تینوں صورتوں میں لڑکی سے مرد بن کر شادی کرنیوالے آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار لیکن ایڈووکیٹ جنرل نے کیا رائے دی ؟ عدالتی کارروائی کی تفصیل سامنے آگئی

تینوں صورتوں میں لڑکی سے مرد بن کر شادی کرنیوالے آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی ...
تینوں صورتوں میں لڑکی سے مرد بن کر شادی کرنیوالے آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار لیکن ایڈووکیٹ جنرل نے کیا رائے دی ؟ عدالتی کارروائی کی تفصیل سامنے آگئی

  

راولپنڈی (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں لڑکی سے لڑکا بن کر شادی کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین میں عورت کی عورت سے شادی جائز نہیں۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے لڑکی سے لڑکا بن کر شادی کرنے والے علی آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔لڑکی سے لڑکا بن کر شادی کرنے کے کیس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کی۔

علی آکاش کے وکیل نے دورانِ سماعت عدالتِ عالیہ کو بتایا کہ علی آکاش کو ٹائیفائیڈ ہے، جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، لہٰذا انہیں مزید وقت دیا جائے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں میاں بیوی کو عدالت پہنچنے کے لیے سیکیورٹی چاہیے، پولیس کی جانب سے دونوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، راولپنڈی پولیس پر اعتماد نہیں، لاہور پولیس کی سیکیورٹی چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ اسلامی قوانین میں عورت کی عورت سے شادی جائز نہیں۔عدالتِ عالیہ نے کہا کہ کیس کے حل کے لیے عدالت کے پاس 3 آپشنز موجود ہیں، مکمل کیس ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا کو بھیج دیا جائے یا عدالتِ عالیہ خود کوئی جنرل آرڈر پاس کر دے یا وکلاءاس پر معاونت کریں۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ہدایت کی کہ تینوں صورتوں میں علی آکاش کا میڈیکل ٹیسٹ لازمی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -