بات تو سچ ہے مگر....

بات تو سچ ہے مگر....
بات تو سچ ہے مگر....

  

مَیں نے پاکستان میں بہت سی ایسی خواتین دیکھی ہیں، جن کی اصل صورت تو اچھی خاصی ہوتی ہے، لیکن انہوں نے انتہائی بے ہودہ میک اپ اور فیشن کر کے اپنا حلیہ بگاڑ رکھا ہوتا ہے، حالانکہ اگر اُن کا منہ دھلوایا جائے تو اُس سے کہیں زیادہ بہتر شکل نکل آئے گی جو انہو ں نے سرخی پاﺅڈر کے مکسچر کا لیپ کرکے بنارکھی ہوتی ہے۔ آج کل ہمارے پیارے وطن کے کراچی اور لاہور سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں کا کچھ ایسا ہی حال ہوا ہے، جن کی اصل شکل تو بہت خوبصورت ہے، لیکن بڑی سے بڑی شارع سے لے کر گلی محلوں میں لگے ہوئے اشتہاری پوسٹر، دیوقامت فلیکسوں، بینروں اور وال چاکنگ نے اس کے حسن کو گہنا دیا ہے، جبکہ رہی سہی کسر ناجائز تجاوزات نے پوری کر دی ہے۔ اشتہار بازی کے ان ذرائع کے ذریعے کہیں تو محبوب کو چند سیکنڈ میں قدموں میں لانے اور ”شریک“ کو انتہائی مناسب معاوضے میں ٹھکانے لگانے کی سہولت کا پُرمسرت اعلان کیا جا رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی حکیم صاحب اپنے قیمتی نادر خاندانی نسخوں اور کشتوں کی بدولت معدے، جگر کی گرمی دُور کرنے اور 80سال کے بوڑھوں کو 20سال کا نوجوان بنانے کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں۔ کہیں بچوں کو معیاری تعلیم سستے داموں فراہم کرنے کے بینر آویزاں ہیں تو کہیں خود پولیس نے بینر لٹکا رکھا ہے کہ ”کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے“ جس کے معنی کم از کم میری سمجھ میں تو یہی آتے ہیں کہ جو بھی کارروائی کرنی ہے، ذرا محتاط ہوکر کرو۔

ماہ مئی میں ہونے والے قومی انتخابات میں تو حد ہو گئی، کیونکہ اشتہار بازی میں پاکستان کا اصل چہرہ کہیں گم ہی ہوگیا اور یہ بینروں اور ہورڈنگز کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ 2008ءکے بعد جن سیاست دانوں نے عوام کو اپنی شکلیں تک دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کی، انہوں ”آپ کا خادم اور بے لوث قیادت“ ہونے کے گھسے پٹے دعوﺅں پر مشتمل اشتہار بازی کے لئے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیئے، جبکہ اُن کے ورکروں نے اس بات کا بطور خاص اہتمام رکھا کہ مبادا کہیں کوئی اس خوشخبری سے محروم نہ رہ جائے، چنانچہ لوگوں کے گھروں کے دروازوں اور باہر کھڑی گاڑیوں پر بھی اشتہاری سٹیکر بلاتکلف چپکا دیئے گئے، حالانکہ یہ عمل اخلاقیات کے بالکل منافی ہے۔ خود مَیں الیکشن سے چند روز قبل صبح گھر سے باہر نکلا تو محلے کے تمام گھروں پر اشتہارات کا باقاعدہ پلستر نظر آیا، جس میں اس امر کو خاص طور پر مدّنظر رکھا گیا تھا کہ کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہ ہو، جیسا کہ پچھلے پانچ سال کے دوران حکومت پنجاب کے ساتھ بجلی اور گیس کی سپلائی کے سلسلے میں کرتی رہی ہے اور سب یکساں طور پر اشتہار بازی سے محظوظ ہوں۔

 ملاوٹ اور جعلسازی کے اس دور میں انتہائی خالص لئی کے ساتھ یہ پوسٹر اس قدر مضبوطی کے ساتھ چپکائے گئے کہ آج تک مکانوں اور گاڑیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں، حالانکہ جیتنے اور ہارنے والے ایک مرتبہ پھر اگلے انتخابات تک کے لئے عوام کے لئے نامحرم بن چکے ہیں۔ مَیں دُنیا کے درجنوں ممالک میں گیا ہوں، لیکن کسی جگہ اشتہار بازی کا ایسا طوفان بدتمیزی نہیں دیکھا، جیسا ہمارے ملک میں ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ہوتا ہو گا، لیکن بالخصوص کراچی اور لاہور بالترتیب پہلے اور دوسرے بڑے شہر اور صنعتی، تجارتی و معاشی حوالے سے بہت اہم مقام کا حامل ہیں۔ ایکسپورٹ سیکٹر کا ایک بہت بڑا حصہ ان شہروں میں واقع ہے، جس کی وجہ سے غیرملکی خریداروں کا یہاں آنا جانا لگا رہتا ہے، جبکہ مقبول سیاحتی مقامات ہونے کی وجہ سے دُنیا بھر کے غیرملکی سیاح بھی یہاں آتے ہیں، لیکن ان خوبصورت شہروں کا خوبصورت چہرہ اشتہاروں کے بدنما مکسچر تلے چھپا ہونے کی وجہ سے یقینا وہ کوئی اچھا تاثر لے کر نہیں جاتے ہوں گے، کیونکہ اُن کے ممالک میں یہ سب کچھ اخلاقیات کے منافی اور ہمارے ہاں معمول بن چکا ہے۔

 اسی طرح شہر بھر میں تجاوزات بھی وبالِ جان بنی ہوئی ہیں اور نہ صرف عوام کے لئے سخت کوفت کا باعث ہیں، بلکہ ٹریفک جام کا ایک بہت بڑا سبب بھی ہیں۔ قومی اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی کرکے اشتہار بازی کو دائرہ قانون میں لایا جائے اور دیواروں پر چپکانے والے اشتہاروں اور وال چاکنگ پر فوری طور پر پابندی عائد کردی جائے، کیونکہ یہ شہر کی بدنمائی اور شہریوں کے لئے کوفت کا باعث ہیں۔ اس کے باوجود اگر اشتہار دیوارں پر چپکائے یا وال چاکنگ کی جائے تو اُس شخص یا کمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اور بھاری جرمانہ عائد کیا جائے، جس کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ شہر میں صرف بینر لگانے کی اجازت ہونی چاہئے اور وہ بھی ایک مخصوص وقت تک ۔ اشتہارکنندہ کو پابند کیا جائے کہ وہ خود مقررہ مدت کے بعد وہ بینر اُتار دے، بصورت دیگر اُسے بھی جرمانہ عائد کر دیا جائے، جس سے ایک تو شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گا ، دوسرا صوبائی حکومت کے محاصل بڑھیں گے۔

اگرچہ ہمارے دیرینہ دوست وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف صوبہ پنجاب میں صنعتی، تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھارہے ہیں، انہیں لاہور کا اصلی چہرہ بحال کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئے جو اُن کی اُن کاوشوں کا ایک حصہ ہوگا جو وہ پنجاب میں غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور لاہور کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لئے کر رہے ہیں۔ ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ماضی میں بہت مستحسن اقدامات اُٹھائے تھے، لیکن اب صورت حال پھر جوں کی توں ہے، لہٰذا ان کے خلاف سخت ایکشن بہت ضروری ہوگیا ہے۔ ناجائز تجاوزات خواہ تھڑوں کی صورت میں ہوں، ریڑھیوں یا پھر دکانوں کا سامان باہر رکھنے کی صورت میں، سب کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ایک بہت بڑا مسئلہ شہر کی مارکیٹوں و مختلف مقامات پر لگے ہوئے دیو قامت ہورڈنگز اور موبائل ٹاورز کا ہے، جن کی وجہ سے بہت سے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر چند سال قبل لاہور کے علاقہ سمن آباد میں شدید آندھی کے دوران ایک عمارت پر لگا ہوا موبائل ٹاور نیچے آن گرا، جس کی وجہ سے تین نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ گنگارام کے سامنے ایک عمارت پر حفاظتی تدابیر کے بالکل بغیر جہازی سائز اشتہاری بورڈ لگا تھا جو آندھی کی وجہ سے نیچے گر گیا اور ایک غریب رکشہ ڈرائیور اس کے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔ ایک طوفانِ بادوباراں کے دوران لاہور کی عابد مارکیٹ میں ایسے ہی ایک جہازی سائز بورڈ کے گرنے کا تو مَیں خود چشم دید گواہ ہوں، جس کی وجہ سے اگرچہ کسی کی جان تو نہیں گئی، البتہ نیچے کھڑی ہوئی کئی گاڑیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔ مہذب معاشروں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا، لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ان معاملات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کریں اور جہاں تک ممکن ہو، ہمیں خود بھی اپنی اصلاح کرکے ایک مہذب قوم ہونے کا ثبوت دینا چاہئے۔ ٭

مزید : کالم