حکومت پنجاب نے پتنگ بازی پر 6 ماہ قید کو بڑھا کر 5 سال اور جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کردیا

حکومت پنجاب نے پتنگ بازی پر 6 ماہ قید کو بڑھا کر 5 سال اور جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا ...
حکومت پنجاب نے پتنگ بازی پر 6 ماہ قید کو بڑھا کر 5 سال اور جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کردیا

  

لاہور (لیا قت کھرل )پنجاب حکومت نے کائٹ فلائنگ(پتنگ بازی)جیسے خونی کھیل کی روک تھام کے لئے قانون سازی کیلئے مسودہ تیار کر لیا ہے ۔ جس کے تحت پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے اور پتنگ بازی پر6ماہ قید کو بڑھا کر 5سال جبکہ جرمانہ 5لاکھ سے بڑھا کر 20لاکھ کیا جارہا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب حکومت نے پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کی مکمل روک تھام کے لیے نئے سرے سے قانون سازی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے جس میں کائٹ فلائنگ کے اقدام کو باقاعدہ جرم قراردیا جا رہا ہے اور اس میں محکمہ پولیس پنجاب کی جانب سے محکمہ داخلہ پنجاب کو ایک سمری بھی بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کی مکمل روک تھام نہ ہونے کی بنیادی وجہ قانون میں قید اور سزا کم ہے جس سے ملزمان بچ نکلتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے آج تک کسی ملزم کو سزا نہیں مل سکی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے محکمہ پولیس کی جانب سے کائٹ فلائنگ کی روک تھام کے حوالے سے بھجوائی گئی سمری کی جانچ پڑتال کے بعد باقائدہ مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں پنجاب حکومت نے کائٹ فلائنگ کی مکمل روک تھام کے لیے کائوٹ فلائنگ ایکٹ 2001 میں ترمیم کر کے نئے سرے سے قانون سازی کر نے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے  جس کے تحت کائٹ فلائنگ ایکٹ 2001 میں سزا اور جزا کو بڑھایاجارہا ہے ۔ جس کے تحت کائٹ فلائنگ ایکٹ 2001 میں پتنگیں اور ڈور تیار کرنے سمیت پتنگ بازی پر 6ماہ قید کو بڑھا کر 5سال قید کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اسی طرح جرمانہ5لاکھ سے بڑھاکر 20لاکھ مقرر کر نے کا مسودہ میں ذکر کیا گیا ہے ۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سرے سے کی گئی قانون سازی میں پتنگ سازی کے دھندے میں ملوث افراد اور پتنگیں وڈور فروخت کر نے والوں کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہو ں گے جبکہ پتنگ بازی پر قتل کی دفعہ 302کے تحت مقدمات درج کرنے سے پہلے قاتل پتنگ باز کا سراغ لگانے کے لئے ڈورون کیمروں کی مدد لی جائے گی اور قاتل پتنگ باز کو گرفتار کر کے قتل کی دفعہ 302کے تحت عمر قیدیا سزائے موت دلوانے کے لیے ماہر پولیس افسران تفتیش کریں گے اور اس کے لیے سپیشل پراسیکیوٹرز بھرتی کیے جائیں گے جبکہ پتنگ بازی کے متوقع سیزن میں روک تھام کےلیے پتنگ سازی اور ڈور تیار کرنے والے کارخانوں کی خفیہ مانیٹرنگ کی جائے گی جس میں تھانوں اور یونین کونسلز کی سطح پر پولیس اور ٹائیگر فورس کو ذمہ داری سونپی جائے گی جس میں خفیہ اداروں کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ میں ترمیم کے لیے مسودہ جلدپنجاب اسمبلی پیش کر دیا جائے گا جس میں منظوری کے بعد پتنگ سازی اور پتنگ بازی میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جا سکے گی جبکہ اس حوالے سے سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2001 پتنگ بازی کی روک تھام کے حوالے سے سود مند ثابت نہیں ہو سکا ۔ جس میں سزا اور جزاکم تھی جس کی وجہ سے ملزمان بچ نکلتے تھے ۔

سی سی پی او نے بتایاکہ رواں سال کے دوران پتنگ سازی کے سینکڑوں کارخانے پکڑ کر لاکھوں کی تعداد میں پتنگیں اور ڈوروں سمیت خام مال برآمد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کے خلاف 9101 مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے مزید بتایا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2001 میں ترمیم ہونے کے بعد نئے سرے سے قانون سازی پر پتنگ ساز اور پتنگ بازبچ نہیں سکیں گے اور کئی سال سے جاری پتنگ بازی کا خونی کھیل ختم ہو کر رہ جائے گا ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -