سمند پار پاکستانیوں کی اکثریت کرونا ء سے قبل بے روزگار ہوئی، زلفی بخاری

سمند پار پاکستانیوں کی اکثریت کرونا ء سے قبل بے روزگار ہوئی، زلفی بخاری

  

دبئی(این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے بتایا ہے کہ بیرونِ ملک نوکریوں سے محروم ہونے والے زیادہ تر پاکستانی ورکرز کورونا وائرس کی وبا سے قبل بے روزگار ہوئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ مجموعی طور پر دنیا بھر میں اب تک 50 سے 55 ہزار پاکستانی نوکریوں سے نکالے گئے لیکن ان میں زیادہ تر یعنی 36 ہزار سمندر پار پاکستانی وبا سے پہلے بے روزگار ہوئے انہوں نے کہاکہ صرف سعودی عرب میں 10 ہزار پاکستانی نوکریوں سے محروم ہوئے تاہم اس میں 5 ہزار 100 ورکرز وبا سے قبل بے روزگار ہوئے ا زلفی بخاری نے بتایا کہ دبئی آنے کا مقصد یہ تھا کہ جن افراد کو چھٹیوں پر بھیجا گیا ہے انہیں نوکریوں پر واپس بھجوانے کی کوشش کی جائے معاون خصوصی نے کہا کہ ایک لاکھ 2 ہزار افراد ایسے ہیں جو تمام تر لوازمات پورے کر کے بیرونِ ملک نوکری پر جانے کے لیے تیار ہیں تاہم فضائی حدود کے علاوہ وبا ء کے باعث نوکریوں کے مواقع بھی بند ہیں ان کے مطابق جس معاملے کو سائنسی طریقے سے حل کرنا ہے وہ یہ کہ وبا کے بعد نوکریاں کھلنے پر ان ایک لاکھ 2 ہزار افراد کو ملازمت پر بھیجا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ 18 ماہ میں 9 لاکھ 70 ہزار افراد کو بیرونِ ملک بھیجا زلفی بخاری نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی ایپلی کیشن لانچ کی گئی ہے جس میں نوکریوں سے محروم 50 ہزار پاکستانی ورکرز نے اپنا اندراج کیا ہوا ہے جن کی قابلیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نوکریاں ڈھونڈنے میں مدد کی جارہی ہے معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹیفٹا اور نیفٹا کے ساتھ ایم او یو سائن کیا گیا ہے جس کے تحت ان کی اسکلز بہتر بنائی جارہی ہیں اس طرح جب بیرونِ ملک نوکریوں کی طلب ہوگی تو ہم صحیح قابلیت کے افراد بھجواسکیں گے لفی بخاری نے کہا کہ ہم نے بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے افراد کی اسکلز، نوکریوں سے محرومی پر گرانٹ کے حوالے سے جے آئی زی کے ساتھ ایم او یو سائن کیا ہے۔

زلفی بخاری

مزید :

صفحہ آخر -