کیڈٹ کالج محمد گٹ ضلع مہمند بھرتیوں کے عمل کے خلاف پشاورہائیکورٹ سے رجوع

    کیڈٹ کالج محمد گٹ ضلع مہمند بھرتیوں کے عمل کے خلاف پشاورہائیکورٹ سے رجوع

  

پشاور(نیوز رپورٹر) کیڈٹ کالج محمد گٹ ضلع مہمند میں جاری بھرتیوں کے عمل کے خلاف پشاورہائیکورٹ سے رجوع کرلیا گیا جبکہ عدالت نے چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایجوکیشن سمیت متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں قائم بنچ نے رحمان اللہ شاہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست گزار داؤد شاہ کی رٹ پر سماعت کی اس موقع پر درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیڈٹ کالج محمد گٹ مہمند ایجنسی کو اے ڈی پی پراجیکٹ کے ذریعے چلایاجارہا ہے جس کیلئے حکومت نے ملازمین کی تقرریوں و تنخواہوں کی ادائیگیوں کیلئے بھاری رقم مختص کررکھی ہے رحما ن اللہ شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو مزید بتایا کہ متعلقہ کالج کیلئے ملازمین کی تقرری کیلئے اشتہار جاری کیا گیااورمختلف آسامیوں کیلئے امیدواروں نے درخواستیں جمع کیں تاہم ملازمین کی تقرری کیلئے سلیکشن کمیٹی بن سکی نہ سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ متعلقہ پراجیکٹ کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری بھی نہیں کی گئی اور ان تمام لوازمات کو پورا کیے بغیر بھرتیوں کیلئے انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ بھرتیاں قانون کے مطابق ہونی چاہیے کیونکہ اس طریقہ کار سے مبینہ طور پر میرٹ نظرانداز ہونے اور من پسند افراد کو بھرتی کیے جانے کا امکان ہے ماضی میں ان علاقوں کو نظرانداز کیا گیا اوراب اگر میرٹ کے برعکس بھرتیاں ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف یہاں کے لوگوں کی حق تلفی ہوگی بلکہ علاقے کی ترقی کیلئے بھی یہ نیک شگون نہیں عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم اور سیکرٹری اسٹبلشمنٹ سے بھی جواب طلب کرلیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -