”بات یہاں نہیں رکے گی آگے تک جائے گی “ جعلی پائلٹ لائسنس معاملہ، وفاقی وزیر غلام سرور پھر میدان میں آ گئے ، اعلان کر دیا

”بات یہاں نہیں رکے گی آگے تک جائے گی “ جعلی پائلٹ لائسنس معاملہ، وفاقی وزیر ...
”بات یہاں نہیں رکے گی آگے تک جائے گی “ جعلی پائلٹ لائسنس معاملہ، وفاقی وزیر غلام سرور پھر میدان میں آ گئے ، اعلان کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور نے کہاہے کہ انکوائری کی گئی تو بہت سے پائلٹس کے لائسنس مشکوک پائے گئے ، انہیں شوکاز جاری کیے گئے اور چارج شیٹ بھی دی گئی ، کچھ نے تو اعتراف بھی کر لیا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور اعتراف کرنے والوں کی تعداد ٹھیک ٹھا ک تھی، بات یہاں نہیں رکے گی ، آگے جائے گی ، بھرتیوں میں لین دین بھی ہوا ہو گا ، لینے والا اور دینے والا بھی برابر کے قصور وار ہیں ، امتحان کس کی جگہ کس نے بیٹھ کر دیا ، اگر جس کی جگہ بیٹھ کر دیا گیا تو اس کے خلاف ایکشن ہوتا ہے اور لائسنس کینسل ہوتا ہے تو جس نے کسی کی جگہ بیٹھ کر دیا تو اس کا بھی لائسنس کینسل ہو گا اور اس پر کریمنل کیسز بھی درج ہوں گے۔

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ متنازع بنایا گیا ، ساری بھرتیاں 2018 سے پہلے کی گئیں،پی آئی اے میں پائلٹس کی بھرتیاں 2018سے پہلے کی گئیں، پائلٹس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، پی آئی اے میں ماضی میں جعلی بھرتیاں کی گئیں، یورپ اوربرطانیہ میں پی آئی اے پر 6 ماہ کیلئے پابندی لگائی گئی، پابندی کے خلاف 2 ماہ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں یہ سلسلہ سپریم کورٹ میں شروع ہوا ، سول ایوی ایشن نے اپنے پائلٹ لائسنسگ پر کام شروع کیا ، جب انکوائری کی گئی تو بہت سے پائلٹس کے لائسنس مشکوک پائے گئے ، انہیں شوکاز جاری کیے گئے اور چارج شیٹ بھی دی گئی ، ان پائلٹس کو پرسنل ہیرنگ پر بلایا گیا جس دوران کچھ نے تو اعتراف بھی کر لیا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور اعتراف کرنے والوں کی تعداد ٹھیک ٹھا ک تھی ۔

اس پر فروری میں ہم نے ایک تحقیقاتی بورڈ بنایا جس کی سربراہی 22 ویں گریڈ کے افسرنے کی ، فرانزک انکوائری ہوئی ، ایک سال اور چار مہینے لگے ، اس کے بعد انکوائری رپورٹ وزارت کو دی گئی اور وزیراعظم عمران خان کو بھی بریف کیا گیا ، 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک پائے گئے ، ان میں سے 28 پائلٹس پرتمام پراسیڈنگ مکمل کرنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ وہ غلط طریقے سے لائسنس لیے گئے ، تو فیڈر ل حکومت سے ان کو منسوخ کرنے کیلئے منظوری لی گئی ۔

وفاقی وزیر کا کہناتھا کہ سول ایو ی ایشن نے جو سپریم کورٹ میں جواب دیا اس میں بھی 262 کا فگر مینشن کیا گیا ، بات یہاں نہیں رکے گی ، بات آگے جائے گی ، بھرتیوں میں لین دین بھی ہوا ہو گا ، لینے والا اور دینے والا بھی برابر کے قصور وار ہیں ، امتحان کس کی جگہ کس نے بیٹھ کر دیا ، اگر جس کی جگہ بیٹھ کر دیا گیا تو اس کے خلاف ایکشن ہوتا ہے اور لائسنس کینسل ہوتا ہے تو جس نے کسی کی جگہ بیٹھ کر دیا تو اس کا بھی لائسنس کینسل ہو گا اور اس پر کریمنل کیسز بھی درج ہوں گے۔

غلام سرور کا کہناتھا کہ ہم نے تحقیقاتی بورڈ کے ممبر کو ٹاسک دیا ہے ، وہ رضاکارانہ کام کررہے ہیں ، سہولات کاروں اور مجرم تک بھی ہم نے پہنچنا ہے ، یہ سب کچھ پورے وسوخ اوریقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے ، انسانوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے ، سفر کو محفوظ بنانا ہے ۔اس مقصد کیلئے ساری انکوائری بھی ہوئی ، یہ ایکشن بھی ہوا اور سٹیٹمنٹ بھی ہوئی ،ہماری نیت ٹھیک ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -