محترمہ شہید کی یاد....

محترمہ شہید کی یاد....
محترمہ شہید کی یاد....

  


 ملک جاوید شہباز ہیراجیالا ہے اور جیالا بھی ایسا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار رہتا۔آج بھی جب محترمہ شہید ایک یاد ہیں، ایک نام ہیں اور بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کامیابی کی کنجی ہیں، جاوید شہبازہیرا محترمہ کی یادوں کو سمیٹنے اور جمع کرنے میں مگن رہتا ہے۔راﺅ سکندر اقبال(مرحوم) پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر تھے تو ملک ہیرا ابھر کر سامنے آئے کہ نہ صرف پارٹی بلکہ اے آر ڈی کے اجلاس بھی انہی کی رہائش پر ہوتے، حتیٰ کہ محترم نوابزادہ نصراللہ خان بھی پسند کرتے تھے۔ان کو اے آر ڈی پنجاب کا فنانس سیکرٹری بنایا گیا۔ یہی نہیں پارٹی کے اہم رہنماﺅں میں ناہید خان، عبدالقادر شاہین، جہانگیر بدر اور یوسف رضا گیلانی بھی ان کے ہاں آتے اور وہ متعلقہ بیٹ رپورٹروں کو مدعو کرکے گفتگو بھی کرالیا کرتے تھے، پھر راﺅ سکندر اقبال جنرل پرویز مشرف کے پیٹریاٹ ہو گئے۔ملک جاوید شہباز پر ان کا لیبل لگا جسے ذاتی دوستی اور پارٹی وفاداری کے خانوں کی تقسیم کے حوالے سے وضاحت کرتے، ان کو کچھ وقت لگا۔بہرحال محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان پر اعتماد کیا اور وہ مرکزی مجلس عاملہ کی فنانس کمیٹی کے رکن بھی نامزد کئے گئے۔مجالس عاملہ کے ان اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے تھے جو لندن یا دوبئی میں ہوئے، تحریک کے حوالے سے گرفتاری اور رہائی تو قاسم ضیائ، میاں مصباح الرحمن، نوید چودھری اور دوسرے پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں کے ساتھ ہوتی رہتی تھی۔ محترمہ کی شہادت پر ان کے گھرانے کی کیفیت بھی کچھ الگ نہیں تھی، بلکہ کچھ زیادہ ہی غمناک تھی، نئی قیادت کے بعد یہ اگلی پچھلی صفوں میں نظر نہیں آتے اور نہ ہی مجلس عاملہ سے کوئی تعلق نظر آیا ۔ایسا لگتا ہے کہ پارٹی قیادت نے ان کو بھی بعض دوسرے حضرات کی طرح پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

معذرت خواہ ہیں، تمہید لمبی ہوگئی۔دراصل ان ملک ہیرا نے چند روز پہلے ہمیں ایک تصویر میل کی جو قطعی اور حقیقی یادگار ہے۔ملک جاوید نے یہ تصویر انٹرنیٹ ویب سے لی اور ان کے مطابق محترمہ کے دوسرے دور اقتدار کی ہے،جب 1993ءمیں وہ دوبارہ وزیراعظم بنیں۔یہ تصویر کسی ایئرپورٹ کی ہے جہاں ہم محترمہ سے بالمشافہ مخاطب ہیں۔دوسرے حاضرین میں بیرسٹر کمال اظفر اور ایک بلوچ رہنما ہیں، قدرتی طور پر یہ تصویر ہمارے فرائض منصبی کی ادائیگی ہی کے دوران کسی مہربانی نے اتاری اور اب یہ کسی ویب پر ہے، جہاں سے ملک جاوید شہباز ہیرا نے لے کر ہمیں بھیجی ملک ہیرا محترمہ کی یادوں کو جمع کرنے کے لئے ایسی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس تصویر نے یادوں کے دریچے کھول دیئے۔ہم نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بے شمار سیاستدانوں کی کوریج کی ان سے تعلق بھی بنے، ملاقاتیں اور انٹرویو بھی ہوتے رہے۔مشکل وقت میں خدمت بھی کی ہم یقیناً بہت سے رہنماﺅں سے متاثر ہوئے، ان میں ذوالفقار علی بھٹو اور خود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی شامل ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں۔ابھی ابھی پیپلزپارٹی والوں نے محترمہ کی سالگرہ منائی ہے، وہ خود ہوتیں تو رنگ ہی کچھ اور ہوتا، لیکن وہ اس دنیا میں نہیں، لیکن ایسی بڑی شخصیات تو ہر دم موجود ہوتی ہیں، یہ محترمہ کی 59ویں سالگرہ بنتی ہے،حالانکہ ان کو ہم سے جدا ہوئے پانچ سال ہونے کو ہیں اور ان کی شہادت کے بعد ان کی جماعت کو ایک مرتبہ پھر اقتدار ملا،جسے اب چار سال سے زیادہ ہوگئے اور اب یہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے والی ہیں، ان گزشتہ چار سالوں میں پیپلزپارٹی نے حکومت تو ضرور کی ہے، لیکن ایسا کوئی دن نہیں گزرا،جب اس جماعت کو کسی نہ کسی بحران سے واسطہ نہ پڑا ہو، آج بھی یہ جماعت بحرانوں ہی سے نبردآزما ہے،بلاشبہ محترمہ کے صاحبزادے بلاول کو پارٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے، تاہم شریک چیئرمین کی حیثیت سے تمام تر اختیارات ان کے والد آصف علی زرداری نے استعمال کئے اور اول روز سے مفاہمت کا اعلان کرکے اسی اصول پر عمل پیرا بھی ہیں، پارٹی کے بہت بڑے طبقے کے مطابق مفاہمت کی یہ پالیسی بزدلی کی حد تک رہی اور آصف علی زرداری مسلسل بلیک میل بھی ہوتے رہے،نتیجتاً پھل کسی اور نے کھائے تو چوری کا الزام ان پر لگا اور آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے ایک وزیراعظم نااہل ہوا تو دوسرا منتخب کرانے کے لئے جو کھیل ہوتا رہا، اس سے اب سبھی قارئین واقف ہوچکے ہیں!

ایسے میں جب ہمیں یہ تصویر ملی تو فوراً ہی محترمہ شہید اور ان کی اہلیت یاد آئی، وہ بھی بہت بڑے بڑے امتحانوں سے سرخرو ہوئیں، ہمیں ایک ایسی نجی اور غیر رسمی ملاقات یاد ہے جو بہت محدود تھی اور اس میں بڑی طویل گفتگو ہوئی۔ محترمہ نے دل کھول کر رکھ دیا، ہم اس ملاقات کی دو باتیں قارئین تک پہنچاتے ہیں” محترمہ اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل سے بہت زیادہ دل برداشتہ تھیں، ان کاکہنا تھا کہ اس وقت جب ان کی بھائی سے صلح ہوگئی اور وہ ان (بے نظیر)کے گھر آنے والے تھے ان کو قتل کردیا گیا اور پھر حکومت بھی برطرف کردی گئی “....دوسرے وہ اپنے بھائیوں کے بچوں کے لئے بہت پیار رکھتی تھیں ، ان کو یہ بھی دکھ تھا کہ فاطمہ اور ذوالفقار جونیئر کو ان سے دور کردیا گیا ہے اور شاہ نواز کی صاحبزادی سسی بھی ماں کے ساتھ بھیج دی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو یہ بھی چاہتی تھیں کہ آبائی وراثت میں سے جو حصہ جس کا بنتا ہے، وہ اسے ملنا چاہیے، وہ شاہ نواز بھٹو کی صاحبزادی سسی کو بھی اس کا حق دینا چاہتی تھیں، جائیداد کی تقسیم کے لئے جو دعویٰ سندھ ہائیکورٹ میں زیر التواءہے وہ بھی محترمہ کی منشاءسے صنم بھٹو کے ذریعے دائر کیا گیا تھا،تاکہ شرع اور ملکی قوانین کے مطابق تقسیم ہو جائے۔ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور یہ فیصلہ ابھی تک نہیں ہوپایا۔

آج جو بحران اور جو حالات ہیں ان میں محترمہ کی بات بہت کی جاتی ہے ،حتیٰ کہ آج پیپلزپارٹی کے دشمن بھی ان کی تعریف کرتے ہیں، لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ محترمہ نے بھی اپنے تعلیمی دور کے بعد بلوغت میں آنے پرمسلسل جدوجہد کی۔ اپنے عظیم والد کی قید سے شہادت تک کا صدمہ برداشت کیا۔ پھر آمریت کا مقابلہ کیا ،دوبار حکومت ملی تو پھر بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہوا جو قوتیں اس وقت ان کی حکمرانی کے خلاف تھیں ، آج بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کو پسند نہیں کرتیں۔فرق اتنا ہے کہ وہ بہت بہادر اور معاملہ فہم خاتون تھیں، جن کا تاثر عالمی سطح پر بہت اچھا تھا،ان کو بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی گئی اور طرح طرح کے الزام لگائے گئے۔ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ محترمہ میں سننے کا بہت بڑا حوصلہ تھا، وہ اپنے ساتھیوں کی باتیں بہت غور سے سنتی تھیں اور اچھی تجویز مان کر بعض اوقات اپنے فیصلے بھی تبدیل کرلیا کرتی تھیں۔آج وہ ہوتیں تو یقیناً بہت فرق ہوتا،بہرحال ہم تو محترمہ کے دور والے لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں، ان میں سے اکثر گوشہ گمنامی میں چلے گئے اور جو سامنے ہیں، وہ مجبور محض نظر آتے ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ اچھا مشورہ بھی نہیں دے پاتے۔بحران موجود اور مزید آئیں گے۔ محترمہ کو یاد دلاتے رہیں گے۔

مزید : کالم