آسٹریلوی کمپنی کو کورونا سے محفوظ کپڑے بنانے کا دعویٰ مہنگا پڑ گیا

آسٹریلوی کمپنی کو کورونا سے محفوظ کپڑے بنانے کا دعویٰ مہنگا پڑ گیا
آسٹریلوی کمپنی کو کورونا سے محفوظ کپڑے بنانے کا دعویٰ مہنگا پڑ گیا

  

کنبر ا (ویب ڈیسک) آسٹریلوی کپڑے بنانے والی کمپنی ' لورنا جین ' کو کورونا سے محفوظ کپڑے بنانے اور کورونا کو ختم کرنے کا دعویٰ بہت مہنگا پڑ گیا، کمپنی کو 26 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 58 کروڑ پاکستانی روپے) کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ ا۔

لورنا جین کی جانب سے اشتہار دیا گیا تھا کہ ان کے ملبوسات میں ایک' ایل جے شیلڈ' نامی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جس کی مدد سے بیماری پھیلانے والے جراثیم کو منتقل ہونے سے روکا جاسکے گا تاہم   ایک فیصلے میں جج نے کہا کہ کمپنی کا یہ دعویٰ ممکنہ طور پر خطرناک ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کو قبول کرلیا گیا ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو 'بل کلارکسن'کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ہی سپلائر کی جانب سے گمراہ کیا گیا ،ایک قابل اعتماد سپلائر نے ہمیں ایک ایسی پروڈکٹ فروخت کی جو وعدے کے مطابق کام نہیں کررہی تھی۔سپلائر نے ہمیں اس بات پر یقین کرنے کو کہا کہ ایل جے شیلڈ ٹیکنالوجی کو آسٹریلیا ، امریکا ، چین اور تائیوان میں فروخت کیا جارہا ہے اور یہ دونوں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہیں، اس لیے ہمیں یقین تھا کہ ہم اپنے صارفین کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

یہ قانونی کارروائی آسٹریلوی مسابقت اور صارف کمیشن (اے سی سی سی) کے ذریعے عمل میں لائی گئی جب لورنا جین نے کورونا کے دوران گذشتہ جولائی میں لباس کی مارکیٹنگ شروع کی تھی۔جمعہ کو شائع ہونے والے فیصلے میں وفاقی عدالت کے جج کے مطابق لورنا جین نے صارفین سے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایک  ٹیکنالوجی موجود ہے جبکہ حقیقت میں کمپنی کے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی ۔عدالت نے کمپنی کو  صارفین  سے جھوٹ بولنے اورگمراہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 26 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا۔

واضح رہے گذشتہ ہفتے کمپنی کو مبینہ  طور پر کورونا کے حوالے سے  غیر قانونی اشتہار کے الزام میں' تھراپیٹک گڈز ایڈمنسٹریشن ڈرگ ریگولیٹر' نے 40،000  آسٹریلوی ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -