مہدی حسن کی 93ویں سالگرہ کے موقع پر آن لائن پروگرام

مہدی حسن کی 93ویں سالگرہ کے موقع پر آن لائن پروگرام

  

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، پنجاب کے زیر اہتمام شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی 93ویں سالگرہ کے موقع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں امجد پرویز، انور رفیع، ڈاکٹر خالد سعید، مسعود نبی بلوچ، سجاد بری، ڈاکٹر ناصر بلوچ، محمد عاصم چودھری، خاقان حیدر غازی اور ڈاکٹر صغرا صدف نے مہدی حسن کے فنّی محاسن اور شخصیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ استاد مہدی حسن فن موسیقی کے بے تاج بادشاہ تھے جن کے بارے میں میڈم لتا منگیشکر نے کہا تھا کہ انکے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ انہوں نے جس شاعر کو بھی گایا اسے امر کردیا۔ غالب، میر تقی میر اور فیض احمد فیض کے علاوہ مہدی حسن نے اپنے عہد کے کئی شاعروں کا کلام گایا۔

غزل گانے میں تو انہیں ملکہ حاصل تھا ہی لیکن انہوں نے گانے کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ کئی فلمی گیتوں کے علاوہ ہیر وارث شاہ بھی روایتی انداز سے ہٹ کر گائی۔ ان کا تعلق راجستھان سے تھا اسکے باوجود انہیں اردو اور پنجابی گیت گاتے ہوئے تلفظ کی ادائیگی میں کبھی دشواری پیش نہیں آئی۔ وہ پاکستان اور بھارت میں بیک وقت مقبول تھے۔ انکے فن کے اعتراف میں تمغہ حسنِ کارکردگی، نگار ایوارڈ، تمغہ امتیاز، ہلال امتیاز اورپاکستان کے دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی طرف سے کے۔ ایل سیگل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ گوگل نے بھی استاد مہدی حسن کی خدمات کے اعتراف میں انکا لوگو لگا کر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کئی نامور شاگرد پیدا کیے۔ انکے مداح انور رفیع نے انکے گائے ہوئے گیت ”میری وفا میرے وعدے پہ اعتبار کرو“، ”جرماں توں ودھ ملیاں سزاواں“، ”اک پیاری جیہی سوہنی صورت“، ”کون تیرے پیار دیاں قدراں پچھاندا“ مسعود نبی بلوچ نے اپنے دور کا زبان زدعام عام گیت ”زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں“ اور سجاد بری نے ”محبت زندگی ہے اور تم میری محبت ہو“ گا کر خوب رنگ جمایا۔ پروگرام میں میزبانی کے فرائض خاقان حیدر غازی نے سر انجام دئیے۔

مزید :

کلچر -