عمران خان کو ووٹروں اور ملک ریاض کو وکیل کی تلاش

عمران خان کو ووٹروں اور ملک ریاض کو وکیل کی تلاش
عمران خان کو ووٹروں اور ملک ریاض کو وکیل کی تلاش

  


عمران خان کے سندھ میں چوتھے اور حیدرآباد میں پہلے جلسے اور اور نواز شریف کے سیہون میں ایک اور جلسے کی حاضری کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سندھ میں طویل عرصے بعد متبادل سیاسی قوتیں ابھر رہی ہیں ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی گلا کاٹنے کی حد تک مخالف قوتیں سندھ سے سیاسی میدان میں کیا کچھ حاصل کرتی ہیں ، یہ تو آئندہ انتخابات میں ہی سامنے آئے گا لیکن عمران خان کے جلسے کو دیکھ کر سیاسی مبصرین دعوی کررہے ہیں کہ لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ تحریک انصاف نے جو بل بورڈ اور پوسٹر بنائے تھے اور اسٹیج پر جو بینر لگایا گیا تھا ان پر بھی لکھا ہوا تھا کہ تبدیلی ضر ورآئے گی عوام تبدیلی چاہتے ہیں ۔ اتفاق تھا کہ عمران خان اور نواز شریف جس وقت جلسے کر رہے تھی اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین پاکستان کا نیا وزیر آعظم منتخب کر رہے تھے۔ ان کے جلسوں کو دیکھ کر کہا جا سکتا تھا کہ لوگ نئے وزیراعظم کے انتخاب سے کہیں زیادہ نواز شریف اور عمران خان کے جلسوں میں دل چسپی رکھتے تھے۔ رینٹل راجہ کے انتخاب میں سندھ کے لوگوں کے ایک محدود اور مخصوص طبقے میں تو خوشی پائی جاتی تھی لیکن عمومی طور پر لوگوں نے نئے وزیر آعظم کے انتخاب میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ لوگوں کی عدم دلچسپی بھی یہ ہی بتا رہی تھی کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں ۔ پاکستان کے حالات گزشتہ سالوں میں جس نہج پر پہنچ گئے ہیں وہاں اس بات کی گنجائش ختم ہوتی نظر آتی ہے کہ لوگ اب تبدیلی سے کم کسی سودے پر راضی ہو سکیں گے۔

عمران خان کے جلسے میں موجود مختلف زبانیں بولنے والے نوجوانوں کی دلچسپی اور ان کا جلسے میں انہماک کے ساتھ موجود رہنا اگر کسی بات کی نشان دہی کرتا ہے تو دوسری اہم ترین بات یہ نظر آتی تھی کہ حیدرآباد میں طویل عرصے کے بعد مختلف زبان بولنے والے لوگ کسی ایک میدان میں اکٹھے ہوئے تھے۔ ان کی توجہ کا محور صرف جلسہ تھا اور عمران خان تھے۔ عمران خان بھٹو مرحوم کی طرح نہیں بولتے۔ بھٹو مرحوم لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دینے کی مہارت رکھتے تھے۔ ان کی اس مہارت پر ان کے مخالف انہیں مداری گردانتے تھے لیکن وہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گفتگو کیا کرتے تھے۔ عمران خان کسی اداکاری کے بغیر اپنا مدعا آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور لوگ انہماک کے ساتھ سنتے ہیں ۔ لوگوں کا انہماک اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ تقریر کرنے والا شخص ان کی بات ہی کر رہا ہے۔

بھٹو مرحوم کو حاصل ہونے والی پزیرائی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد سے ایوب حکومت کے خاتمے تک لوگوں کوبراہ راست اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ ایک فرد ایک ووٹ کا حق ایک نسل گزرنے کے بعد دوسری نسل کو مل رہا تھا اس لئے بھی لوگ اپنی گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے تھے اور پھر انہوں نے اپنی جو رائے دی اسے دنیا نے دیکھا کہ عوام نے بڑے بڑے بت ایک جھٹکے میں ڈھیر کر دئے ۔ پنجابی محاورے میں کمی کمین اور سندھ میں ہاری ناری نے وہ تبدیلی لا دکھائی جسے انگریز مختلف حیلے بہانے روکنے کے جتن کیا کرتا تھا۔ انگریز حکمرانی تو برصضیر میں کر رہا تھا لیکن جمہوریت پر عمل اپنے ملک میں کیا کرتا تھا۔ اسے خطرہ رہتا تھا کہ اگر بر صضیر میں بھی گوری جمہوریت پر عمل کیا گیا تو کہیں عوام اکھاڑ نہ پھینکیں ۔اسی لئے بر صضیرکو طویل عرصے تک براہ راست جمہوریت سے دور رکھا گیا ۔

