گھر والے سوپ پیتے رہے، دو دن بعد پتہ چلا اس میں تو مری ہوئی چمگادڑ موجود تھی، دیکھتے ہی سب نے ہسپتال کی جانب دوڑ لگادی

گھر والے سوپ پیتے رہے، دو دن بعد پتہ چلا اس میں تو مری ہوئی چمگادڑ موجود تھی، ...
گھر والے سوپ پیتے رہے، دو دن بعد پتہ چلا اس میں تو مری ہوئی چمگادڑ موجود تھی، دیکھتے ہی سب نے ہسپتال کی جانب دوڑ لگادی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چمگادڑ کا سوپ چینیوں کو بہت مرغوب ہے اور وہ بڑے شوق سے پیتے ہیں لیکن جب سے کورونا وائرس کے متعلق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ یہ چمگادڑ سے پھیلا، تب سے چینی بھی چمگادڑوں سے خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ ان کے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایک چینی فیملی ریسٹورنٹ پر سوپ پی رہی تھی کہ اس میں سے چمگادڑ نکل آئی اور پوری فیملی نے ہسپتال کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ اپنے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروا سکیں۔

انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ واقعہ چین کے شہر ووہان میں پیش آیا ہے جہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا اور اس کا خوف اب بھی ووہان کے شہریوں میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ اس فیملی ایک فرد شین وو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ” انہوں نے خنزیر کا سوپ آرڈر کیا تھا جو ایک بڑے برتن میں ان کے سامنے لایا گیا۔ سب لوگ اس سے نکال کر سوپ پیتے گئے اور جب سوپ کم رہ گیا تو کیا دیکھا کہ پیندے میں مردہ چمگادڑ پڑی تھی۔ “رپورٹ کے مطابق ان میں سے کسی میں بھی کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔ دوسری طرف اس ریسٹورنٹ نے اس واقعے کے بعد اس فیملی کو تمام رقم واپس کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوپ بناتے وقت چمگادڑ اس میں نہیں گری۔ رات کے وقت چمگادڑیں اڑتی رہتی ہیں، چنانچہ غالب امکان ہے کہ فیملی کی میز پر پہنچنے کے بعد ہی اس میں چمگادڑ گری ہو گی۔

مزید :

بین الاقوامی -