ٹڈی دل کے خاتمے میں چین پاکستان کے شانہ بشانہ

ٹڈی دل کے خاتمے میں چین پاکستان کے شانہ بشانہ
ٹڈی دل کے خاتمے میں چین پاکستان کے شانہ بشانہ

  

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، اس کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے۔ گزشتہ برس سے پاکستان کی زرعی معیشت کو ٹڈی دل کا سامنا ہے۔ جس کی تباہ کاریاں رواں برس بھی جاری ہیں۔ اس وبا سے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان روائتی اتحادی اور درینہ دوست چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔ اس سلسلے میں تیئیس جولائی کو بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے زیراہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں چین کی وزارت زراعت اور دیہی امور نے پاکستان کی وزارت برائے غذائی تحفظ و تحقیق کو صحرائی ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے ڈرون عطیہ کئے۔ اس تقریب میں بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور جناب احمد فاروق ، چین کی وزارت زراعت اور دیہی امور کی نمائندہ محترمہ ما ہانگ تاؤ سمیت ڈرون تیار کرنے والی کمپنی کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اس موقع پر بیجنگ میں پاکستان سفارت خانے کے اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔عطیہ کئے گئے ڈرون ایگراس ٹی-16 کی قیمت چھ لاکھ ستر ہزار چینی یوان ہے۔ اس ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان کو ٹڈی دل کی وبا پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔پاکستان کے لئے چین کی جانب سے ڈرون کا تحفہ چین کی حکومت اور چین کے عوام کی جانب سے وبا پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنے کے لئے چین کے پختہ عزم کا اعادہ ہے۔بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور جناب احمد فاروق نے پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے چینی حکومت اور عوام کے جذبہ خیر سگالی اور فراخدلانہ مدد کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل چین کے صوبہ ہوبئی کے شہر شی جیا جوانگ نے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے پاکستان کو 15 ٹن کیڑے مار ادویات اور دوسرے سامان کی فراہمی کی۔ اس کے علاوہ چینی ماہرین کی ۔ ایک ٹیم بھی پاکستان آئی اور ٹڈی دل کے حوالے سے مقامی ماہرین کے ساتھ چین کے تجربات کا تبادلہ کیا۔

پاکستان کی فصلوں کو اس وقت ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔چین کی بروقت امداد کی بدولت اب پاکستان میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے ادویات میسر ہوچکی ہیں۔

پاکستان گزشتہ سال 2019 سے بھی ٹڈی دل کے حملوں سے متاثر ہے اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 30ممالک میں شامل ہے جو ٹڈی دل حملوں سے متاثر ممالک میں شامل ہیں ٹڈی دل ایتھوپیا،سومالیہ ،یمن،سعودی عرب اور پھر عمان سے ہوتی ہوئی ایران میں داخل ہوئیں اور وہاں سے چاغی بلوچستان اور پھر صوبہ سندھ میں پہنچیںپاکستان میں صحرائی ٹڈی کی افزائش نسل کے دو موسم ہیں ایک موسم سرما جو فروری سے جون تک ہوتا ہے اور اس کا علاقہ بلوچستان میںہے جبکہ دوسرا جون سے ستمبر تک ہے اس کا علاقہ بدین سے لے کر پنجاب میں بہاول نگر تک پھیلا ہوا ہے جب ایک سیزن ختم ہوجاتا ہے تو یہ ٹڈیاں دوسرے سیزن میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کو رواں سال مجموعی طور پر 900ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے رواں سال کے جنوری میں قومی پلان کی منظوری دی تھی۔ٹڈی دل کا خطرہ کورونا وائرس سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے جس سے ملک میں خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ٹڈی دل حملوں سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ 25فیصد اور بلوچستان 60فیصد متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور صرف سندھ میں 600ارب روپے کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

چین کی جانب سے ہرمشکل گھڑی میں پاکستان کی بھرپور حمایت دونوں ملکوں کی حقیقی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو دو طرفہ عوام کی دلی وابستگی سے مشروط ہے جبکہ یہ دوستی اوربھرپور تعاون عالمی بحرانوں کے دوران بھی زور و شور سے جاری ہے۔پاکستان نے کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں چین کو اخلاقی مدد و حمایت فراہم کی جبکہ چین نے بھی پاکستان میں عالمی وبائی مرض کے پھیلاؤ اور ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کے لئے بھرپور مدد و تعاون فراہم کی۔ یاد رہے کہ چین نے اب تک پاکستان کو ٹڈیوں پر قابو پانے والے300ٹن کیڑے مار ادویات اور 350 گاڑیاں سے چلنے والے اسپرے عطیہ کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لوکس کنٹرول کے چینی ماہرین بھی اس حملوں سے نمٹنےکے لئے پاکستان کے دورے کیے ہیں۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -