کوہاٹ میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ سے عوام عاجز،اووربلنگ کی انتہاء

  کوہاٹ میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ سے عوام عاجز،اووربلنگ کی انتہاء

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) جنگل خیل کے ساتھ عوامی نمائندوں سمیت واپڈا کا بھی ناروا سلوک جاری‘ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ‘ اووربلنگ کے علاوہ گھمکول فیڈر کے ساتھ منسلک ہونے کے باوجود او ٹی ایس فیڈر پر رکھنا شدید ظلم اور ناانصافی ہے جنگل خیل کے عوامی و سماجی حلقوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ناروا سلوک کا خاتمہ یقینی بنائیں بصورت دیگر بھر پور عوامی احتجاج کے لیے تیار رہیں اپنے ایک مشترکہ اخباری بیان میں ان حلقوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے واپڈا اور منتخب عوامی نمائندے جنگل خیل کی ایک لاکھ آبادی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ روز کا معمول ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ لاک ڈاؤن دورانئے کے حکومتی ریلیف سے بھی یہاں کے مکینوں کو محروم رکھا گیا ہے علاوہ ازیں اووربلنگ کے باعث دفتر پر عوام کا ہر وقت ہجوم لگا رہتا ہے جس میں نوجوان‘ بوڑھے اور خواتین صبح سے شام تک ذلیل و خوار ہوتی رہتی ہے مگر اووربلنگ کرنے والوں کو نکیل ڈالنے والا کوئی نہیں انہوں نے کہا کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ سالہا سال سے جنگل خیل کو گھمکول فیڈر سے منسلک کیا گیا یہ جو اس علاقہ کے بجلی بلز پر درج ہے مگر آدھی سے زائد آبادی کو او ٹی ایس فیڈر سے منسلک کیا گیا ہے جسے واپڈا والے لوڈ مینجمنٹ کا نام دے رہے ہیں گزشتہ ہفتے 132کے وی گرڈ سٹیشن میں دو بار آگ لگنے سے متعدد فیڈر جل گئے نتیجتاً 60 فیصد جنگل خیل کی بجلی بھی بند کر دی گئی جبکہ گھمکول فیڈر سے بجلی کی فراہمی تسلسل سے جاری رہی جو اہلیان جنگل خیل کے ساتھ شدید ظلم ہے انہوں نے واپڈا کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ‘ اووربلنگ کا خاتمہ کیا جائے اور جنگل خیل کے تمام علاقوں کو گھمکول فیڈر کے ساتھ منسلک کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہو گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -