پنجاب حکومت نے ٹیچنگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا

پنجاب حکومت نے ٹیچنگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا
پنجاب حکومت نے ٹیچنگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے ٹیچنگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا،صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کی تقر یر کے دوران اپوزیشن کا ایوان میں شدید احتجاج،ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑدیں جبکہ وزیر تعلیم مراد راس نے کہا کہ ٹیچر لائسنسنگ ایکٹ جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، آئندہ ایک ماہ میں صوبے کے تمام سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کو مکمل کرلیں گے،پرائیوٹ سکول کی رجسٹریشن بھی آن لائن کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد کی صدارت میں شروع ہوا۔ اپوزیشن کی جانب سے متعددممبران مسلسل پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے اجازت مانگتے رہے جس پر وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو رولز سے آگاہ کیا کہ رولز ایجنڈے سے ہٹ کر پواینٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے جس پر اپوزیشن کی جانب سے بھی نکتہ اعتراض پر بات کرنے کے لئے رانا مشہود ملک ارشد، طاہر خلیل سندھر رمیش سنگ اروڑہ سمیت دیگرنے چیئرمین سے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت مانگتے رہے لیکن انہوں نے کسی کو اجازت نہیں دی،اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج شروع کردیا اور نعرے لگانے شروع کردئے شور اس قدر تھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی،اسی دوران چیئر میں نے تعلیم پر عام بحث کے آغاز کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر مراد راس کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا اور اپوزیشن کے شور شرابے میں وزیر تعلیم کی تقریر جاری رہی، اپوزیشن نے وزیر تعلیم کی تقریر کے دوران ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں لہرا دیں اور نعرے بازی کرتے ہوئے ڈیسک بجانا شروع کردئیے ۔صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے وزارت سنبھالی تو مجھے لگا جیسے میں تعلیم کا وزیر نہیں بلکہ وزیر ٹرانسفر ہوں،اِن کی دس سال حکومت رہی انہیں اب بولنے کی بجائے منہ پر انگلی رکھ کر بیٹھ جانا چاہیے، اگر پی ٹی آئی کی دس سال تک حکومت رہتی تو ہم کبھی نہ بولتے، یہ لوگ اربوں کی کرپشن کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ 22 ہزار ٹرانسفر کی درخواستیں آئیں، صرف 23 شکایات آئیں ٹیچرز کی ٹرانسفرز کا معاملہ احسن انداز سے نمٹایا،صرف ایک ایپ بنائی جس پر ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوا،خواتین ٹیچرز کے والدین ہمارے ممنون ہوئے،70فیصد بچے پانچویں کلاس کے بعد سکولوں سے غائب ہو جاتے تھے، سکول نہ ہونے کی وجہ سے، 22ہزار بچوں کو سکولوں میں واپس لائے،ایک ہزار شام کے نئے سکول کھول رہے ہیں، 1227سکول اپ گریڈ کئے گئے، ایک لاکھ سے زیادہ بچے سکولوں میں واپس آگئے،یہ دس سال وزیر رہنے کے بعد شکایت لے کر آتے ہیں کہ میرے حلقے کا سکول ٹھیک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولز ایکٹ پہلی بارلا رہے ہیں، اس ایکٹ میں ہراسمنٹ کی شق لائی جارہی ہے، ڈاکٹر، انجنئیرز کی طرح ٹیچر لائسنسنگ ایکٹ بھی لایا جارہا ہے، اس اقدام سے ٹیچرز کو دوسرے ممالک میں روزگار کے مواقعے ملیں گے، آئندہ ایک ماہ میں صوبے کے تمام سکولوں میں اساتذہ کی تعداد مکمل کرلیں گے ،عید کے بعد ساٹھ ہزار پرائیویٹ سکولز کی آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع کررہے ہیں، پیسے اور سفارش کا کردار ختم کردیں گے ،تعلیمی اداروں میں دونمبری کے لئے کبھی ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -