹیکنیشن، انجینئر اور ماہرین جبکہ 60000 سے زیادہ پاکستا نی ملازمین بھی کام کر رہے ہیں۔ کورونا بحران کے تناظر میں پاکستان کیلئے چین کی طرف سے 15 ملین ڈالرکی امداد دی گئی،اب تک چین سے 10 چارٹرڈ طیارے ماہرین اور آلا ت لے کر پاکستان پہنچے ہیں اور رواں ماہ کے آخر تک 1000 مزید و ینٹی لیٹر فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی امور خارجہ کے چیئرمین اور پی سی آئی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد سید نے کہا کہ کورونا وائرس سرحدات سے ماوراہے لیکن اس بحران نے پاک چین باہمی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو ازسر نو مرتب کریں اور انسانی تحفظ، انسانی ترقی، صحت کی بہتر دیکھ بھال اور ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سلسلے میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو کو مشتر کہ مستقبل کے اپنے مقصد کے حصول کیلئے ایک رہنما ذریعہ کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ ویبنار میں پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفی حیدر سیدنے سی پیک کے سلسلے میں ایران کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی کو علاقائی رابطے کیلئے بھی نیک شگون قرار دیا۔ویبنار سے گوادر بندرگاہ کے امور کو چلانیوالی کمپنی سی او پی ایچ سی کے سربراہ ژانگ باؤڑونگ،پا ک چین ڈیسک کی سربراہی کرنیوالے ڈی جی دفتر خارجہ مدثر ٹیپو نے چین کیساتھ پاکستان کے تعلقات سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔

یاؤ جنگ

مزید :

صفحہ اول -