 لوگوں کے دلوں میں اترنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ لوگ آپ کی بات توجہ سے سنیں ۔ عمراں خان کے جلسے میں وہ توجہ محسوس کی جاسکتی تھی۔ پھر یہ جلسہ فیملی جلسہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پورا گھرانہ موجود نظر آیا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھاری تعداد میں موجودگی یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ مڈل کلاس کے تعلیم یافتہ لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ انہیں نعروں ، شعبدے بازی یا کسی کرتب سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ کرپشن سے پاک پاکستان میں عزت، وقار، تحفظ، انصاف اور آزادی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی موجود تھے جو وسائل سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ سہولتوں خصوصا تعلیم کی سہولت سے کسی نہ کسی وجہ سے محروم رہ گئے اور ان کا شمار محنت کش طبقے میں ہوا۔ بہر حال طویل عرصے بعد جلسے کے شرکاءیہ پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان میں ان تبدیلی نا گزیر ہے۔ اگر ا نہیں یہ پیغام دینا مقصود نہ ہوتا تو مائیں اپنی بیٹیوں کو اس جلسے میں نہ لاتیں۔ بھائی اپنی بہن کے ساتھ جلسے میں نہیں آئے ہوتے۔ والد اور بیٹا ایک ساتھ نہ ہوتے۔ والد اور بیٹی بھی موجود تھے۔ یہ سماں اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان لوگوں کو تحریک انصاف کا نعرہ ہم ملک بچانے نکلے ہیں ، ہمارے ساتھ چلو ، کھینچ کر لایا ۔ یہ لوگ عمران خان کو اپنے گھر میں موجود ٹیلی وژن پر بھی دیکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے جلسے میں آنا ضروری سمجھا وہ بھی سال کے سب سے زیادہ گرم دن میں۔ لوگوں کی یہ دلچسپی غمازی کرتی ہے کہ تبدیلی ضروری ہے اور ملک کو بچانا ہے۔ تبدیلی کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہو تی ہے۔ تبدیلی کے لئے قبلہ درست کیا جاتا ہے، صفیں سیدھی کی جاتی ہیں ، منزل کا درست تعین کیا جاتا ہے، اور سفر کے لئے درست راستے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اگر یہ سارے عوامل اپنے اپنے وقت پر کام کر جائیں تو تبدیلی کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور تبدیلی آکر ہی دم لیتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں ابھی بھی انتخابات کی حکمت کے حوالے سے کئی خامیاں اور کو تاہیاں پائی جاتی ہیں ۔ پارٹی نے ابھی تک ایسا کوئی مکینزم تیار نہیں کیا ہے کہ وسائل سے محروم لوگوں کو انتخابات میں امیدوار نامزد کرے گی۔ اگر پیسے والے لوگ ہی امیدوار نامزد ہوں گے تو تبدیل کی توقع عبث ہوگی۔

پاکستان میں پیسہ رکھنے والے لوگوں کی اکثریت عجیب رعونت میں ڈوبے رہتی ہے ۔ان کے ذہن میں یہ گھمنڈ گردش کرتا رہتا ہے کہ ان کے پاس پیسہ ہے اور پیسہ سب سے بڑا گرو ہے۔ اگر پیسا گرو ہوتا تو بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض صاحب عدالت سے یہ گلہ نہیں کرتے کہ انہیں پاکستان جیسے ملک میں وکیل نہیں مل پارہا ہے اس لئے انہیں مزید وقت دیا جائے تاکہ وہ وکیل کر سکیں ۔وقت کی اپنی گردش ہے۔ اس گردش دوران میں کبھی کوئی اوپر اور کبھی کوئی نیچے ہوتا جاتا ہے ۔ وقت کی عجیب کہانی ہے ۔ جن کے پاس پیسے ہیں وہ تو سمجھتے ہی ہیں کہ تھم گیا ہے اب تبدیل نہیں ہوگا اور پیسوں سے محروم لوگ بھی وقت سے ہی شاکی رہتے ہیں کہ گزرتا ہی نہیں ہے۔ لیکن یہ دونوں طبقے تاریخ کی دیوار پر سجی تصاویر نہیں دیکھتے کہ وقت کیسے کیسوں کو ڈھیر کر دیتا ہے۔ کل کے محروم آ ج کے مالک ٹھہر جاتے ہیں اور کل کے مالک آج کے محروم قرار پاتے ہیں۔پیسوں سے بھرے ٹرک اور ٹرالر رکھنے والے ملک ریاض وکیل تلاش کررہے ہیں اور وکیل حضرات ہیں کہ انہیں اپنی خدمات بعوض معاوضہ بھی دینے پر رضا مند نہیں ہیں ۔ پاکستان میں تووکیلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ملک ریاض نے بھی شکایت کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو وکیل مل سکتا ہے لیکن انہیں نہیں مل رہا ہے۔ ایک مقدمے میں ان کے وکیل زاہد بخاری ہیں لیکن اپنے ہی موئکل کا دوسرا مقدمہ لڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ بحریہ ٹاﺅن کے بعض مقدمات اعتزاز احسن نے بھی نمٹائے ہیں لیکن آ ج وہ بھی ملک ریاض کی وکالت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔

پاکستان میں تو اپنے اپنے دور میںقابل اور ماہر وکلاءکی کوئی کمی نہیں رہی ہے۔ اگر ماضی میں اے کے بروہی مرحوم ایک ہی مقدمے کے دونوں پہلوﺅں کی وکالت کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔ آج سید شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ،خالد رانجھا، زاہد بخاری، اعتزاز احسن، بابر اعوان، عرفان قادر وغیرہ وغیرہ اپنی اپنی خدمات پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے لیکن ملک ریاض کی وکالت پر آمادہ نہیں ہیں ۔ یہ ملک ریاض کا مقدمہ ہے، بھٹو مرحوم کا تو نہیں ۔ جب بھٹو مرحوم اپنے خلاف قائم قتل کے مقدمے میں وکیل تلاش کر رہے تھے تو اس وقت کے بڑے فوجداری کے وکیل حیات جونیجو مرحوم سے رابطہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے فائل پڑھنے کے بعد واپس کر دی تھی اور معذرت کر لی تھی۔ حیات جونیجو مشہور تھے کہ وہ کوئی گتھی سلجھا کر اپنے مو¿کل کو سزائے موت سے بچالیا کرتے تھے۔ آج بھی لوگوںکا ایک گروہ یقین رکھتا ہے کہ جنرل ضیاءمرحوم کے کسی رفیق نے حیات جونیجو مرحوم کو با ز رکھا تھا۔

 بھٹو مرحوم کے معاملے میں توممکن ہے کہ اس وقت کی حکومت رکاوٹ ہو لیکن ملک ریاض تو آ ج کی حکومت کے مخالف بھی نہیں ہیں تو پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس وجہ کو تلاش کرنا پیسے والوں کی ذمہ داری ہے۔ پیسوں سے لدے ٹرک رکھنے کے باوجود بھی انسان وقت کی چال اور جال کا شکار ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی تو دانے دانے سے محتاج ہوجاتا ہے۔ اقتدار اور اختیار تو الگ بات ہے۔لوگوں کو کیوں نہیں نظر نہیں آتا کہ مصر کا مبارک اور لیبیا کا قدافی تاریخ کے کچرہ گھر میں کس عبرتناک حال میں پڑے ہیں ۔ پاکستان میں ایسی کسی بھی صورت حال سے محفوظ رہنے کے کئی طریقوں میں سے ایک عمدہ اور قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ کرپشن سے پاک معاشرے میں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ عزت، وقار، تحفظ، انصاف اور آزادی سے زندہ رہنے دیا جائے ۔ لوگ ایسی تبدیل کے خواہاں ہیں اور اسی لئے آج عمران خان پر ان کی نظریں مرکوز ہیں ۔ اسی لئے لوگ رینٹل راجہ کو رد کرتے ہیں ۔گیلانی کی بے توقیر واپسی کا انہیں کوئی رنج نہیں ہوا۔ اگر پاکستان کو تبدیلی سے اب بھی روکا گیا تو بہت سارے لوگوں کو بھی ملک ریاض کی طرح وکیل نہیں مل سکیں گے اور زاہد بخاری، اعتزاز احسن ، عرفان قادر ، سید شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ، خالد رانجھایا بابر اعوان اپنے اپنے دامن بچانے کی کوشش میں مصروف ہوں گے۔ کبریائی صرف اللہ رب العزت کی ہے ، باقی سب پل دو پل کے محتاج پانی کے بلبلے۔  ٭

   

مزید : کالم