"چندا ماموں دور کے"

"چندا ماموں دور کے"

  

تحریر: واثق پیرزادہ

وطن عزیز میں گزشتہ ایک دو سال سے ماہ رمضان، شوال اور ذوالحج کے چاند کی رویت کے اعلان کے حوالے سے اچھی خاصی بد مزگی پیدا ہونے لگی ہے.

اس سے قبل بھی مفتی پوپلزئی صاحب رویت ہلال کمیٹی کو چیلنج کرتے اور پشاور و خیبر پختون خواہ میں عید سعودی عرب کے ساتھ منانے کی روایت رکھتے ہیں، لیکن جو صورتحال آج ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی.

مختلف طبقہ فکر اس پر اپنی اپنی آراء رکھتے ہیں. ایک کے نزدیک احادیث کے مطابق چاند کی رویت کا اعلان ہر حال میں صرف اسے آنکھ سے دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے، جس کے لئیے مختلف علاقوں سے ملی شہادتوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے، اس ضمن میں صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1907 کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں اللہ کے نبی نے فرمایا کہ "جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو"، جبکہ دوسرے کے مطابق چاند کی پیدائش اور اس کے محور کے گرد چکر کو مانیٹر کرنے والے آلات سے ہی اس کی رویت کے متعلق اندازہ قائم کر کے اعلان کیا جا سکتا ہے.

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب نے قمری کیلنڈر کا خیال پیش کیا جو کہ اس سے پہلے بہت سے اسلامی ممالک میں Follow کیا جاتا ہے، اور اس مطابق رمضان، شوال اور ذوالحج کے چاند سے متعلق پیش گوئی بھی کی، جس پر چئیرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان صاحب نے نہ صرف اس کو بے جا مداخلت خیال کرتے ہوئے برا منایا بلکہ ردعمل میں برہمی کا اظہار بھی کیا.

ایک وقت تھا جب انسانی آنکھ کے علاوہ چاند دیکھنے کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا اور بادلوں کے ہوتے اس کو دیکھنا نا ممکن تھا، لیکن دوربین و خوردبین کی ایجاد نے انسانی آنکھ کو بے حد وسعت و طاقت دی.

انسان کو نئی، وسیع اور لامتناہی دنیا دیکھنے کو ملی، صرف بادلوں کے پار نہیں بلکہ ستاروں سے آگے بھی کائنات کے مشاہدے کا موقع ملا.

جیسے آج ہم ہاتھ پر موجود جراثیم کو آنکھ سے نظر نہ آنے پر بھی نہیں جھٹلا سکتے ،اسی طرح بادلوں کے پیچھے موجود چاند کو بھی نہیں ،کیونکہ یہ ایجادات ان کی موجودگی ثابت کر دیتی ہیں.

اگر ماضی قریب میں تاریخ پر غور کیا جائے تو علماء کرام کی بڑی تعداد نہ صرف سائنسی ٹیکنالوجی سے بیزار بلکہ اس کی ایجادات کو رد کرتے ہوئے حرام قرار دیتے نظر آتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ کچھ عرصہ بعد یہی ایجاد نہ صرف حلال بلکہ پورے طور سے ان کے ذاتی استعمال میں بھی آ جاتی ہے. لاؤڈ اسپیکر، کیمرا اور ٹی وی اس کی مثالیں ہیں.

اس سے قبل چھاپہ خانہ "پریس" سے متعلق بھی ان کا رویہ یہ رہا کہ چار سو سال تک اسے حرام قرار دئیے رکھا جس کی پاداش گنتی کے قلمی نسخوں پر منتقل کئے گئے دینی و دنیاوی علم سے مسلمانوں کی نہایت مختصر تعداد مستفید ہو سکی ،جبکہ کفار نے اس کے ذریعے علم کو اپنے ہاں عام کیا.

ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد علماء کرام قمری کیلنڈر کو بھی حلال قرار دے کر Follow کرتے نظر آئیں، لیکن اب تک تو سائنسی ٹیکنالوجی اور اس کی ایجادات سے اس قدر بیزار رہے ہیں کہ ان کے استعمال کو فوراً حرام قرار دیتے اور پھر ان افادیت کو تسلیم کرنے و اپنانے میں سال ہا سال لگا دیتے ہیں.

حالانکہ ایسا بھی نہیں کہ وہ اسے انسانی یا شیطانی علم خیال کرتے اور دینی کے علاوہ کسی بھی اور علم کی دین میں گنجائش کو رد کرتے ہیں، بلکہ میری ناقص رائے میں تو وہ ہم سب عام مسلمانوں سے بہتر اس حقیقت کو جانتے و سمجھتے ہیں کہ سائنس وہ ہی علم ہے جو رب العالمین نے آدم علیہ السلام پر دینی کے ساتھ اکتسابی علم کے نام سے اتارا تھا، اور یہ دینی احکامات سے کبھی ٹکراتا نہیں بلکہ ان کا برحق ہونا ہمیشہ ثابت کرتا ہے.

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بدولت سیارے، چاند اور تارے دنیا کے لئیے بے شک سمٹ کر مٹھی میں سمائے یا ہتھیلی پر ٹکے ہوں، ہم پاکستانیوں کے لئیے تو ہنوز "چندا ماموں دور کے" ہیں، اور نہ جانے کب تک رہیں گے.

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -